تعلیمی اداروں کی بندش

پاکستان میں تعلیم ہمیشہ سے ہی ایک ایسا “سافٹ ٹارگٹ” رہا ہے جس پر کسی بھی بحران کی صورت میں سب سے پہلے کلہاڑی چلائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پٹرول کی مبینہ عدم دستیابی اور ایندھن کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کو اچانک بند کرنے کا فیصلہ حکومتی کارپردازوں کی نان ٹیکنیکل سوچ اور ترجیحات کا پول کھول رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے جس کے دور رس اثرات ہماری نسلِ نو کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ پورے ملک میں ٹرانسپورٹ کے معمولات جوں کے توں چل رہے ہیں اور شاہراہوں پر نجی گاڑیوں کا اژدھام برقرار ہے مگر حکومت کو صرف تعلیمی ادارے ہی نظر آئے جہاں پٹرول کی “بہت زیادہ” کھپت ہوتی ہے۔ ایک طرف تو سرکاری افسران اور وزراء کے لاؤ لشکر قیمتی سرکاری گاڑیوں پر پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں اور دوسری طرف بچوں کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ یہ بے حسی کی انتہا ہے کہ حکمرانوں کو بچوں کے تعلیمی مستقبل کی ذرہ برابر فکر نہیں۔ اگر ہم عالمی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو پاکستان کے سوا دنیا کے تمام ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جہاں صرف پٹرول بچانے کے لیے تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہوں۔ وہاں معمولاتِ زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ چل رہے ہیں اور ریاستیں ایندھن کے بحران کا حل متبادل ذرائع سے نکالتی ہیں نہ کہ نسلِ نو کا قلم چھین کر۔
ہم نے کرونا کے دور میں بھی دیکھا کہ جب تمام معمولاتِ زندگی اپنے عروج پر تھے تو صرف تعلیمی ادارے ہی مقفل تھے۔ اس بندش کے نتیجے میں طلبہ کے اندر جو پڑھنے کی لگن ختم ہوئی ہے اور جو تعلیمی خلا پیدا ہوا ہے اس کے کڑوے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اب بھی جب کسان کی پکی ہوئی فصل کی طرح طلبہ اپنے اداروں میں ٹیسٹ سیشن میں مصروف تھے اور ان کی کارکردگی میں بہتری آ رہی تھی تو حکومت نے اچانک تعلیمی ادارے کر کے ان کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ ریاست کا یہ دعویٰ کہ آن لائن کلاسز سے تعلیمی عمل جاری رہے گا محض ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو طلبہ فزیکل کلاسز میں بیٹھ کر استاد کی پوری توجہ کے باوجود مشکل سے سبق سیکھ پاتے ہیں وہ آن لائن سکرین کے پیچھے بیٹھ کر کیا خاک پڑھیں گے؟ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور انٹرنیٹ کے مسائل روز کا معمول ہوں وہاں آن لائن تعلیم محض ایک دوسرے کے ساتھ مذاق اور وقت گزاری کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔
پاکستان کی بد نصیبی دیکھیے کہ یہاں کبھی گرمیوں اور سردیوں کی لمبی چھٹیاں اور کبھی سرکاری چھٹیوں کے نام پر تعلیمی عمل روکا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب سموگ، فوگ اور سیلاب کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت کے نام پر بھی سکول بند کیے جا رہے ہیں۔ کیا حکمران یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے عوام زیادہ پڑھ لکھ نہ جائیں؟ تعلیم کو ایک غیر ضروری سرگرمی سمجھنے کا یہ رویہ قوم کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
تعلیمی اداروں کی بندش پٹرول کے بحران کا حل نہیں بلکہ قومی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ شاہ خرچیاں کم کرے اور سرکاری پروٹوکول میں استعمال ہونے والے ایندھن پر پابندی لگائے تاکہ تعلیمی ادارے کھلے رہ سکیں۔ اگر آج ہم نے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح نہ بنایا تو کل کی تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ تعلیم کے بغیر کسی بھی معاشی یا سماجی بحران سے نکلنا ناممکن ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow