از قلم: نوازش علی گوندل
ہم اتنے آرام پسند ہیں کہ ہم سال کے آغاز ہی میں سال بھر کی سرکاری تعطیلات کی فہرست دیکھ لیتے ہیں کہ کن دنوں میں چھٹی آئے گی، کہاں سیر و تفریح کا موقع ملے گا۔ ان تعطیلات میں بعض ایام ایسی عظیم شخصیات کے یومِ پیدائش یا یادگار دن ہوتے ہیں جن کے افکار اور اصولوں کو ہم نے اپنانا تو درکنار، ان دنوں کو محض آرام، نیند یا تفریح کی نذر کر دیتے ہیں۔
دسمبر چونکہ سال کا آخری ایسا مہینہ ہوتا ہے کہ سردی، نئے سال کی تقریبات اور تفریحی پروگراموں میں قائد کے افکار اور طرزِ حیات کہیں پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کے احساسات امجد اسلام امجد کی زبان میں کچھ یوں ہوتے ہیں:
وہ آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
پچیس دسمبر (یوم پیدائش محمد علی جناح رح) بھی محض ایک سرکاری تعطیل نہیں بلکہ اس عہد کی یاد دہانی ہے جو قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے برصغیر کے مسلمانوں سے کیا تھا۔ پاکستان کا قیام کوئی اچانک سیاسی مطالبہ نہیں تھا بلکہ ایمان، اتحاد اور تنظیم پر مبنی ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ بدقسمتی سے آج یہ تینوں اصول ہماری عملی زندگیوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔
قائدِ اعظم کے نزدیک محنت، ایمانداری، اصول پسندی اور نظم و ضبط بنیادی اقدار تھیں، مگر ہم شارٹ کٹ، دکھاوے اور پروٹوکول کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ حیات قائد سے مختلف ایسے تذکرے ملتے ہیں جن میں ہمارے لئے سبق ہے۔ ایک مرتبہ ریلوے پلیٹ فارم ٹکٹ نہ ہونے پر قائد کو ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا، مگر انہوں نے اپنا عہدہ استعمال کرنے کے بجائے خود جا کر ٹکٹ خریدا۔ یہ واقعہ ہمیں قانون کی پاسداری کا سبق دیتا ہے۔
قائد کی دیانت داری کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین نے بھی کیا۔ آج کا نوجوان راتوں رات کامیابی چاہتا ہے، مگر اس محنت سے گھبراتا ہے جو قائد کی زندگی کا خاصہ تھی۔ دولت کمانا بری بات نہیں، لیکن اس کے ساتھ ایمانداری، محنت اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ہونا بھی ضروری ہے۔
زیارت ریزیڈنسی میں قیام کے دوران قائد نے اپنی آسائش پر قوم کا پیسہ خرچ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سادگی اور امانت داری آج بھی ہمارے لیے ایک اعلیٰ مثال ہے۔ قائدِ اعظم چاہتے تھے کہ نوجوان جذباتی نعروں کے بجائے تعلیم اور شعور سے خود کو مضبوط بنائیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائد کے افکار کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھیں اور ان کے یوم پیدائش کی چھٹی والے دن سینما گھروں میں جا کر ‘نیلوفر’ دیکھنے کی بجائے کم از کم ان کی زندگی پہ لکھی ہوئی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور خریدیں اور مطالعہ کریں۔ اور اپنی عملی زندگی میں محنت، نظم و ضبط اور دیانت کو اپنائیں، تاکہ ہم ایک بہتر اور باوقار معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
