از قلم: ندیم یعقوب گوہر
بدگمانی وہ خاموش دیمک ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ انسانی تعلقات کی بنیاد جس اعتماد اور بھروسے پر قائم ہوتی ہے، بدگمانی اس بنیاد کو مسمار کر کے نفرت اور بیگانگی کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کا طریقہ اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب ہم کسی کی نیکی کو بھی کسی پوشیدہ مفاد کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔ یہ رویہ محض انفرادی سطح تک محدود نہیں رہا بل کہ اس نے ایک سماجی وبا کی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں ہر مسکراہٹ کے پیچھے طنز اور ہر خاموشی کے پیچھے سازش تلاش کی جاتی ہے۔ جب کوئی معاشرہ اجتماعی طور پر اس نفسیاتی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے تو وہاں مخلصانہ مشورے بھی شک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور باہمی تعاون کی جگہ خوف اور عدم تحفظ لے لیتا ہے۔
بدگمانی کا سب سے بڑا معاشرتی پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں دوسروں کے عیبوں کا کھوج لگانے پر اُکسا کر ہماری اپنی اصلاح سے غافل کر دیتی ہے۔ ہم اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کر کے دوسروں کے ارادوں کے منصف بن بیٹھتے ہیں، حالاں کہ دلوں کے بھید صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس رویے نے ہمارے خاندانی نظام کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جہاں معمولی سی غلط فہمی یا کسی کی کہی ہوئی ادھوری بات پر برسوں کے خونی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہم سامنے والے سے اس کی وضاحت مانگنے کے بجائے اپنے ذہن میں مفروضوں کے محل تعمیر کر لیتے ہیں اور پھر ان ہی مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔ یہیں سے غیبت، چغلی اور بہتان تراشی کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو پورے معاشرے کے امن کو غارت کر دیتا ہے۔ سماجی میڈیا کے موجودہ دور نے اس آگ پر ایندھن کا کام کیا ہے، جہاں ادھوری معلومات اور جعلی خبریں کسی کی بھی کردار کشی کو چند لمحوں کا کھیل بنا دیتی ہیں۔
اس سنگین مسئلے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم بطور فرد اپنے سوچنے کے انداز کو تبدیل نہ کریں۔ معاشرتی اصلاح کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ ہم ”حسنِ ظن“ یعنی دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر کسی کی کوئی بات یا عمل ہمیں ناگوار گزرے تو اس پر فوراََ ردعمل دینے کے بجائے اس کے حق میں کوئی مثبت عذر تلاش کریں۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب تک کسی کی برائی واضح نہ ہو جائے، اس کے بارے میں خیر کا پہلو ہی غالب رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی الجھن پیدا ہو جائے، تو اس کا بہترین علاج وہ براہِ راست مکالمہ ہے، جس میں ”مجھ سے متعلق کوئی شک ہو تو دوسروں سے نہیں، مجھ سے پوچھیں“ کا اصول کارفرما ہو۔ جب ہم کسی کے بارے میں دوسروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بجائے متعلقہ شخص سے بات کرتے ہیں تو بدگمانی کے نوے فیصد بادل وہیں چھٹ جاتے ہیں۔
بدگمانی سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم تحقیق کی تہذیب کو فروغ دیں۔ سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانا بذاتِ خود ایک معاشرتی جرم ہے جو رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں پر پہرہ دیں اور دوسروں کے نجی معاملات میں تجسس کرنا چھوڑ دیں۔ جب ہم دوسروں کی ٹوہ لگانا چھوڑ کر اپنی ذات کے محاسبے پر توجہ دیں گے، تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ جن غلطیوں پر ہم دوسروں کو شک کی بنیاد پر سزا دے رہے ہیں، ان سے کہیں بڑی لغزشیں ہم سے خود سرزد ہوتی رہی ہیں۔ درگزر کرنا اور معاف کرنا بدگمانی کے زہر کا سب سے موثر تریاق ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اعتبار کی جرات کرنا شک کی اذیت میں جینے سے کہیں بہتر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ امن کا گہوارہ بنے، تو ہمیں شک کی گرد کو صاف کر کے بھروسے کی فضا پیدا کرنی ہوگی۔ یہ عمل ہم سے شروع ہوتا ہے، جب ہم دوسروں کو وہ عزت اور اعتماد دیں گے جس کی توقع ہم ان سے رکھتے ہیں، تو معاشرتی بدگمانی کی یہ دیمک خود بخود مر جائے گی اور انسانیت کے رشتے دوبارہ محبت اور خلوص سے مہک اٹھیں گے۔
Latest Posts
