اخلاق احمد ساغر
شہرِ مہر و امن میں روشن چراغوں کی قطار
قافلے لائے تھے اپنی حسرتوں کے شاہکار
میز پر نقشے سجے تھے، گفتگو تھی نرم سی
کمروں کے اندر فضا تھی، مصلحت کی گرم سی
ہاتھ سے جب ہاتھ مل کر، مسکراہٹ بن گئے
لوگ سمجھے، تیرگی میں خواب راحت بن گئے
پر گلی کوچوں میں پھیلی، اک عجب سی بے کلی
بھوک کے سائے بڑھے جب، زندگی ہونے لگی
روٹی کی بڑھتی ہوئی قیمت کا جب چرچا ہوا
عام انسانوں کی آنکھوں میں نمی کا بوجھ تھا
امن کے بدلے یہ کیسا، بوجھ ہے تقدیر پر
قرض کی تحریر ہے اب، قوم کی تحریر پر
کیسا جشنِ امن ہے یہ، جس میں دل پاشیدہ ہیں
لب پہ مہریں لگ گئیں، حالات سب سنجیدہ ہیں
عدل کی میزوں پہ بیٹھو، اب حسابِ جاں کرو
ان غریبوں کے بھی دکھ کا، کوئی تو درماں کرو
Latest Posts
