موضوع ، نوجوان نسل اور قومی ذمہ داری

تحریر، محمد سکندر کونیسی
نوجوان نسل کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور جب یہ ریڑھ کی ہڈی کمزور پڑ جائے تو پورا جسم جھک جاتا ہے۔ پاکستان میں آج جو صورتِ حال ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہمارے نوجوان ذہین اور محنتی ہیں، خوابوں سے بھرے ہیں، لیکن انہیں وہ پلیٹ فارم نہیں مل رہا جس پر کھڑے ہو کر وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں جس طرح ایک باغبان کی غفلت سے پھول مرجھا جاتے ہیں، اسی طرح ریاستی توجہ کے بغیر ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں ،ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ہمارا طالبِ علم ڈگری لیتا ہے اور پھر روزگار کے لیے دفتروں کے چکر لگاتا ہے۔ یہ نظام اسے جمود سکھاتا ہے، تخلیق نہیں۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو زندگی کی حقیقی ضروریات سے جوڑا ہے۔ فن لینڈ میں بچے کو پہلے دن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ مسئلہ کیسے حل کرنا ہے۔ جنوبی کوریا نے اپنے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کا ہتھیار دے کر دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو چیلنج کیا۔ سنگاپور نے صرف پچاس سال میں ایک چھوٹے سے جزیرے کو دنیا کا مالیاتی مرکز بنا دیا، اور اس کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کا تعلیمی نظام ہے جو ہر بچے کو سوچنے، بنانے اور آگے بڑھنے کی تربیت دیتا ہے،پاکستان کے نوجوان کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اسے والدین، سماج اور ریاست تینوں طرف سے ایک ہی پیغام ملتا ہے: ڈاکٹر بنو، انجینئر بنو یا سرکاری ملازمت حاصل کرو۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ کاروبار کرو، ایجاد کرو، فن سیکھو، زراعت کو جدید بناؤ یا ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کی خدمت کرو۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کے ذہنوں کو ایک تنگ خانے میں قید کر دیا ہے، جبکہ دنیا ایک کھلے میدان میں دوڑ رہی ہے۔ جب تک ہم اس ذہنیت کو نہیں بدلیں گے، ہمارا نوجوان کبھی اپنی اصل صلاحیت تک نہیں پہنچ سکے گا،آج کا نوجوان نہ صرف محدود سوچ کا شکار ہے بلکہ وہ مختلف قسم کے اخلاقی اور سماجی مسائل میں بھی گھرا ہوا ہے۔ جرائم میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، سماج میں اخلاقی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں، اور تہذیبی شعور ماند پڑتا جا رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام نوجوانوں کو وہ تربیت نہیں دے رہا جس کی انہیں زندگی میں حقیقی ضرورت ہے۔ تعلیم محض امتحان پاس کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کردار سازی، شعور اور ذمہ داری کا نام ہے۔ جب تک تعلیم روحِ انسانی کو سنوارنے کا ذریعہ نہیں بنے گی، سماجی بگاڑ جاری رہے گا،ہماری نوجوان خواتین کا کردار اس پورے مسئلے میں نہایت اہم ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرتی ہیں، ذہانت رکھتی ہیں اور محنت کرنا چاہتی ہیں، لیکن انہیں اکثر سماجی دباؤ، روایتی سوچ اور مواقع کی کمی کی وجہ سے گھر کی چار دیواری تک محدود کر دیا جاتا ہے حالانکہ جو قومیں اپنی خواتین کو آگے لاتی ہیں، وہ دوگنی رفتار سے ترقی کرتی ہیں، کیونکہ وہ اپنی پوری آبادی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ آدھی آبادی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنے کی سوچ بذاتِ خود ایک المیہ ہے،آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، کوڈنگ، گرافک ڈیزائن اور فری لانسنگ وہ شعبے ہیں جن میں دنیا بھر میں کھربوں روپے کا کاروبار ہو رہا ہے۔ ان شعبوں میں کام کرنے کے لیے کسی بڑی عمارت یا بھاری سرمائے کی ضرورت نہیں، صرف ایک ہنر مند دماغ اور ایک لیپ ٹاپ کافی ہے، پاکستان کے نوجوانوں میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان آج فری لانسنگ میں دنیا کے ابھرتے ہوئے ممالک میں شامل ہے، لیکن یہ کامیابی سرکاری سرپرستی سے نہیں بلکہ ذاتی کوشش اور خودی کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔ اگر ریاست اس شعبے پر سنجیدگی سے توجہ دے تو یہ نوجوان ملک کے لیے اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں ہمارے نوجوانوں میں مایوسی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں نتائج نظر نہیں آتے جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ کامیابی میرٹ سے نہیں بلکہ سفارش اور اقربا پروری سے ملتی ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ ایمانداری سے کام کرنے والا پیچھے رہتا ہے اور چالاکی سے کام کرنے والا آگے نکل جاتا ہے، تو اس کے اندر کا جذبہ مر جاتا ہے اس نظام کو بدلنا ہوگا، میرٹ کو زندہ کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس ملک میں محنت رنگ لاتی ہے،پاکستان کو آج ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں ریاست، سماج، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر یہ عہد کریں کہ ہمارا نوجوان ضائع نہیں ہوگا۔ ہر ضلع میں جدید تکنیکی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں، ہر یونیورسٹی میں کاروباری ذہانت کو پروان چڑھانے کے مراکز ہوں، ہر اسکول میں تخلیقی سوچ کی تربیت دی جائے، اور ہر نوجوان کو یہ احساس ہو کہ اس کا ملک اس کے ساتھ کھڑا ہے تبھی وہ دن آئے گا جب پاکستان کا نوجوان دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا ہوگا اور کہے گا میں اس قوم کا فرزند ہوں جو کبھی ہارتی نہیں.

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow