راولپنڈی میرا شہر

ندیم یعقوب گوہر
راولپنڈی محض ایک شہر نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی، دفاعی اور جغرافیائی تاریخ کا ایک ایسا جیتا جاگتا استعارہ ہے جس کی تہوں میں لاکھوں سال پرانی سواں تہذیب سے لے کر جدید ریاست کے قیام تک کی کہانیاں دفن ہیں۔ پوٹھوہار کی اس سنگلاخ لیکن مردم خیز زمین نے ہمیشہ وقت کے دھارے کا رخ موڑا ہے۔ جب ہم ہمالیہ کے دامن میں واقع اس شہر کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ قدیم دور میں گندھارا تہذیب کا ایک اہم حصہ تھا، جہاں ٹیکسلا کی علمی روشنی پوری دنیا کو منور کرتی تھی۔ پندرھویں صدی میں گکھڑ قبیلے کے سردار جھنڈا خان نے جب اس بستی کی بنیاد رکھی تو شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ “راول” قوم کے نام سے منسوب یہ “پنڈی” ایک دن برصغیر کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا مرکز بن جائے گی۔ مغلیہ دور کی وفاداریوں سے لے کر سکھوں کی یلغار تک، اس شہر نے ہر رنگ دیکھا لیکن اس کی اصل شناخت برطانوی دور میں اس وقت ابھری جب انگریزوں نے اس کی تزویراتی اہمیت کو بھانپتے ہوئے یہاں جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی قائم کی۔ یہی وہ وقت تھا جب راولپنڈی ایک روایتی قصبے سے نکل کر ایک منظم عسکری اور تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا شروع ہوا۔
‎سیاسی طور پر راولپنڈی ہمیشہ سے ایک “کنگ میکر” کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ اسلام آباد کی چمک دمک اور ایوانوں کی سیاست کا اصل رخ اکثر پنڈی کے ان محلوں اور باغوں میں طے پاتا ہے جہاں عوام کا جمِ غفیر اپنے قائدین کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے امڈ آتا ہے۔ لیاقت باغ کی وہ تاریخی فصیلیں اگر بول سکتیں تو وہ بتاتیں کہ انہوں نے پاکستان کی تقدیر بنتے اور بگڑتے دیکھی ہے۔ یہ شہر احتجاج کا وہ استعارہ ہے جو جب انگڑائی لیتا ہے تو پورے ملک کی سیاست میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سیاسی تلاطم کے باوجود پنڈی کا ایک رخ نہایت پرسکون اور علمی بھی ہے۔
‎جغرافیائی طور پر راولپنڈی قدرت کا ایک خاص شاہکار ہے جو سطح مرتفع پوٹھوہار کے عین قلب میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں مارگلہ کی دلکش پہاڑیاں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہے، جبکہ جنوب میں جہلم اور چکوال کے زرخیز لیکن بارانی قطعاتِ زمین ہیں۔ مشرق میں مری اور کہوٹہ کے پہاڑی سلسلے اسے ایک قدرتی دفاعی حصار فراہم کرتے ہیں۔ نالہ لئی، جو اب محض ایک آبی گزرگاہ لگتا ہے، کبھی اس شہر کی خوبصورتی کا ضامن تھا اور آج بھی یہ شہر کے وسط سے گزرتے ہوئے اس کے جغرافیے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہاں کی زمین میں موجود ریتلے پتھر اور ڈھلوانیں اسے پنجاب کے میدانی شہروں سے بالکل مختلف بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی زراعت کا دارومدار نہروں کے بجائے آسمانی بارشوں پر ہے، جہاں گندھاری گندم اور پوٹھوہاری مونگ پھلی اپنی مٹھاس کے لیے پورے ملک میں مشہور ہے۔ یہاں کا موسم بھی اپنی مثال آپ ہے؛ جہاں مری کی سرد ہوائیں اسے ٹھنڈک بخشتی ہیں، وہیں جولائی کی مون سون بارشیں نالہ لئی میں طغیانی لا کر اس کے جاہ و جلال کا احساس دلاتی ہیں۔
‎آبادی کے لحاظ سے راولپنڈی ایک “منی پاکستان” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 60 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل یہ ضلع مختلف لسانی اور ثقافتی گروہوں کا مسکن ہے۔ اگرچہ یہاں کی اصل پہچان پوٹھوہاری زبان کی مٹھاس ہے، لیکن اردو، پنجابی اور پشتو کا ملاپ اسے ایک ہمہ گیر رنگ دیتا ہے۔ شہر کے اندرونی حصے جیسے راجہ بازار، گوالمنڈی اور نمک منڈی اپنی گنجانیت اور چوبیس گھنٹے کی گہما گہمی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ دوسری طرف کینٹ کا علاقہ اپنے ڈسپلن اور کشادہ سڑکوں کی وجہ سے ایک الگ دنیا معلوم ہوتا ہے۔ یہاں کی آبادی میں ایک بڑا حصہ ان لوگوں کا ہے جن کا تعلق دفاعی اداروں سے ہے، جس کی وجہ سے شہر کے مزاج میں ایک خاص قسم کا نظم و ضبط اور حب الوطنی رچی بسی ہے۔ یہاں کی علمی فضائیں بھی کسی سے کم نہیں؛ فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی تاریخی عمارت ہو یا گورنمنٹ گارڈن کالج کی قدیم دیواریں، ہر جگہ سے علم کی خوشبو آتی ہے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کے میدان میں بھی راولپنڈی کے اداروں نے ملک کو بہترین دماغ فراہم کیے ہیں۔
‎پنڈی کے باسی جدیدیت کی دوڑ میں اپنی روایتی جڑوں کو نہیں بھولے۔ اسی طرح یہاں کے تعلیمی اداروں نے، چاہے وہ گورنمنٹ کالج اصغر مال ہو یا فاطمہ جناح یونیورسٹی، ہمیشہ متوسط طبقے کے خوابوں کو تعبیر دی ہے۔ یہ شہر ان محنتی ہاتھوں کا ہے جو صبح سویرے اڈہ پیرودھائی سے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اور ان جوانوں کا ہے جو چکلالہ کے میدانوں میں وردی پہن کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ راولپنڈی دراصل ان متضاد رنگوں کا ایک ایسا خوبصورت امتزاج ہے جو اسے پاکستان کا سب سے زیادہ متحرک اور جاندار شہر بناتا ہے۔
‎معروف مقامات کی بات کی جائے تو راولپنڈی اپنے اندر تاریخ کے کئی ورق سمیٹے ہوئے ہے۔ لیاقت باغ صرف ایک تفریحی پارک نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ مقتل ہے جہاں لیاقت علی خان اور بینظیر بھٹو جیسی شخصیات نے وطن کی خاطر جان دی۔ راولپنڈی اندرون شہر اپنی مخصوص طرزِ تعمیر کے ساتھ پرانے شہر کی عظمتِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔ ایوب نیشنل پارک اور جناح پارک جیسے مقامات جہاں شہریوں کو سانس لینے کی جگہ فراہم کرتے ہیں، وہیں صدر کی برطانوی دور کی عمارات اور راجہ بازار کی “بھول بھلیاں” سیاحوں کے لیے تجسس کا باعث بنتی ہیں۔ کھانے پینے کے شوقین افراد کے لیے اسٹیڈیم ڈبل روڈ۔ کرتار پورہ کی فوڈ اسٹریٹ وہ مقام ہے جہاں کی نہاری اور پائے کی خوشبو دور دور سے لوگوں کو کھینچ لاتی ہے۔ اس کے علاوہ آرمی میوزیم اور گولڑہ ریلوے میوزیم جیسے مقامات ہمیں ماضی کے سفر پر لے جاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے ہیں۔
‎پاکستان کی مجموعی حیثیت میں راولپنڈی کا مقام وہی ہے جو انسانی جسم میں شہ رگ کا ہوتا ہے۔ اسے “پاور ہاؤس” کہنا غلط نہ ہوگا کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج کا ہیڈ کوارٹر (GHQ) یہاں ہونے کی وجہ سے یہ شہر ملکی دفاع کا اعصابی مرکز ہے۔ جب بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آیا یا سرحدوں پر بادل گرجے، فیصلے اسی شہر میں ہوئے اور قوم کی نظریں ہمیشہ یہیں لگی رہیں۔
‎یہ شہر ملکی دفاع کا اعصابی مرکز ہے۔ جب بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آیا یا سرحدوں پر بادل گرجے، فیصلے اسی شہر میں ہوئے اور قوم کی نظریں ہمیشہ یہیں لگی رہیں۔ اسلام آباد کے ساتھ جڑا ہونے کی وجہ سے یہ ایک ایسا جڑواں شہر ہے جو انتظامی طور پر وفاقی دارالحکومت کو سہارا دیتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی بساط ہو یا دفاعی حکمتِ عملی، راولپنڈی کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے۔ یہ شہر شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے جس کی تحصیل گوجر خان نے سوار محمد حسین اور کیپٹن سرور جیسے نشانِ حیدر پانے والے سپوت پیدا کیے۔ آج بھی راولپنڈی اپنی تمام تر روایات، ادبی محفلوں زندہ دل لوگوں کے ساتھ پاکستان کے ماتھے کا جھومر بنا ہوا ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسا احساس ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔
‎راولپنڈی کی گلیوں میں گھومتے ہوئے انسان کو اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ شہر وقت کے کسی ایک خانے میں قید نہیں ہے بلکہ یہاں ماضی اور حال ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے نظر آتے ہیں۔ صدر کی چوڑی سڑکوں پر برطانوی دور کی وہ قدیم عمارات جن کی بالکونیاں آج بھی اپنی بوسیدہ لکڑی کے ساتھ ایستادہ ہیں، ایک ایسے دور کی کہانی سناتی ہیں جب یہاں بگھیاں چلا کرتی تھیں اور شام کے وقت میونسپلٹی کے کارندے گیس کے لیمپ روشن کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف راجہ بازار کی وہ تنگ و تاریک گلیاں ہیں جہاں سورج کی روشنی بھی راستہ ڈھونڈتے ہوئے تھک جاتی ہے، مگر وہاں کی تجارتی گہما گہمی اور انسانی ہجوم یہ بتاتا ہے کہ اس شہر کا اصل دل یہیں دھڑکتا ہے۔ یہاں کے قدیم بازاروں میں مٹی کی خوشبو، گرم مصالحوں کی تیزی اور لسی کے کٹوروں کی کھنک ایک ایسا سماں باندھتی ہے جو لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ پوٹھوہار کی اس مٹی میں ایک عجیب سی خودداری اور اپنائیت ہے جو یہاں کے لوگوں کے لہجوں میں “جی” اور “جی آیاں نوں” کی صورت میں رچی بسی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow