تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
برطانیہ میں پیش آنے والے ایک نہایت دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس اندوہناک سانحے میں ایک شخص نے اپنی ہی بیوی کو بے دردی سے قتل کر کے اس کی لاش گھر کے صحن میں دفن کر دی اور پھر انتہائی چالاکی کے ساتھ دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ زندہ ہے اور اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر کہیں چلی گئی ہے۔ جب اس واقعے کی تفصیلات منظرِ عام پر آئیں تو لوگوں میں شدید غم و غصہ، حیرت اور خوف کی فضا پھیل گئی اور ہر طرف اس افسوسناک جرم کا چرچا ہونے لگا۔یہ افسوسناک واقعہ برطانیہ کے شہر Cardiff میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے اپنی علیحدہ رہنے والی بیوی کے خلاف ایسا ہولناک جرم کیا جس نے پورے علاقے کو لرزا کر رکھ دیا۔ مقامی افراد کے مطابق یہ ایک نسبتاً پرسکون علاقہ تھا جہاں اس قسم کے سفاکانہ واقعات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر اس سانحے نے ثابت کر دیا کہ بعض اوقات خطرناک حقیقتیں بظاہر عام زندگی کے پردے کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں۔اس کیس میں شامل دونوں افراد اصل میں ایران سے تعلق رکھتے تھے اور بعد میں برطانیہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ ملزم Alireza Askari اور مقتولہ Paria Veisi کے درمیان کوئی بچے نہیں تھے، اور ان کے درمیان علیحدگی کے وقت تعلقات پہلے ہی خراب ہو چکے تھے، جو بالآخر اس افسوسناک انجام تک پہنچے۔پولیس کے مطابق 42 سالہ Alireza Askari نے اپنی 37 سالہ بیوی Paria Veisi کو چاقو کے متعدد وار کر کے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی کے درمیان کافی عرصے سے اختلافات چل رہے تھے اور وہ علیحدہ رہ رہے تھے، تاہم کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ گھریلو تنازع اس قدر سنگین اور ہولناک انجام تک پہنچ جائے گا۔تحقیقات کے مطابق قتل کے فوراً بعد ملزم نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے انتہائی سوچ سمجھ کر اقدامات کیے۔ اس نے مقتولہ کی لاش کو اسی گھر کے صحن میں دفن کر دیا جہاں دونوں کبھی ایک ساتھ زندگی گزارا کرتے تھے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں کبھی خوشیوں اور یادوں کا مسکن تھا، مگر اسی جگہ کو بعد میں ایک خوفناک راز چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق لاش کو دفنانے کے بعد ملزم نے قبر کے اوپر مٹی ڈال کر اسے برابر کر دیا اور پھر وہاں پھول اور پودے لگا دیے تاکہ یہ ایک عام باغیچے کا حصہ معلوم ہو۔ اس چالاکی کا مقصد یہ تھا کہ کوئی بھی شخص اس جگہ کو دیکھ کر شک نہ کرے اور اس کے جرم کا سراغ نہ لگ سکے۔مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ قبر دراصل ایک عارضی گڑھا تھا جسے جلدی میں کھود کر لاش کو چھپایا گیا تھا۔ ملزم کو یہ یقین تھا کہ اگر وہ لاش کو گھر کے اندر یا آس پاس ہی دفن کر دے گا تو پولیس کو کبھی شک نہیں ہو گا اور اس کا یہ بھیانک راز ہمیشہ کے لیے زمین کے نیچے دفن ہو جائے گا۔
قتل کے بعد ملزم نے ایک اور چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے مقتولہ کے موبائل فون کو استعمال کرتے ہوئے اس کے کام کی جگہ یعنی سیلون کے مالک کو پیغام بھیجا۔ اس پیغام میں لکھا گیا کہ وہ ایک طبی مسئلے کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے ایران جا رہی ہے اور ایک یا دو ماہ تک واپس نہیں آئے گی۔یہ پیغام دراصل ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ پاریا کے دوستوں، ساتھیوں اور جاننے والوں کو یقین ہو جائے کہ وہ زندہ ہے اور صرف عارضی طور پر بیرون ملک گئی ہوئی ہے، تاکہ کوئی بھی اس کی گمشدگی کے بارے میں فوری طور پر سوال نہ اٹھائے۔تحقیقات کے دوران پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم نے پاریا ویسی کی گاڑی کو بھی گھر سے دور منتقل کر دیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ پاریا خود ہی کہیں چلی گئی ہے اور اس کی گمشدگی میں کسی قسم کا جرم شامل نہیں ہے۔
کچھ عرصے تک واقعی یہی تاثر قائم رہا کہ پاریا شاید کسی سفر پر گئی ہوئی ہے۔ تاہم جیسے جیسے دن گزرتے گئے اور اس کی طرف سے کوئی براہِ راست رابطہ نہ ہوا تو اس کے دوستوں اور قریبی افراد کے دل میں تشویش بڑھنے لگی۔پاریا ویسی کی ایک قریبی دوست کو خاص طور پر اس کی اچانک خاموشی اور غیر معمولی گمشدگی پر شدید شک ہوا۔ اس دوست کا کہنا تھا کہ پاریا کبھی بھی اس طرح بغیر اطلاع کے اتنے عرصے کے لیے غائب نہیں رہ سکتی تھی، اسی لیے اسے محسوس ہوا کہ اس معاملے کے پیچھے کوئی سنگین راز چھپا ہوا ہے۔اسی خدشے کے پیش نظر اس دوست نے پولیس سے رابطہ کیا اور پاریا کی گمشدگی کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس اطلاع کے بعد پولیس نے فوری طور پر اس کیس کو سنجیدگی سے لیا اور باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔پولیس نے ابتدائی طور پر پاریا کے موبائل فون ریکارڈز، پیغامات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔ جلد ہی تفتیش کاروں کو یہ احساس ہونے لگا کہ معاملہ محض ایک عام گمشدگی کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے ممکنہ طور پر ایک سنگین جرم چھپا ہوا ہے.تحقیقات کے دوران پولیس نے ملزم کے گھر اور اس کے اردگرد کے علاقے کا تفصیلی معائنہ کیا۔ جب افسران گھر کے صحن تک پہنچے تو انہیں زمین کے ایک حصے کی حالت کچھ غیر معمولی محسوس ہوئی۔زمین کی ساخت اور تازہ مٹی کو دیکھ کر پولیس کو شک ہوا کہ یہاں حال ہی میں کھدائی کی گئی ہے۔ اس کے بعد پولیس نے اس جگہ کی کھدائی کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت تک پہنچا جا سکے۔جب کھدائی شروع کی گئی تو کچھ ہی دیر میں ایک ہولناک حقیقت سامنے آ گئی۔ زمین کے نیچے سے ایک لاش برآمد ہوئی جسے بعد میں شناخت کے بعد پاریا ویسی قرار دیا گیا۔لاش ملنے کے بعد پورے علاقے میں خوف اور صدمے کی فضا پھیل گئی۔ پڑوسیوں اور مقامی افراد کے لیے یہ بات یقین کرنا مشکل تھا کہ ان کے آس پاس رہنے والا ایک شخص اتنا سنگین اور سفاک جرم کر سکتا ہے۔پولیس نے فوری طور پر الیریزا عسکری کو گرفتار کر لیا اور اس سے تفصیلی تفتیش کی گئی۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور حقائق نے اس کے خلاف مقدمہ مزید مضبوط بنا دیا۔عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے تفصیل سے بتایا کہ ملزم نے نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی بیوی کو قتل کیا اور پھر اس جرم کو چھپانے کے لیے متعدد چالاکیاں کیں۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد نے اس بات کو واضح کر دیا کہ یہ قتل اچانک نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس جرم کو انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز قرار دیا۔ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے نہ صرف ایک انسان کی جان لی بلکہ سچ کو چھپانے کے لیے دھوکہ دہی اور فریب کا بھی سہارا لیا۔بالآخر عدالت نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ اسے کم از کم چھبیس سال جیل میں گزارنے ہوں گے۔ اس مدت کے بعد ہی اس کی ممکنہ رہائی کے بارے میں قانونی طور پر غور کیا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ برطانیہ میں گھریلو تشدد اور خاندانی تنازعات کے حوالے سے ایک سنگین یاد دہانی کے طور پر سامنے آیا۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے معاشرے میں شعور بیدار کرنا اور بروقت مدد فراہم کرنا بے حد ضروری ہے۔پاریا ویسی کی موت نے اس کے خاندان، دوستوں اور جاننے والوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ اسے ایک خوش اخلاق، محنتی اور زندہ دل خاتون کے طور پر یاد کرتے ہیں جو اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور بہتر مستقبل بنانے کے خواب رکھتی تھی۔یہ سانحہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ بعض اوقات قریبی رشتوں کے پیچھے چھپی ہوئی کشیدگیاں کس قدر خطرناک انجام تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس لیے معاشرے کو چاہیے کہ ایسے مسائل کو سنجیدگی سے لے اور متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کرے۔برطانیہ میں پیش آنے والا یہ دل دہلا دینے والا واقعہ طویل عرصے تک لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہے گا۔ یہ ایک ایسا المناک سانحہ ہے جو نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک تلخ سبق بن گیا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ انصاف اور سچ بالآخر سامنے آ ہی جاتا ہے۔
Latest Posts
