اللہ تو ہی میرا رب ہے

از قلم :- ذیشان افضل
انسان کی زندگی بھی عجیب کشمکش کا نام ہے۔ دل میں ایمان کی روشنی بھی ہے اور نفس کی کمزوری بھی ہے۔ قدم کبھی نیکی کی طرف بڑھتے ہیں اور کبھی لغزش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی انسان کی فطرت ہے کہ وہ کامل نہیں ہے خطا کا پتلا ہے۔ مگر اس کمزوری کے باوجود ایک راستہ دیکھائی دیتا ہے اور وہ ہے اپنے رب کی طرف رجوع کا راستہ۔
اللہ! تو ہی میرا رب ہے۔ ہم سے روزانہ گناہ بھی ہو جاتے ہی اور پھر دل ندامت سے بھر بھی جاتا ہے۔اللہ زبان پر معافی کے الفاظ آ جاتے ہیں، آنکھوں میں شرمندگی اتر آتی ہے اور دل تیرے در پر جھک جاتا ہے۔ کبھی کبھی انسان خود سے بھی شرمندہ ہوتا ہے کہ بار بار وہی غلطی کیوں دہرا دی جاتی ہے۔ مگر پھر یہ امید بھی دل میں جاگتی ہے کہ میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے وہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا ہے۔
زندگی کا یہ سفر دراصل گناہ اور توبہ کے درمیان چلنے والا ایک مسلسل راستہ ہے۔ انسان گرتا ہے، سنبھلتا ہے، پھر قدم پھسل جاتاہے اور پھر توبہ کر لیتا ہے۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ دل کا یہ رشتہ اپنے رب سے ٹوٹنا نہیں چاہیے اگر بندہ ہر بار گناہ کے بعد اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے تو یہ جھکنا ہی اس کی نجات کی امید بن جاتا ہے۔
اللہ! تو ہی میرا رب ہے۔ کبھی نیکی کی توفیق ملتی ہے تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ کسی کی مدد کر دی، کسی کا دل رکھ لیا، کسی کے لیے آسانی پیدا کر دی تو محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کا مقصد مل گیا ہو مگر پھر نفس کے دھوکے میں آ کر کوئی غلطی ہو جاتی ہے۔ ایسے لمحوں میں دل کانپ اٹھتا ہے کہ کہیں یہ سب اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔
لیکن اللہ آپ کے محبوب حضرت محمد ﷺ نے ہی تو بتایا ہے کہ جب بھی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کی جائے، اپنے رب کے سامنے جھک کر معافی مانگی جائے اور آئندہ بہتر بننے کی کوشش کی جائے۔ یہ زندگی دراصل کامل ہونے کا نام نہیں ہے بل کہ ہر بار گر کر دوبارہ اٹھنے کا نام ہے۔
اللہ! تو ہی میرا رب ہے۔ تو دلوں کے حال جانتا ہے۔ تو جانتا ہے کہ بندہ کمزور ہے، کبھی خواہشات کے ہاتھوں ہار جاتا ہے اور کبھی حالات کے دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مگر تو یہ بھی دیکھتا ہے کہ بندہ جب تیرے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کے دل میں کتنی سچائی ہوتی ہے۔
کاش ایسا ہو کہ گناہوں کی یہ زنجیر کبھی ٹوٹ جائ دل مکمل طور پر تیرے نور سے بھر جائے اور قدم ہمیشہ نیکی کی راہ پر چلتے رہیں۔ مگر جب تک یہ زندگی ہے یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ بندہ کبھی کمزور پڑے گا اور کبھی اپنے رب کی طرف لوٹ آئے گا۔
اللہ! تو ہی میرا رب ہے۔
اگر گناہ بار بار ہو جاتے ہیں تو معافی بھی بار بار مانگی جائے گی اگر قدم ڈگمگا جاتے ہیں تو تیری رحمت کا سہارا بھی بار بار لیا جائے گا کیوں کہ یقین یہی ہے کہ تیرا در ایسا در ہے جہاں سے کوئی سائل خالی نہیں لوٹتا اور تیرے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔اللہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرما دلوں کو پاک کر دے اور ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا کر دے۔ آمین۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow