از قلم : مقدس عبدلوارث
استاد کامرتبہ معاشرے میں اس سیڑھی کی مانند ہے جو انسان کو پستی سے اٹھا کر بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہےکہ قوموں کی تعمیر اینٹ اور گارے سے نہیں بلکہ ان معماروں کے ہاتھوں ہوتی ہے جنہیں ہم “استاد”کہتےہیں۔
مادہ پرستی کے اس دور میں جہاں ہر رشتہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے وہاں ایک استاد ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنے شاگرد کو اپنے سے آگے بڑھتا دیکھ کرسچے دل سے خوش ہوتا ہے۔ آج کافی دنوں بعد میر اقلم بھی ایک ایسی ہی شخصیت کے گرد گھوم رہا ہے ۔ جنہیں ہم “استاد محترم جناب حمادصاحب کے نام سے پکارتے ہیں ۔محبتوں بھرا لفظ جو خالص خلوص وعظمت کا پیکر ہے۔ جسکا ادب ترقی کا سبب ہے، جسکی عظمت کو کل بھی سلام تھا اور آج بھی ہے اور آئندہ بھی سلام۔ تعلیم کے شعبے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو بس ایک عہدے یا ذمداری تک محدود نہیں رہتیں ،بلکہ اپنے کردار انتظامی صلاحیت اورانسان دوستی سے ایک مثال قائم کرتے ہیں۔
“جناب حامد صاحب”
بھی انہیں میں سے ہیں۔ جناب حامد صاحب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہیں اور بحثیت گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول ٹھاکرہ میں “ایس ایس کیمسٹری”کی سیٹ پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
جناب حامد صاحب محض ایک معلم کا نام نہیں بلکہ وہ ایک ایسی طرز زندگی کانام ہے۔ جہاں علم،شفقت اور تربیت ایک ساتھ چلتے ہیں۔ انکی شخصیت کا سحر انکے پڑھانے کے انداز شاگردوں کے ساتھ مشفقانہ رویے میں پوشیدہ ہے۔ علم کا پیکر، شفقت کا سمندر استاد محترم جناب حامد صاحب کی شخصیت کا نمایاں پہلو انکا علمی واقار ہے۔ جب وہ گفتگوں کرتے ہیں توبالفاظ موتیوں کی طرح جھڑتےںہیں۔ ان کا مطالعہ محض نصابی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ وہ زندگی کی کتاب کے بھی ایک زیرک قاری ہیں ۔
ایک ایسے استادکی شاگردہ ہونا میں اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں جنہوں نے توحید کی راہ پر ثابت قدمی دکھائی، حق کےجرم کی پاداش میں غرباء میں اپنا نام لکھوایا۔ حمادصاحب نہ صرف ظاہری حسن وجمال سے مالامال ہیں بلکہ انکی باطنی خصوصیات بھی بے مثال ہے۔
ظاہری طور پر میرے استاد محترم جناب حامد صاحب کی شخصیت نہایت پرکشش ہے۔ درمیانہ قد، مضبوط جسم اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ انکی آنکھیں گہری اور پُرسکون، جن میں ہمیشہ ایک شفقت اور محبت ہوتی ہے۔ لباس میں سادگی کو ترجیح دیتے ہے۔ انکی نفاست اورصفائی ہمیشہ انکی شخصیت کا حصہ ہے۔ انکی طرز گفتگو نہایت مذہب اور شائستہ ہے،جس سے سننے والے پر فوراً ایک اچھا تاثر قائم ہوتا ہے۔
حمادصاحب کی تدریس کا سب سے نمایاں پہلو انکی سادگی اور فصاحت ہے۔ وہ مشکل ترین نظریات کو روزمرہ کی مثالوں سے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔
جناب حامد صاحب کتابی علم تک ہی محدود نہیں رہتے ہیں بلکہ اپنے شاگردوں میں “کیو”اور “کیسے” کا شعور بیدار کرتے ہیں ۔ انکی گفتگو سے جھلکتا ہےکہ ان کا مطالعہ صرف اپنے مضمون تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنے شاگردوں کی تربیت پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔
ایک اچھا استاد وہ ہے جوسبق یاد کروائے، لیکن بہترین استاد وہ ہے جو جینا سکھائے۔ جناب حامد صاحب نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ” ڈگری محض ایک کاغز کا ٹکڑا ہے اگر اس کے ساتھ تہذیب اور اخلاق نہ ہو۔”
میں نے اپنے دورتعلیم میں حماد صاحب کےچہرے پر کبھی شکن نہیں دیکھی، وہ ہرسوال کا جواب مسکراہٹ سے دیتے ہیں۔ حماد صاحب کی نظر میں لائق اور کمزور طالب علم برابر ہیں،انکے پڑھائے ہوئے شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں،اور یہ سب انکی محنت کا ثمر ہے جو انہوں نے برسوں پہلے ایک بیج کی صورت میں بویا تھا۔
سچ تو یہ کہ۔
“وہ ہاتھ جو قلم پکڑناسکھاتےہیں
وہی تقدیر بدلنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔”
ذاتی طور پر اگر میں بات کرو تو جناب حامدصاحب کی حوصلہ افزائی نے میرے اندر خود اعتمادی پیدا کی جب کھبی میں نے کمزوری محسوس کی انہوں نے مجھے ہمت دلائی اور بہتر کرنےکی ترغیب دی۔ ان کی راہنمائی نے میجھے یہ سکھیا کہ ناکامی عارضی ہوتی ہے اور محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ انکے نزدیک معیار صرف محنت ہے۔
آج جب معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہے۔ وہاں استاد محترم جناب حامد صاحب جیسے لوگ غنیمت ہیں۔ وہ صرف ایک معلم نہیں بلکہ ایک رہنما ہیں۔ انہوں نے کتنے ہی بجھتے ہوئے چراغوں میں اپنےخون جگر سے تیل ڈالا اور انہیں زمانےکے تندوتیز ہواؤں کے سامنے کھڑا کردیا۔
آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ جناب حامدصاحب کو صحت،لمبی عمر اور مزید کامیابیوں سے نوازے اللّٰہ تعالیٰ حمادصاحب کو اسی طرح علم وآ گہی کی شمع روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں خودکو خوش قسمت سمجھتی ہوںکہ میجھےحماد صاحب جیسےاستادملے۔
سنگ بے قیمت تراشا اورجوہرکردیا
شمع علم وآگہی سے دل منورکردیا
فکرو فن تہذیب وحکمت دی شعور وآگہی
گم شدان راہ کو گویاکہ رہبرکردیا
چشم فیض دست وہ پارصفت جب چھو گئے
مجھ کو مٹی سے اٹھایا اور فلک پر کردیا
دے جزا اللّٰہ تواس باغبان علم کو
جس نے غنچوں کوکھلایا اورگل تر کردیا۔
“دوعاگوسابقہ طالب علم مقدس عبدلوارث “
