خواب ،دھواں اور زمین

ذوالفقار ہمدم اعوان
صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔ افق پر ہلکی سی سنہری لکیر نمودار ہو رہی تھی اور شہر کی گلیوں میں خاموشی ایسے پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے رات کو آہستہ سے سمیٹ کر زمین کے کنارے رکھ دیا ہو۔ اس شہر کا نام نورآباد تھا۔ کبھی یہ شہر اپنے باغوں، اسکولوں اور ہنستے کھیلتے بچوں کے لیے پہچانا جاتا تھا، مگر اب یہاں کے آسمان پر اکثر جنگی طیاروں کی گرج سنائی دیتی تھی۔
نورآباد کے ایک چھوٹے سے محلے میں زلیخا رہتی تھی۔ دس سالہ زلیخا کی آنکھیں غیر معمولی طور پر گہری تھیں۔ وہ اکثر کہتی تھی کہ آسمان کے پاس بھی یادداشت ہوتی ہے۔ جب بھی وہ اسکول سے واپس آتی تو چھت پر چڑھ کر دیر تک آسمان کو دیکھتی رہتی۔ اس کی ماں، مریم، اسے پکارتی تو وہ مسکرا کر کہتی، “امی، میں ستاروں کو گن رہی ہوں۔ شاید ان میں کوئی میرا دوست بھی ہو۔” مریم ہنس دیتی، مگر اس کے دل میں ایک انجانی سی تشویش بھی جاگتی رہتی۔ جنگ کے سائے میں پلنے والے بچوں کے خواب اکثر نازک ہوتے ہیں۔ زلیخا کا باپ علی ایک استاد تھا۔ وہ شہر کے پرائمری اسکول میں پڑھاتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ تعلیم دنیا کی سب سے بڑی روشنی ہے۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہتا، “بچو، جنگ کتابوں سے نہیں جیتی جاتی، جنگ تو دلوں کی روشنی سے ہاری جاتی ہے۔”
اسکول میں زلیخا کی سب سے قریبی دوست مونا تھی۔ مونا ہمیشہ رنگ برنگی پنسلیں ساتھ رکھتی تھی۔ ایک دن اس نے اپنی کاپی میں ایک عجیب سی تصویر بنائی۔ تصویر میں ایک بڑا سا درخت تھا جس کے نیچے بہت سے بچے بیٹھے تھے اور درخت کی شاخوں پر روٹیاں لٹکی ہوئی تھیں۔ زلیخا نے حیرت سے پوچھا، “یہ کیسا درخت ہے؟” مونا نے مسکرا کر جواب دیا، “یہ امید کا درخت ہے۔ جب دنیا میں کوئی بچہ بھوکا ہوتا ہے تو اس درخت پر ایک نئی روٹی اگتی ہے۔” زلیخا نے دیر تک تصویر کو دیکھا۔ پھر آہستہ سے کہا، “کاش یہ درخت واقعی ہوتا۔”
دن گزرتے رہے۔ مگر شہر کی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی بڑھنے لگی۔ بازاروں میں لوگ سرگوشیاں کرتے تھے، ریڈیو پر خبروں کا لہجہ سخت ہو گیا تھا اور آسمان پر طیاروں کی پروازیں زیادہ ہو گئی تھیں۔ ایک شام علی گھر آیا تو اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ مریم نے پوچھا، “کیا ہوا؟” علی نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، “شاید حالات خراب ہونے والے ہیں۔” اس رات زلیخا دیر تک سو نہ سکی۔ وہ چھت پر گئی اور آسمان کو دیکھنے لگی۔ ستارے معمول سے زیادہ خاموش لگ رہے تھے۔ پھر اچانک آسمان میں ایک تیز روشنی چمکی اور اس کے بعد ایک خوفناک دھماکہ ہوا۔ زمین لرز اٹھي۔ شہر کے کئی حصے آگ اور دھوئیں میں ڈوب گئے۔ لوگ چیخ رہے تھے، ایمبولینسوں کے سائرن گونج رہے تھے، اور آسمان مسلسل شعلے برسا رہا تھا۔ اسی رات نورآباد کے بہت سے معصوم بچے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صبح جب دھواں کچھ کم ہوا تو شہر کے ایک پرانے اسکول کے ملبے سے ایک چھوٹی سی کاپی ملی۔ اس کا سرورق جلا ہوا تھا مگر اندر کے چند صفحے محفوظ تھے۔ ان صفحات پر بچوں کے خواب لکھے تھے۔ کسی نے لکھا تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے گا، کسی نے لکھا تھا کہ وہ استاد بنے گی، کسی نے سورج اور گھر کی تصویر بنائی تھی۔ اور ایک صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: “دنیا میں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔” وہ جملہ پڑھ کر امدادی کارکن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ چند دن بعد شہر کے قبرستان میں بہت سی نئی قبریں بن گئیں۔ مریم ان قبروں کے درمیان کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر اس کی آواز عجیب طور پر پرسکون تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، “تم نے ہمارے بچوں کو لے لیا، مگر ان کے خواب نہیں لے سکتے۔”
اسی لمحے ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ قبرستان کے پاس کھڑے پرانے درخت کی شاخیں ہلنے لگیں۔ کچھ بیج زمین پر گرے۔ مہینوں بعد اسی جگہ چھوٹے چھوٹے پودے اگ آئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ درخت اب بہت بڑا ہو چکا ہے۔ اس کی شاخوں پر پرندے آ کر بیٹھتے ہیں اور اس کے سائے میں بچے کھیلتے ہیں۔ شہر کے بوڑھے لوگ اکثر ایک کہانی سناتے ہیں: “آسمان ہر اس بچے کا نام یاد رکھتا ہے جو ظلم کا شکار ہوتا ہے۔” اور جب کبھی رات کے وقت ستارے زیادہ روشن نظر آئیں تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ آسمان ان ناموں کو دہرا رہا ہے۔
ایک رات ایک چھوٹا سا لڑکا اپنی ماں کے ساتھ اس درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر پوچھا، “امی، کیا واقعی آسمان کو سب نام یاد رہتے ہیں؟” ماں نے اسے گلے لگا کر کہا، “ہاں بیٹا۔ کیونکہ جب بھی کوئی معصوم بچہ دنیا سے جاتا ہے، آسمان میں ایک نیا ستارہ روشن ہو جاتا ہے۔” لڑکے نے خاموشی سے ستاروں کو دیکھا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا، “تو پھر ہمیں زمین کو ایسا بنانا چاہیے کہ آسمان کو نئے نام یاد نہ رکھنے پڑیں۔” ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے بیٹے کو مضبوطی سے سینے سے لگا لیا۔ کیونکہ اس لمحے اسے لگا کہ شاید یہی وہ دعا ہے جس کا انتظار پوری انسانیت کو صدیوں سے ہے، اور آسمان خاموشی سے ان سب ناموں کو یاد رکھے ہوئے تھا۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow