از قلم: ریحانہ شاہ
ہمارے ملک میں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا ہے تو سب سے آسان حل یہ سمجھا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں لیکن کیا واقعی تعلیمی اداروں کو بند کر دینا ہی ہر مسئلے کا حل ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
حال ہی میں جب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اس کا اثر کم کرنے کے لیے سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، حالانکہ اس کے بجائے ایسے سرکاری اداروں یا افراد کے غیر ضروری اخراجات کم کیے جا سکتے تھے جو اپنی حفاظت یا دیگر کاموں کے لیے متعدد گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔
تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے بجائے، ہر آنے والی مصیبت میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو ہی بند کر دیا جاتا ہے۔
کیا یہ فیصلہ ہمارے نوجوانوں کے لیے بہتر ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ آج کا نوجوان پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور بھاگ رہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کے غیر دانش مندانہ فیصلے انہیں مزید تعلیم سے دور کر رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھے۔ ہر چھوٹی بڑی بات پر تعلیمی اداروں کو بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد تعلیم ہی ہوتی ہے۔
تعلیم یافتہ نوجوان ہی دراصل کسی ملک کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم تعلیمی اداروں کو بار بار بند کرتے رہیں گے تو ہم خود ہی اپنے نوجوانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے جائیں گے۔ اس لیے ہمیں تعلیم کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ تعلیمی نظام کو بہتر بنانا چاہیے اور طلبہ کو ہر طرح کے تعلیمی مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ نوجوان نسل اچھی تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کا نام روشن کرے اور اپنے کردار کو سنوار سکے۔
Latest Posts
