ٹوپی،تسبیح اور تِگنا منافع: عید یا غریب کی کھال اتارنے کا میلہ؟

تحریر: وقاص ساحل کمبوہ

رمضان المبارک کا آخری عشرہ رخصت ہو رہا ہے اور فضاؤں میں عید کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے، مگر افسوس کہ اس پاکیزہ مہینے کے اختتام پر بازار اور منڈیاں “رحمت” کے بجائے “زحمت” کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ وہ مہینہ جو ایثار، ہمدردی اور غریب پروری کا درس دینے آیا تھا، اسے ہمارے تاجر طبقے کے ایک بڑے حصے نے “لوٹ مار کا سیزن” بنا دیا ہے۔ جب معاشرے میں انسانیت کا معیار روپے سے تولا جانے لگے، تو سمجھ لیں کہ وہاں خوشیاں بکاؤ ہو چکی ہیں۔
آج جب ایک سفید پوش طبقے کا فرد بازار کا رخ کرتا ہے، تو اسے عید کی رنگینیوں کے بجائے قیمتوں کے خنجر دکھائی دیتے ہیں۔ بچوں کے جوتوں سے لے کر عید کے ملبوسات تک، ہر چیز کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں۔ یہ وہی تاجر ہیں جو سحری و افطاری میں لمبی تسبیحات پڑھتے ہیں، لیکن جوں ہی دکان کا شٹر اٹھتا ہے، ان کا “خدا” بدل جاتا ہے۔ مصنوعی مہنگائی کے اس طوفان میں ایک عام مزدور اپنی عزتِ نفس بچانے کی تگ و دو میں ہانپ رہا ہے۔
حیرت تو ان ‘مقدس چہروں’ پر ہوتی ہے جو ماتھے پر سجدوں کا نشان (محراب) سجائے، سر پر سفید ٹوپی دھرے اور ہاتھ میں تسبیح گھماتے ہوئے دکان کی مسند پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ ‘حاجی صاحب’ اور ‘نمازی تاجر’ تسبیح کے ہر دانے کے ساتھ جہاں خدا کا نام لیتے ہیں، وہیں گاہک کو دیکھتے ہی ان کی نظریں اس کی جیب پر لگی ہوتی ہیں۔ کپڑوں اور جوتوں کے منہ مانگے دام وصول کرتے ہوئے ان کی زبان سے ‘سبحان اللہ’ تو نکلتا ہے، مگر ان کے نرخ نامے کسی لٹیرے سے کم نہیں ہوتے۔ یہ کیسا تقویٰ ہے جو مسجد کی صف اول میں تو نظر آتا ہے مگر دکان کے ترازو اور ریٹ لسٹ میں غائب ہو جاتا ہے؟ عبادت کا لبادہ اوڑھ کر غریب کی کھال اتارنا اور عید کی خوشیوں کو لوٹ مار کا سیزن قرار دینا ان کا وہ گھٹیا اور منافقانہ رویہ ہے جو دینِ اسلام کی روح کے سراسر منافی ہے۔
دوسری جانب، مقامی انتظامیہ کا یہ حال ہے کہ وہ شاید عید کی چھٹیوں کا انتظار بازاروں سے زیادہ بے صبری سے کر رہے ہیں۔ یہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں آخر کس مرض کی دوا ہیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ انتظامیہ ہوش کے ناخن لے اور محض ‘وارننگ’ کے لالی پاپ دینا بند کرے۔ ان ناجائز منافع خوروں اور مصنوعی پارسائی کا لبادہ اوڑھے لٹیروں، ڈاکوؤں کو سرِعام بھاری جرمانے کیے جائیں، ان کی دکانیں سیل کی جائیں اور ان کے خلاف ایسی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن سکے۔
یاد رکھیے! تسبیح کے دانوں پر انگلیاں گھمانے سے وہ گناہ نہیں دھلتے جو کسی سفید پوش کی جیب کاٹ کر اور اس کے بچوں کی مسکراہٹیں چھین کر کمائے گئے ہوں۔ جب تک ریاست ان تسبیح بردار ڈاکوؤں کا ہاتھ نہیں روکے گی، تب تک غریب کی عید حسرتوں کا مجموعہ ہی بنی رہے گی۔ عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے، اسے منافع خوری کی ہوس میں نیلام نہ کریں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow