افسانہ نگار:- ذوالفقار ہمدم اعوان
شہر کے نقشے میں یہ بستی موجود نہیں تھی۔ سرکاری کاغذوں میں اسے کبھی ایک عارضی ٹھکانہ کہا گیا، کبھی تجاوزات، اور کبھی محض ایک خاموشی جسے نظرانداز کرنا آسان تھا۔ مگر اسی خاموشی میں زندگی سانس لیتی تھی، بھوک کے ساتھ، امید کے سہارے۔
صبح کا اجالا جب یہاں پہنچتا تو وہ سفید نہیں ہوتا تھا۔ وہ گرد آلود ہوتا، دھواں سا، جیسے دن خود بھی ہچکچاتا ہو کہ اس بستی میں داخل ہو یا نہیں۔ نایاب اسی اجالے میں آنکھ کھولتی تھی۔ وہ بارہ برس کی تھی مگر عمر اس کے چہرے پر ٹھہرنے سے پہلے ہی تھک چکی تھی۔ اس کے پیٹ میں ایک مانوس خالی پن تھا، ایسا خالی پن جو درد نہیں دیتا تھا، صرف یاد دلاتا تھا کہ آج بھی روٹی کا سوال حل طلب ہے۔
نایاب کی ماں، زرینہ، صبح سویرے اٹھ کر پانی گرم کرتی، اگر لکڑیاں میسر ہوتیں۔ اکثر وہ پانی کو دیکھتی رہتی، جیسے اس سے باتیں کر رہی ہو۔ باپ، ہاشم، کئی برس پہلے شہر میں مزدوری کرنے گیا تھا۔ اور ایک امیر زادے کی پراڈو تلے کچلا گیا تھا کوئی کیس کوئی کاروائی نہ ہوئی تھی کیونکہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا کیونکہ 3ریب گاڑی تلے کچلا جائے تو یہ موت اس کا مقدر ہوتی ہے ایسے ہی ہاشم کی موت لکھی تھی۔ اور اس کے بعد گھر میں اس کی آواز صرف ایک تصویر میں رہ گئی۔ تصویر بھی اب دھندلی ہو چکی تھی، مگر اس کی کمی واضح تھی، ہر خالی پلیٹ میں۔
نایاب اسکول جاتی تھی، مگر اسکول اسے ہمیشہ قبول نہیں کرتا تھا۔ کبھی فیس، کبھی کتابیں، کبھی جوتے۔ اس دن وہ اسکول کے دروازے پر رکی رہی۔ اندر بچوں کی آوازیں تھیں، باہر اس کے پیٹ کی۔ وہ واپس مڑی تو اس نے دیکھا کہ محلے کی سب سے تنگ گلی کے نکڑ پر ایک نیا چہرہ کھڑا ہے۔
اس کا نام ایان تھا۔ وہ کسی فلاحی ادارے سے وابستہ تھا، یا شاید کسی وعدے سے۔ اس کے ہاتھ میں ایک رجسٹر تھا اور آنکھوں میں ایک ایسی سنجیدگی جو اکثر ان لوگوں میں ہوتی ہے جو مدد کو منصوبہ سمجھتے ہیں۔ وہ بستی میں آیا تھا، اعداد جمع کرنے، ضرورتیں ناپنے، تصویریں کھینچنےاور آس دلانے ۔زرینہ نے دروازہ کھولا تو ایان نے رسمی سوالات کیے۔ کتنے افراد؟ آمدن؟ کھانے کا انتظام؟ زرینہ نے جواب دیے، مگر اس کی آواز میں کوئی التجا نہیں تھی۔ وہ صرف حقیقت بیان کر رہی تھی، جیسے حقیقت خود کافی ہو۔
“آج کچھ کھایا؟” ایان نے نایاب سے پوچھا۔
نایاب نے سر ہلا دیا۔ یہ ہاں بھی تھی اور نہیں بھی۔
اس دن ایان نے پہلی بار سمجھا کہ بھوک کا مطلب صرف خالی پیٹ نہیں، بلکہ فیصلہ سازی کا بوجھ ہے۔ کہ کس کو کھلایا جائے، کس کو انتظار کرایا جائے، اور کس دن کو قربان کیا جائے۔
کچھ ہی دنوں میں بستی میں ایک کمیونٹی کچن قائم ہوا۔ دیگیں لگیں، قطاریں بنیں۔ لوگ شکر گزار تھے، مگر خاموش۔ نایاب قطار میں کھڑی ہوتی تو اس کے ذہن میں ایک عجیب سوال ابھرتا، کیا یہ روٹی کل بھی ہوگی؟
ایک شام بارش ہوئی۔ پانی نے کچی دیواروں کو کمزور کر دیا۔ ایک گھر گرا۔ کوئی مرا نہیں، مگر سب کچھ ٹوٹ گیا۔ اسی رات زرینہ نے اپنی آخری جمع پونجی نکالی اور پڑوس کی عورت کو دے دی، جس کا گھر گرا تھا۔ نایاب نے ماں کی طرف دیکھا۔
“ہم کل کیا کھائیں گے؟” اس نے پوچھا۔
زرینہ نے کہا، “یہی سوال اگر ہم سب ایک ساتھ پوچھیں تو شاید کل بدل جائے۔”
ایان نے یہ منظر دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا، مگر اس نے تصویر نہیں کھینچی۔ اس رات اس نے اپنی رپورٹ پھاڑ دی۔ اعداد جھوٹے نہیں تھے، مگر نامکمل تھے۔ ان میں زرینہ کا فیصلہ شامل نہیں تھا، نایاب کی آنکھیں شامل نہیں تھیں۔
اس نے اگلے دن ایک اجلاس میں کہا، “ہم صرف کھانا نہیں بانٹ رہے، ہم وقت خرید رہے ہیں۔ اگر نظام نہ بدلا تو یہ وقت ختم ہو جائے گا۔”
کچھ لوگوں نے تالیاں بجائیں، کچھ نے فائلیں بند کر دیں۔
مہینے گزرے۔ کچن بند ہو گیا، فنڈ ختم ہو گئے۔ بستی ویسی ہی رہی۔ مگر کچھ بدلا تھا۔ لوگوں نے ایک اصول بنا لیا تھا: آخری روٹی کا قانون۔
جب گھر میں صرف ایک روٹی ہوتی، تو وہ اس کے پاس جاتی جو سب سے کمزور ہوتا۔ کبھی وہ بچہ ہوتا، کبھی بیمار، کبھی پڑوسی۔ کسی دن نایاب کے گھر وہ روٹی نہیں آتی تھی، مگر نایاب نے سیکھ لیا تھا کہ بھوک صرف جسم میں نہیں رہتی، وہ ضمیر میں بھی جاگتی ہے۔
ایک سال بعد، شہر میں قحط کی خبر پھیلی۔ اخبارات بھر گئے۔ اسی بستی سے ایک خط شائع ہوا۔ اس میں کوئی شکوہ نہیں تھا، کوئی تصویر نہیں تھی۔ صرف ایک جملہ تھا:
“ہم نے سیکھ لیا ہے کہ انسان کو بچانے کے لیے انسان ہی کافی ہوتا ہے۔”
ایان نے وہ خط پڑھا۔ اس نے نایاب کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر بستی اب نقشے میں شامل ہو چکی تھی۔
نایاب اب بڑی ہو رہی تھی۔ وہ اسکول جاتی تھی، روٹی کے بغیر بھی، مگر آخری روٹی کے قانون کے ساتھ۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہو جاتی ، بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں دنیا سے سوال کیا جاتا ہے؟ اگر آخری روٹی تمہارے ہاتھ میں ہو، تو تم کس کو دو گے؟
یومِ انسانی یکجہتی اسی سوال کا دوسرا نام ہے۔
Latest Posts
