تحریر: عامر عباس ناصر اعوان
کس ضرورت کو دباؤں، کسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے
یہ محض دو مصرعے نہیں، یہ اس سرکاری ملازم کے دل کی دھڑکن ہیں جو ہر مہینے تنخواہ ہاتھ میں آنے کے بعد اسے کئی مرتبہ گنتا ہے۔ وہ اعداد تو وہی رہتے ہیں مگر ذمہ داریاں بڑھتی جاتی ہیں۔ کبھی بچوں کی فیس سامنے کھڑی ہوتی ہے، کبھی بجلی کے بل کا کاغذ آنکھوں میں چبھنے لگتا ہے، کبھی راشن کی فہرست لمبی ہو جاتی ہے اور کبھی کسی بیمار ماں باپ کی دوا کی ضرورت دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہے۔
اور اب جب عید قریب آ رہی ہے، بازاروں میں روشنیوں کی چمک بڑھ رہی ہے، بچوں کی آنکھوں میں نئے کپڑوں اور جوتوں کے خواب جاگ رہے ہیں، ایسے میں تنخواہوں میں کٹوتی کی خبریں کسی اچانک آنے والے طوفان کی طرح دلوں پر دستک دے رہی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ فیصد سے لے کر تیس فیصد تک کٹوتی کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔
گریڈ 1 سے 5 تک پانچ فیصد،
گریڈ 11 تک دس فیصد،
گریڈ 15 تک بیس فیصد،
اور گریڈ 16 سے 22 تک تیس فیصد تک کمی۔
یہ صرف فیصد نہیں ہیں، یہ ہزاروں گھروں کے چولہوں، بچوں کی تعلیم اور خاندانوں کی امیدوں پر اثر انداز ہونے والے فیصلے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ملک کو مشکلات کا سامنا نہیں۔ یقیناً حالات آسان نہیں۔ عالمی کشیدگی، معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران جیسے مسائل حقیقت ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان مشکلات کا بوجھ کس کے کندھوں پر رکھا جا رہا ہے؟
کیا واقعی قومی معیشت کو سہارا دینے کا واحد راستہ یہی رہ گیا ہے کہ ایک سرکاری ملازم کی پہلے ہی محدود تنخواہ میں مزید کمی کر دی جائے؟
پاکستان کا سرکاری ملازم کوئی عیش و عشرت کی زندگی نہیں گزارتا۔ اس کی تنخواہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان میں تنکے کی طرح ہل رہی ہے۔ پٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، گیس مہنگی، آٹا، چینی، دالیں سب مہنگی۔ ایسے میں اگر اسی تنخواہ میں مزید کٹوتی کر دی جائے تو یہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی دباؤ بھی بن جاتا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو تنخواہوں میں کٹوتی کے بغیر بھی کئی راستے موجود ہیں۔
سب سے پہلا قدم حکمران طبقے کے اخراجات میں کمی ہونا چاہیے۔ وزراء کے طویل پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں کے قافلے، غیر ضروری دورے اور سرکاری مراعات قومی خزانے پر بھاری بوجھ بنتے ہیں۔ اگر صرف ان اخراجات کو محدود کر دیا جائے تو اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔
یہ صرف مالی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ عوام کو یہ احساس بھی ملے گا کہ مشکل وقت میں قربانی سب دے رہے ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع کا ہے۔ پاکستان میں ہر سال اربوں روپے مختلف انتظامی کمزوریوں اور بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر ان راستوں کو بند کر دیا جائے تو شاید تنخواہوں میں کٹوتی جیسے سخت فیصلے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
تیسرا اہم قدم ٹیکس کے نظام کو منصفانہ بنانا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا اصل بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے پر ہوتا ہے، جبکہ بڑے کاروباری شعبوں اور غیر دستاویزی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اگر ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے تو قومی خزانے میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح سرکاری گاڑیوں کے بے جا استعمال، غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں اور غیر پیداواری اخراجات کو وقتی طور پر محدود کرنا بھی ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک جب معاشی بحران کا سامنا کرتے ہیں تو سب سے پہلے حکمران طبقہ اپنی مراعات کم کرتا ہے۔ وہاں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ریاست اور عوام ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔
پاکستان میں بھی یہی اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ ایک سرکاری ملازم جب اپنی تنخواہ گنتا ہے تو وہ صرف پیسے نہیں گن رہا ہوتا، وہ اپنے بچوں کے خواب گن رہا ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ عید پر بیٹی کے لیے کپڑے خرید پائے گا یا نہیں، بیٹے کی فیس ادا ہو سکے گی یا نہیں، گھر کا چولہا اسی طرح جلتا رہے گا یا نہیں۔
عید خوشیوں کا تہوار ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب ریاست کو اپنے شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ ان کے دلوں میں نئی فکریں ڈالنی چاہئیں۔
ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ ماں مشکل وقت میں بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھتی ہے، ان کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ اگر ماں ہی بچوں سے کہنے لگے کہ اپنے حصے کا بوجھ خود اٹھاؤ تو گھر کی دیواروں میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آتی ہے۔
پاکستان کے لوگ زیادہ مطالبہ نہیں کرتے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جب حالات خراب ہوں تو حکومت کم از کم ان کے سروں سے چھت نہ ہٹائے۔
اگر واقعی معیشت کو سنبھالنا ہے تو قربانی مشترکہ ہونی چاہیے، یکطرفہ نہیں۔
کیونکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ قومیں مشکلات سے نہیں ٹوٹتیں، وہ ناانصافی کے احساس سے ٹوٹتی ہیں۔
اور ایک عام ملازم کے دل کی آواز آج بھی وہی ہے:
کس ضرورت کو دباؤں، کسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے۔
Latest Posts
