بقلم : نواز علی فاروقی
برصغیر کی سرزمین اولیائے کرام کی روحانی خوشبو سے ہمیشہ مہکتی رہی ہے۔ یہاں کے شہروں، بستیوں اور قصبوں میں ایسے بے شمار درویش اور صوفی بزرگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی محبت، انسانیت کی خدمت اور روحانی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ انہی بزرگ ہستیوں میں ایک عظیم نام حضرت سید داود بندگی کرمانیؒ کا بھی ہے، جن کا اصل نام حضرت سید محمد ابراہیم تقویٰ الکرمانی تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ اپنے روحانی مقام، تقویٰ، درویشی اور عوامی عقیدت کی وجہ سے حضرت سید داود بندگی کرمانیؒ کے نام سے مشہور ہو گئے۔
حضرت سید محمد ابراہیم تقویٰ الکرمانیؒ کا تعلق ایک نہایت معزز اور علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ آپ کے آباء و اجداد دینِ اسلام کی تبلیغ، علم و معرفت کی اشاعت اور روحانی اصلاح کے لیے معروف تھے۔ روایت کے مطابق آپ نے اپنے زمانے میں نہ صرف علمِ دین حاصل کیا بلکہ تصوف و طریقت کے میدان میں بھی بلند مقام حاصل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی صحبت میں آتے، فیض حاصل کرتے اور اپنی روحانی پیاس بجھاتے تھے۔ آپ کی شخصیت میں عاجزی، انکساری اور محبت کا ایسا رنگ تھا کہ جو بھی ایک بار آپ کی مجلس میں بیٹھتا وہ ہمیشہ کے لیے آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ آپ شیرگڑھ کے علاقے میں قیام پذیر ہوئے۔ اس بستی میں آپ کی موجودگی نے جلد ہی اسے روحانیت کا مرکز بنا دیا۔ لوگ دور دور سے یہاں آتے، دعا مانگتے، نصیحت سنتے اور روحانی سکون حاصل کرتے۔ آپ کی زندگی کا مقصد لوگوں کے دلوں میں محبت، اخلاص اور اللہ کی یاد کو زندہ کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کا مزار عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیض بنا ہوا ہے۔
ہر سال تیرہ مارچ کو حضرت سید داود بندگی کرمانیؒ کا عرس مبارک شروع ہوتا ہے جو تقریباً پانچ سے سات دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ عرس نہ صرف ایک مذہبی تقریب ہوتا ہے بلکہ ایک روحانی اور ثقافتی اجتماع کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس موقع پر شیرگڑھ اور اس کے گرد و نواح کے علاقے عقیدت مندوں سے بھر جاتے ہیں۔ ہزاروں افراد یہاں حاضر ہو کر اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں اور بزرگ ہستی کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
عرس کے دوران مزار مبارک کو خاص اہتمام کے ساتھ سجایا جاتا ہے۔ گلاب کے عرق، عطر اور خوشبوؤں سے مزار کو غسل دیا جاتا ہے اور عقیدت مند چادریں چڑھاتے ہیں۔ محفلِ سماع اور قوالی کی روح پرور محافل منعقد ہوتی ہیں جن میں صوفیانہ کلام پیش کیا جاتا ہے۔ یہ محافل لوگوں کے دلوں کو اللہ کی محبت سے سرشار کر دیتی ہیں۔ عقیدت مند جھوم جھوم کر درود و سلام پیش کرتے ہیں اور اپنے دلوں کی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔
اس عرس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں مختلف علاقوں سے جماعتیں پیدل سفر کر کے آتی ہیں۔ ان میں دو بڑی جماعتیں خاص طور پر مشہور ہیں جنہیں پنجابی میں راوی دی جماعت اور چناب دی جماعت کہا جاتا ہے۔ یہ جماعتیں جھنڈے اٹھائے، درود و سلام پڑھتے ہوئے اور اپنے بزرگ کے عشق میں سرشار ہو کر میلوں کا سفر طے کر کے یہاں پہنچتی ہیں۔ ان جماعتوں کی آمد سے میلے کا رنگ اور بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس میلے کو عام طور پر “میلہ جماعتاں” بھی کہا جاتا ہے۔
اس موقع پر حضرت سید محمد ابراہیم تقویٰ الکرمانیؒ کے خاندان اور سلسلے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوتے ہیں۔ خاص طور پر لاہور میں مدفون حضرت شاہ ابوالمعلیٰؒ کی اولاد میں سے کئی افراد ہر سال یہاں آ کر عرس میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی اس روحانی سلسلے کی تاریخی اور خاندانی روایت کو زندہ رکھتی ہے اور عقیدت مندوں کے لیے باعثِ برکت سمجھی جاتی ہے۔
عرس کے دنوں میں شیرگڑھ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔ مختلف قسم کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیاء، کھلونوں اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔ بچے، بوڑھے، مرد اور عورتیں سب اس میلے میں شریک ہو کر خوشیوں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ بڑے بڑے جھولے اور بھنگوڑے بھی لگائے جاتے ہیں جن میں آسمانی بھنگوڑا، اٹھارہ ڈولیوں والا جھولا اور چوبیس ڈولیوں والا بھنگوڑا خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ فلائنگ بوٹس اور کشتیوں جیسے جھولے بھی بچوں اور نوجوانوں کے لیے تفریح کا باعث بنتے ہیں۔
عرس کے موقع پر ثقافتی رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ مختلف فاک گلوکار یہاں آ کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سال بھی معروف فاک گلوکار اکرم راہی یہاں موجود ہیں جو رات کے وقت اپنی سُریلی آواز میں پنجابی گیت پیش کرتے ہیں۔ ان کے مداح دور دور سے آ کر ان کی محفل میں شرکت کرتے ہیں اور موسیقی کی اس محفل کو خوب داد دیتے ہیں۔
اگر سرکس کی بات کی جائے تو عرس کے دنوں میں سرکس بھی ایک بڑی کشش ہوتی ہے۔ ہر سال یہاں سرکس لگتی ہے لیکن اس سال ایک نہیں بلکہ تین بڑی سرکسیں یہاں موجود ہیں۔ ان میں دھوم انٹرنیشنل سرکس، ماڈرن انٹرنیشنل سرکس اور لکی ایرانی سرکس شامل ہیں۔ ان سرکسوں میں ملکی اور غیر ملکی فنکار اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خطرناک کرتب، حیرت انگیز کھیل اور دلکش پرفارمنس دیکھ کر حاضرین داد دیے بغیر نہیں رہتے۔
یوں دیکھا جائے تو حضرت سید داود بندگی کرمانیؒ کا عرس صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک روحانی، ثقافتی اور سماجی اجتماع بھی ہے۔ یہ میلہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اولیائے کرام کی تعلیمات انسانیت، اخلاص اور اللہ کی محبت پر مبنی تھیں۔
شیرگڑھ کی سرزمین ہر سال مارچ کے مہینے میں جب موسمِ بہار کی خوشبوؤں سے مہک رہی ہوتی ہے تو اسی وقت اس عرس کی رونقیں بھی اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ کسان اور دیگر پیشوں سے وابستہ لوگ اپنی مصروفیات کو کچھ دیر کے لیے چھوڑ کر اس میلے میں شریک ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا علاقہ خوشیوں کی ایک نئی لہر میں ڈوب گیا ہو۔
یہی وہ روحانی اور ثقافتی حسن ہے جو حضرت سید داود بندگی کرمانیؒ کے عرس کو ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ عقیدت مند یہاں آ کر نہ صرف اپنے دلوں کی مرادیں مانگتے ہیں بلکہ روحانی سکون بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد اس مبارک اجتماع میں شریک ہو کر اس درویش صفت بزرگ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
Latest Posts
