محمد اختر انجم
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام محض اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایک فلاحی ریاست کا تصور یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کی ڈھال بنے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سماجی تحفظ کے نام پر رائج نظام خود کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
حال ہی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مراکز پر رقم کے حصول کے لیے آنے والی خواتین کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک حادثہ جہاں بدنظمی اور ہجوم کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اس بوسیدہ نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمیں بطور معاشرہ اور بطور ریاست آئینہ دکھا رہا ہے کہ ہمارے سماجی تحفظ کا نظام کس قدر کمزور ہو چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سماجی امدادی پروگراموں کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو، وہاں بیوائیں، یتیم بچے اور نادار خاندان ریاست کی خصوصی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ امداد ان تک شفافیت اور عزتِ نفس کے ساتھ پہنچ رہی ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت امداد کی تقسیم کا طریقہ کار غریب کی ضرورت پوری کرنے سے زیادہ اس کی تذلیل کا باعث بن رہا ہے۔
عملی طور پر اس نظام میں کئی سنگین خامیاں سرایت کر چکی ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ مستحقین کے انتخاب کا ہے۔ سیاسی وابستگی، اقربا پروری اور ناقص ڈیٹا بیس کی وجہ سے اکثر وہ لوگ فہرستوں میں جگہ بنا لیتے ہیں جو صاحبِ ثروت ہوتے ہیں، جبکہ اصل حقدار سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ کر تھک ہار جاتے ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ تقسیمِ زر کے دوران ہونے والی بدعنوانی ہے۔ نقد رقم نکالنے کے عمل میں ایجنٹ مافیا اور بعض اوقات عملہ خود ان مجبور خواتین سے “کمیشن” کے نام پر کٹوتی کرتا ہے۔ یوں جو قلیل امداد ان کے لیے مختص ہوتی ہے، وہ بھی ان تک پوری نہیں پہنچ پاتی۔
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ مناظر ہیں جو ہم روزانہ ٹی وی اسکرینوں پر دیکھتے ہیں۔ معمر خواتین، جن میں سے اکثر بیمار یا معذور ہوتی ہیں، کڑکتی دھوپ یا سخت سردی میں گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑی رہتی ہیں۔ ایک خوددار معاشرے میں چند ہزار روپوں کے عوض اپنی ماؤں بہنوں کو اس طرح سڑکوں پر رُلانا کسی صورت موزوں نہیں۔ حکومت کی ذمہ داری صرف پیسے بانٹنا نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے وقار کا تحفظ کرنا بھی ہے۔
اگر ریاست واقعی عوام کی تقدیر بدلنا چاہتی ہے، تو اسے “خیرات” کے بجائے “خودمختاری” کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ دنیا بھر کے معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نقد امداد وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے مگر غربت کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ مستقل حل صرف اور صرف باعزت روزگار میں پنہاں ہے۔ جب ایک فرد کے ہاتھ میں ہنر ہوتا ہے اور اسے کام کے مواقع ملتے ہیں، تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے بلکہ قومی معیشت میں پیداواری اکائی بن کر حصہ ڈالتا ہے۔
اس ضمن میں پنجاب حکومت کی جانب سے دیہی غریب اور بیوہ خواتین کے لیے مویشی پالنے کا منصوبہ ایک مثبت اور قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔ اگر اس طرح کے منصوبوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے مکمل شفافیت کے ساتھ نافذ کیا جائے، تو یہ معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک جانور محض ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا کاروبار ہے، جو دودھ کی صورت میں گھر کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور اضافی آمدن کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ جبکہ شہری علاقوں میں خواتین کو چھوٹی گھریلو صنعتوں، سلائی کڑھائی کے مراکز اور بلاسود قرضوں کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور بنیادی پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ فنی تعلیم اور ہنرمندی کا فروغ ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جو تعلیم مکمل کرنے کے باوجود کسی ہنر سے محروم ہوتے ہیں، جس کے باعث وہ روزگار کے مواقع حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر حکومت فنی تربیت کے اداروں کو مضبوط کرے، نوجوانوں اور خواتین کو جدید ہنر سکھائے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو فروغ دے تو یہی افراد ملک کی معیشت کے لیے بوجھ بننے کے بجائے ایک طاقت بن سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے ہنرمند افرادی قوت کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنایا ہے، اور پاکستان بھی اس راستے کو اختیار کر کے غربت کے مسئلے کو بڑی حد تک کم کر سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، جہاں نقد امداد دینا ناگزیر ہو، وہاں ہمیں دورِ جدید کے تقاضوں کو اپنانا ہوگا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، تو خواتین کو مراکز پر بلا کر ذلیل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ براہِ راست بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹس جیسے ایزی پیسہ اور جیز کیش، بائیومیٹرک اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقم کی منتقلی کو سو فیصد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف قطاروں اور بدنظمی کا خاتمہ ہوگا بلکہ کرپشن کا راستہ بھی ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔
ہمیں اپنی سوچ کا رخ تبدیل کرنا ہوگا۔ ہم غربت کو ختم کرنے کے بجائے اسے “سہارا” دینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ امدادی رقوم وہ بیساکھیاں ہیں جو انسان کو چلنا تو نہیں سکھاتیں مگر اسے محتاج ضرور بنا دیتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت سماجی بہبود کے پورے ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ تعلیم، فنی تربیت اور چھوٹے کاروبار کے فروغ کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ ہمیں ایسے پاکستان کی بنیاد رکھنی ہے جہاں ہر شہری سر اٹھا کر باعزت زندگی گزار سکے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم امداد کے کلچر کو خیرباد کہہ کر ایسے نظام کی بنیاد رکھیں جہاں شہری ہاتھ پھیلانے والے نہیں بلکہ اپنے ہنر اور محنت سے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے والے بنیں۔
Latest Posts
