تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
سات اپریل ۱۹۸۹ء کو پاکستان کی سرزمین ایک نہایت حساس اور تشویشناک واقعے کا شکار بنی جب افغانستان کی سمت سے ایک میزائل پاکستانی علاقے کی طرف داغا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا بلکہ پورے خطے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی۔ اس زمانے میں افغانستان ایک طویل اور خونریز جنگ سے گزر رہا تھا اور عالمی طاقتوں کی مداخلت نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ اس واقعے کی خبر سامنے آتے ہی پاکستانی حکام اور عوام میں شدید تشویش پھیل گئی اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے اپنی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات محسوس کرنا شروع کر دیے۔انیس سو اسی کی دہائی میں افغانستان دراصل سرد جنگ کی سیاست کا ایک اہم میدان بن چکا تھا۔ سوویت یونین نے ۱۹۷۹ء میں افغانستان میں فوجی مداخلت کی تھی اور اس کے بعد پورا ملک ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ سوویت حمایت یافتہ افغان حکومت اور مجاہدین کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی۔ اس جنگ نے نہ صرف افغانستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا بلکہ اس کے اثرات پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان، تک بھی مسلسل پہنچ رہے تھے۔پاکستان اس جنگ کے دوران ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ اس کی افغانستان کے ساتھ طویل اور پیچیدہ سرحد موجود ہے۔ اس سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں کو اکثر جنگی حالات کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کبھی گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتیں، کبھی راکٹ سرحدی علاقوں میں آ گرتے اور کبھی مہاجرین کے نئے قافلے پاکستان کی طرف آ جاتے۔ اسی پس منظر میں سات اپریل ۱۹۸۹ء کا میزائل واقعہ پیش آیا جس نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔اس وقت افغانستان کی حکومت کو سوویت یونین کی بھرپور فوجی اور مالی مدد حاصل تھی۔ سوویت یونین نے افغان افواج کو جدید ہتھیاروں، ٹینکوں، توپ خانے، جنگی طیاروں اور مختلف اقسام کے راکٹوں اور میزائلوں سے لیس کر دیا تھا۔ اسلحے کی اس بڑی مقدار نے جنگ کو مزید شدید اور خطرناک بنا دیا تھا۔ یہی ہتھیار مختلف محاذوں پر استعمال ہو رہے تھے اور بعض اوقات ان کے اثرات سرحد پار تک بھی محسوس کیے جاتے تھے۔سات اپریل ۱۹۸۹ء کو جب افغانستان کی سمت سے داغا گیا میزائل پاکستان کی حدود میں آ کر گرا تو اس واقعے نے فوری طور پر سیکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق میزائل سرحدی علاقے میں گرا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اگرچہ اس واقعے کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں، لیکن اس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ضرور کر دیا۔پاکستان پہلے ہی اس جنگ کے انسانی اور سماجی اثرات کا سامنا کر رہا تھا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لے چکے تھے اور ان کی میزبانی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی۔ مہاجرین کے ساتھ ساتھ سرحدی سیکیورٹی کے مسائل بھی بڑھ رہے تھے کیونکہ جنگی سرگرمیوں کے اثرات اکثر سرحد پار محسوس کیے جاتے تھے۔پاکستانی حکومت نے اس میزائل واقعے پر فوری ردعمل ظاہر کیا اور اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا سرحدی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے لیے مختلف اداروں کو ہدایات جاری کیں۔سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر پریشان کن تھی۔ ان علاقوں کے مکین پہلے ہی جنگی حالات کے سائے میں زندگی گزار رہے تھے۔ جب کبھی سرحد پار سے کوئی راکٹ یا میزائل آ کر گرتا تو مقامی آبادی میں خوف کی لہر دوڑ جاتی اور لوگ اپنے گھروں اور کھیتوں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل پڑتے۔اس واقعے کے بعد پاکستان کے دفاعی اداروں نے سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی۔ فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا اور فضائی نگرانی میں بھی اضافہ کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت پتا چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی حکام نے سرحدی علاقوں میں موجود چوکیوں کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات بھی کیے۔بین الاقوامی سطح پر بھی افغانستان کی جنگ کو بڑی توجہ حاصل تھی۔ امریکہ، سوویت یونین اور دیگر عالمی طاقتیں اس تنازع میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل تھیں۔ اسی وجہ سے افغانستان سے متعلق ہر اہم واقعہ عالمی میڈیا کی سرخی بن جاتا تھا اور مختلف ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ افغانستان میں جاری جنگ کے اثرات کو سرحد پار منتقل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے اہم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔سات اپریل کے میزائل واقعے نے اس خدشے کو مزید واضح کر دیا کہ اگر جنگی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں تو خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اور عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کیا۔
افغانستان کے اندرونی حالات اس وقت انتہائی پیچیدہ تھے۔ سوویت افواج کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود جنگ ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ مختلف سیاسی اور عسکری گروہ اقتدار کی جنگ میں مصروف تھے اور ملک کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا تھا۔سوویت یونین کی جانب سے افغانستان کو فراہم کیا گیا اسلحہ اس جنگ میں ایک اہم عنصر بن چکا تھا۔ ان ہتھیاروں کی بڑی مقدار ملک کے مختلف حصوں میں موجود تھی اور مختلف محاذوں پر استعمال ہو رہی تھی۔ یہی اسلحہ بعض اوقات سرحدی علاقوں میں کشیدگی کا سبب بھی بن جاتا تھا۔پاکستان میں اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی تھی۔ اخبارات اور ریڈیو پر اس واقعے کا ذکر کیا جا رہا تھا اور لوگ اس بات پر گفتگو کر رہے تھے کہ اگر سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی جنگ دراصل سرد جنگ کی عالمی سیاست کا حصہ بن چکی تھی۔ ایک طرف سوویت یونین افغان حکومت کی حمایت کر رہا تھا جبکہ دوسری طرف مجاہدین کو مختلف ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اس صورتحال نے افغانستان کو عالمی طاقتوں کے مقابلے کا میدان بنا دیا تھا۔پاکستانی حکام نے اس واقعے کے بعد سفارتی ذرائع سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھا جا سکے۔افغانستان میں جاری جنگ نے پورے خطے میں اسلحے کے پھیلاؤ کو بھی بڑھا دیا تھا۔ مختلف گروہوں کے پاس بھاری ہتھیار موجود تھے اور یہی ہتھیار بعض اوقات غیر متوقع واقعات کا سبب بن جاتے تھے۔سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے کئی برس تک اس جنگ کے اثرات کو برداشت کیا۔ بعض اوقات راکٹ یا گولے پاکستانی علاقوں میں آ گرتے جس سے نہ صرف خوف و ہراس پھیلتا بلکہ جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا تھا۔یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی تھی۔ اسی وجہ سے حکومت اور فوجی حکام نے سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی۔تاریخی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سات اپریل ۱۹۸۹ء کا یہ واقعہ افغانستان کی جنگ کے ان واقعات میں شمار ہوتا ہے جن کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے گئے۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ کسی بھی ملک میں جاری طویل جنگ پڑوسی ممالک کو بھی براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔بعد کے برسوں میں افغانستان کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں کئی تبدیلیاں آئیں، لیکن انیس سو اسی کی دہائی کے یہ واقعات خطے کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ یہ وہ دور تھا جب جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کی سیاست ایک بڑے جغرافیائی اور اسٹریٹجک کھیل کا حصہ بن چکی تھی۔
آج جب اس واقعے کو تاریخی تناظر میں دیکھا جاتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی تعاون، سفارتی حکمت عملی اور ذمہ دارانہ رویہ انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ جب بھی کسی ملک میں جنگ بھڑکتی ہے تو اس کے اثرات صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
Latest Posts
