از قلم :ذیشان افضل
یہ دور بچوں کا نہیں موبائل کا دور ہے۔ بچے تو بس اس کے مستقل صارف ہیں۔ جیسے ہی گھر میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب موبائل بند، پڑھائی کا وقت ہے تو فضا میں ایک عجب خاموشی چھا جاتی ہے۔ بچے ایک دوسرے کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے کسی نے ان کی آزادی پر حملہ کر دیا ہو۔ ماں باپ کا خیال ہوتا ہے کہ موبائل چھین کر بچے کو انسان بنایا جائے مگر بچے کے نزدیک یہ عمل سراسر ظلم ہوتا ہے۔
جیسے ہی والد یا والدہ موبائل کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں تو بچہ فوراً اپنی وکالت خود شروع کر دیتا ہے۔ دلیلیں ایسی ایسی پیش کی جاتی ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے وکیل کو بھی شرما دیں۔
امی! یہ یوٹیوب ویڈیو نہیں لیکچر ہے۔
ابو! یہ گیم نہیں، دماغی ورزش ہے
اور اگر پھر بھی والدین نہ مانیں تو آخری ہتھیار استعمال ہوتا ہے کہ سر نے خود کہا ہے موبائل سے پڑھاکرو۔
موبائل چھننے کے بعد بچے کی کیفیت قابلِ دید ہوتی ہے۔ وہ صوفے پر ایسے بیٹھ جاتا ہے جیسے صدیوں کی تھکن اتر آئی ہو۔ آنکھیں خالی، ہاتھ بے کار، انگلیاں مسلسل ایسے ہلتی ہیں جیسے ابھی بھی اسکرین موجود ہو۔ کچھ بچے تو غیر ارادی طور پر اسکرول کرنے کی اداکاری بھی کرتے رہتے ہیں۔ ماں کہتی ہے بیٹا کتاب کھول کر کچھ پڑھ لو مگر کتاب کو دیکھ کر بچہ ایسے چونک جاتا ہے جیسے پہلی بار کسی اجنبی سے ملاقات ہو رہی ہو۔کھانے کی میز پر بھی موبائل کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بچہ نوالہ منہ میں رکھ کر رک جاتا ہے کیوں کہ عام طور پر اسی وقت کوئی ویڈیو چل رہی ہوتی ہے۔ والدین خوش ہوتے ہیں کہ شکر ہے آج خاموشی سے کھانا کھا رہا ہے مگر اصل میں بچہ اندر ہی اندر موبائل کی جدائی کا سوگ منا رہا ہوتا ہے۔ بعض بچے تو اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ چھوٹے بہن بھائیوں سے باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں جو موبائل کے بغیر انہیں آخری حل لگتا ہے۔
پڑھائی کے نام پر بچہ میز پر تو بیٹھ جاتا ہے مگر کتاب کھلی ہوتی ہے اور نظریں بار بار اس جگہ جاتی ہیں جہاں موبائل رکھا ہوتا ہے۔ جیسے ہی والدین کمرے سے باہر جاتے ہیں بچے کی آنکھوں میں امید کی چمک آ جاتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ موبائل کی طرف بڑھتا ہے جیسے کوئی جاسوس خفیہ مشن پر ہو۔ مگر اچانک ماں کی آواز آتی ہے:
میں دیکھ رہی ہوں۔
اور یوں مشن ایک بار پھر ناکام ہو جاتا ہے۔
والدین بھی کوئی کم مظلوم نہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہم بچوں کو بگاڑ نہیں رہے، بل کہ بچا رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ دیر بعد وہ خود ہی تھک جاتے ہیں۔ بچے کے اداس چہرے، خاموشی اور بار بار آنے والی فرمائشیں دل پگھلا دیتی ہیں۔ آخرکار ایک جملہ سنائی دیتا ہے:
اچھا آدھا گھنٹہ لے لو، مگر بس آدھا گھنٹہ۔
یہ آدھا گھنٹہ کب ایک، دو اور تین گھنٹوں میں بدل جاتا ہے کسی کو پتا نہیں چلتا۔ بچہ خوش والدین مطمئن اور موبائل اپنی جگہ مضبوط۔ یوں بچوں سے موبائل چھیننے کی ہر کوشش ایک سبق دے کر ختم ہوتی ہے کہ اس جنگ میں جیت شاید ممکن نہیں۔ اصل ضرورت موبائل چھیننے کی نہیں بل کہ ہمیں خود بھی سیکھنا ہوگا کہ موبائل ہمارے ہاتھ میں رہے ہم موبائل کے ہاتھ میں نہ ہوں۔
Latest Posts
