مصنفہ: تحریم مبین
کبھی غور کیا ہے کہ اللہ جب برسات برساتا ہے تو صرف پانی نہیں برساتا، وہ اپنے بندے کو یقین بھی یاد دلاتا ہے۔ یہ بارش ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ حالات کتنے سخت ہیں، یہ تو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رب کتنا طاقت ور ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بارش سے مسائل بڑھ جاتے ہیں مگر اہلِ یقین جانتے ہیں کہ مسائل بارش سے نہیں رب سے دوری سے بڑھتے ہیں۔ بارش آسمان سے آتی ہے اور یقین بھی وہیں سے آتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ بارش ہر آنکھ دیکھ لیتی ہے اور یقین ہر دل نہیں۔ جب زمین پیاسی ہوتی ہے تو اللہ بادل بھیج دیتا ہے اور جب دل پیاسا ہو تو وہ سجدہ بھیج دیتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو رب سوکھی زمین کو زندہ کر دے وہ تمہارے مردہ حوصلوں کو زندہ نہ کر سکے۔ وضو کا ایک قطرہ صرف چہرہ نہیں دھوتا وہ دل پر جمی مایوسی بھی بہا لے جاتا ہے اور سجدے میں گرا ہوا آنسو کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اللہ ہمیں آزمائش دے کر یہ نہیں دیکھتا کہ ہم ٹوٹے یا نہیں وہ دیکھتا ہے کہ ہم نے کس پر بھروسا کیا۔ آج اگر راستے بھاری ہیں تو یاد رکھو اللہ کبھی بندے کو وہاں نہیں لاتا جہاں اس کا ہاتھ چھوڑ دے۔ وہ رب جو بادلوں کو حکم دیتا ہے کہ برس جاؤ، وہی رب حالات کو بھی حکم دے سکتا ہے کہ ٹھہر جاؤ۔ بس شرط ایک ہے کہ شکوہ کم اور یقین زیادہ کیوں کہ یقین وہ دعا ہے جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی اور اللہ وہ رب ہے جو بغیر مانگے بھی عطا کر دیتا ہے۔
یقین رکھو! اللہ تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا، وہ بس چاہتا ہے کہ تم اس پر پورا بھروسا کرو۔
