گڈ گورننس ،ترقی،اور بدقسمت پاکستان

اچھی حکمرانی اور ترقی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں کیونکہ کسی بھی ریاست کی سیاسی استحکام معاشی خوشحالی اور سماجی بہتری کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ حکمرانی کے اصول کس حد تک شفاف منصفانہ اور مؤثر ہیں حکمرانی سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے تحت ریاست اپنے سیاسی انتظامی اور معاشی معاملات چلاتی ہے جبکہ ترقی صرف معاشی نمو تک محدود نہیں بلکہ اس میں انسانی ترقی غربت کا خاتمہ تعلیم صحت اور بنیادی سہولیات تک رسائی بھی شامل ہوتی ہے پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو اچھی حکمرانی کا فقدان ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آتا ہے قیام پاکستان کے بعد سے ملک کو سیاسی عدم استحکام کمزور اداروں اور پالیسیوں کے تسلسل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے جس کے باعث طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بندی ممکن نہ ہو سکی بار بار حکومتوں کی تبدیلی نے ریاستی سمت کو غیر یقینی بنا دیا اور ہر نئی حکومت نے پچھلی پالیسیوں کو ترک کر کے نئے دعوے کیے جس سے قومی وسائل کا ضیاع ہوا اور عوام میں مایوسی بڑھی اچھی حکمرانی کا بنیادی تقاضا پالیسیوں کا تسلسل اور اداروں کا مضبوط ہونا ہے جو پاکستان میں اب تک ایک بڑا چیلنج رہا ہے بدعنوانی پاکستان میں ناقص حکمرانی کی ایک نمایاں علامت ہے جو نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ ترقیاتی فنڈز کو بھی نقصان پہنچاتی ہے تعلیم صحت اور انفراسٹرکچر کے لیے مختص وسائل جب کرپشن کی نذر ہو جائیں تو اس کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے قانون کی حکمرانی بھی اچھی حکمرانی کا اہم ستون ہے مگر پاکستان میں انصاف کا نظام سست روی اور عدم مساوی احتساب کا شکار ہے طاقتور افراد قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں جبکہ عام شہری انصاف کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر لگاتا ہے جب قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو تو ریاست پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول بھی متاثر ہوتا ہے کیونکہ معاشی ترقی کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد قانونی نظام ناگزیر ہے پاکستان کی موجودہ صورتحال میں صرف سیاسی قیادت کو ہی ناقص حکمرانی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کا اثرورسوخ بھی اتنا ہی گہرا اور مؤثر رہا ہے جتنا سیاستدانوں کا ماضی میں براہ راست فوجی حکومتوں اور حالیہ برسوں میں بالواسطہ سیاسی کردار نے جمہوری عمل کو کمزور کیا پالیسی سازی میں غیر منتخب قوتوں کی مداخلت نے ادارہ جاتی توازن کو بگاڑا اور منتخب حکومتوں کو مکمل اختیار کے بغیر ذمہ دار بنا دیا اس صورتحال میں نہ تو سیاستدان پوری طرح آزادانہ فیصلے کر سکے اور نہ ہی عوامی مفادات کو ترجیح دی جا سکی جس کا نقصان براہ راست قومی ترقی کو پہنچا انتظامی نااہلی بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے ایک بھاری بھرکم بیوروکریسی پرانے طریقہ کار اور میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں ریاستی کارکردگی کو کمزور بناتی ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کا مقصد حکمرانی کو بہتر بنانا تھا مگر کمزور بلدیاتی نظام اور صلاحیت کی کمی کے باعث اس کے مطلوبہ نتائج سامنے نہ آ سکے معاشی میدان میں پاکستان کو بار بار بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کرنا پڑا جس کی ایک بڑی وجہ ناقص مالی حکمرانی ہے محدود ٹیکس نیٹ اور اشرافیہ کو حاصل مراعات نے ریاستی آمدن کو کمزور رکھا اور ٹیکس کا بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر ڈال دیا گیا جو سماجی ناانصافی کی واضح مثال ہے سماجی ترقی کے اشاریے بھی حکمرانی کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں سرکاری اسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور دیہی علاقوں میں صاف پانی اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے یہ مسائل وسائل کی کمی سے زیادہ ناقص منصوبہ بندی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہیں تاہم پاکستان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ڈیجیٹلائزیشن ای گورننس اور بعض شعبوں میں شفافیت کے اقدامات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت اور عمل درست ہو تو تبدیلی ممکن ہے میڈیا سول سوسائٹی اور باشعور نوجوان طبقہ بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں دونوں سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہا ہے جو ایک مثبت علامت ہے پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اچھی حکمرانی کو قومی ترجیح بنایا جائے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا جائے عسکری اور سیاسی حدود کا واضح تعین کیا جائے قانون کی بالادستی قائم کی جائے بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے اور انسانی ترقی میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی جائے ترقی صرف اعدادوشمار یا قرضوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک ایسا نظام درکار ہوتا ہے جو شفاف منصفانہ اور عوام دوست ہو آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان کے بیشتر ترقیاتی مسائل کی جڑ ناقص حکمرانی میں ہے جس میں سیاستدانوں اور عسکری اسٹیبلشمنٹ دونوں کا کردار برابر کا رہا ہے اگر حکمرانی بہتر ہو جائے اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو پاکستان اپنی بے پناہ انسانی اور قدرتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک مضبوط مستحکم اور خوشحال ریاست بن سکتا ہے

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow