عنوان :یتیم اور لے پالک بچوں میں فرق

از قلم :ندیم یعقوب گوہر
اسلامی معاشرت کی بنیاد عدل، سچائی اور انسانی ہمدردی پر استوار ہے۔ ان اقدار کے تحت یتیم اور لے پالک بچوں کے حقوق و فرائض کا ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے جو محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل شرعی ضابطہ ہے۔ عام طور پر ہمارے معاشرے میں ان دونوں اصطلاحات کو ایک ہی معنوں میں لیا جاتا ہےحالانکہ شرعی اعتبار سے ان کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ یتیم وہ بچہ ہے جس کا سایہِ پدری اس کے بالغ ہونے سے قبل اٹھ جائے جبکہ لے پالک وہ بچہ ہے جسے کوئی شخص اپنی پرورش میں لے لے چاہے اس کے والدین زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ اسلام ان دونوں کی کفالت کی بے حد حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ خاندانی نظام کی شفافیت اور نسب کی حفاظت پر کڑی نظر رکھتا ہے۔
قرآن مجید نے یتیموں کے حقوق کے حوالے سے انتہائی سخت اور تاکیدی احکامات صادر فرمائے ہیں۔ سورۃ النساء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ دراصل اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ یہ وعید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یتیم کے مال اور اس کے حقوق کی پامالی اللہ کے نزدیک ایک سنگین جرم ہے۔ اسی طرح یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایک عظیم نیکی قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ارشاد فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح قریب ہوں گے۔ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ یتیم کی پرورش محض ایک سماجی بوجھ نہیں بلکہ جنت کے حصول کا ایک مختصر ترین راستہ ہے۔ اسلام یتیم کے ساتھ صرف مالی ہمدردی کا قائل نہیں بلکہ اسے نفسیاتی تحفظ دینے کے لیے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے اور اسے اپنے دسترخوان کا حصہ بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
لے پالک بچوں کے حوالے سے اسلام کا نقطہ نظر “سچائی” پر مبنی ہے۔ زمانہِ جاہلیت میں لے پالک کو سگی اولاد کا درجہ دے کر اس کا نسب تبدیل کر دیا جاتا تھا جسے اسلام نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ سورۃ الاحزاب میں واضح حکم دیا گیا کہ ان بچوں کو ان کے اصل باپوں کے نام سے ہی پکارو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا نام اس کی اصل جڑوں سے جڑا رہے تاکہ وراثت، نکاح اور محرمیت کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ لے پالک بچہ اگرچہ گھر کا فرد بن کر رہتا ہے لیکن وہ شرعی طور پر گود لینے والے کا وارث نہیں بنتا اور نہ ہی گود لینے والے والدین اس کے مال کے وارث ہوتے ہیں۔ تاہم، اسلام نے اس معاشی محرومی کا حل “ہبہ” اور “وصیت” کی صورت میں فراہم کیا ہے، جہاں ایک شخص اپنی زندگی میں یا اپنی وفات کے بعد ایک تہائی مال تک کی وصیت اس بچے کے حق میں کر سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ان احکامات کے حوالے سے کئی افراط و تفریط پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو یتیموں کے مال پر قابض ہو جاتے ہیں اور ان کے حقوق پامال کرتے ہیں، جو صریحاً قرآن کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری طرف لے پالک بچوں کے معاملے میں معاشرتی رویہ یہ ہے کہ حقائق کو چھپایا جاتا ہے اور اکثر اوقات بچے کو اس کی اصل ولدیت سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ جب ایسے بچے کو بلوغت یا شادی کے موقع پر اپنی اصلیت کا علم ہوتا ہے تو وہ شدید نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرتی دباؤ اور “لوگ کیا کہیں گے” کے ڈر سے ہم اکثر ان شرعی حدود کو پار کر جاتے ہیں جو اللہ نے نسب کی حفاظت کے لیے مقرر کی ہیں۔ اسی طرح محرمیت اور پردے کے مسائل کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے “رضاعت” (دودھ پلانے) کا ایک خوبصورت حل دیا ہے جس کے ذریعے یہ بچے خاندان کے محرم افراد بن سکتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ یتیم اور لے پالک بچے معاشرے کا وہ حصہ ہیں جنہیں خصوصی توجہ اور محبت کی ضرورت ہے۔ یتیم کے معاملے میں امانت داری اور شفقت کو ترجیح دی جانی چاہیےجبکہ لے پالک کے معاملے میں سچائی اور اس کی اصل شناخت کا احترام لازم ہے۔ ہمارا معاشرہ تب ہی ایک حقیقی اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے جب ہم ان بچوں کو ان کی حقیقت کے ساتھ قبول کریں، انہیں اپنی اولاد کی طرح پیار دیں مگر ان کے شرعی مقام اور نسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ وراثت کے معاملے میں ان کا حقِ ہبہ تسلیم کرنا اور انہیں معاشرے کا بااعتماد فرد بنانا ہم سب کی دینی اور ملی ذمہ داری ہے۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت انسانیت کا زیور ہے بشرطیکہ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر کی جائے۔
اسلامی معاشرت میں یتیم اور لے پالک بچوں کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو ان کی نفسیاتی آبیاری اور سماجی مقام کا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے جہاں ان کے مادی حقوق (روٹی، کپڑا، مکان) کا تحفظ کیا وہیں ان کی روح اور عزتِ نفس کو بھی ایک خاص وقار عطا کیا ہے۔ اکثر ہمارے معاشرے میں لے پالک بچے کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ “احسان مند” ہے جبکہ قرآن کریم کی روح کے مطابق یہ پالنے والے کی خوش بختی ہے کہ اسے ایک انسان کی زندگی سنوارنے کا موقع ملا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے: “وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ” (سورۃ البقرہ: 220)، یعنی “وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ ان کی (حالت کی) اصلاح کرنا ہی بہتر ہے۔” یہاں “اصلاح” کا لفظ بہت جامع ہے، جس میں ان کی تعلیم، اخلاق، مال کی بہتری اور ان کے مستقبل کی منصوبہ بندی سب شامل ہیں۔ اسی طرح، احادیثِ مبارکہ میں یتیم کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو ایک انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے تین یتیموں کی کفالت کی، وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے ساری رات نماز پڑھی اور تمام دن روزے رکھے۔
معاشرتی سطح پر ایک بڑی رکاوٹ “نسب کا جھوٹا فخر” ہے۔ بعض اوقات لوگ یتیم یا لے پالک بچے کو اس لیے نہیں اپناتے کہ وہ ان کی “خاندانی برتری” کے معیار پر پورا نہیں اترتایا پھر اسے اپنا کر اس کا نسب چھپا دیتے ہیں۔ اسلام اس دوغلے پن کو ختم کرتا ہے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ تقویٰ اور کردار ہی عزت کا معیار ہیں۔ جب ایک لے پالک بچہ یہ جان کر بڑا ہوتا ہے کہ اس کے والدین نے اسے خون کے رشتے کے بغیر محض اللہ کی رضا کے لیے اپنایا ہے، تو اس کے اندر معاشرے کے لیے نفرت کے بجائے محبت پیدا ہوتی ہے۔
ایک اور نازک پہلو بلوغت کے بعد کے مسائل ہیں۔ معاشرہ اکثر پردے اور وراثت کے شرعی احکامات کو “جذباتی” رنگ دے کر نظر انداز کر دیتا ہے، جو بعد میں خاندانی جھگڑوں اور شرعی گناہوں کا سبب بنتے ہیں۔ اگر بچپن میں ہی “رضاعت” کا اہتمام کر لیا جائے تو یہ مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وراثت میں حصہ نہ ہونے کے باوجود، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اس بچے کے لیے ایک باعزت معاشی سہارا (ہبہ کی صورت میں) فراہم کر دیں تاکہ ان کے بعد وہ بچہ دوبارہ بے سہارا نہ ہو جائے۔
خلاصہ یہ کہ یتیم اور لے پالک بچوں کی کفالت محض ایک “امدادی کام” نہیں بلکہ ایک “روحانی سرمایہ کاری” ہے۔ اگر ہم قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ان کی شناخت کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں اپنی محبتوں میں شریک کر لیں تو ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں کوئی بچہ خود کو اکیلا یا اپنی شناخت سے محروم محسوس نہ کرے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow