از قلم: سعدی
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر روز بروز مدھم ہوتی جا رہی ہے۔یہاں سب سے زیادہ خطرناک وہ لوگ نہیں جو کھل کر برائی کرتے ہیں بل کہ وہ ہیں جو بظاہر نیکی کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں مگر اندر سے منافقت کا زہر پالے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں ہم عام زبان میں دوغلے اور منافق لوگ کہتے ہیں، وہ معاشرے کے خاموش مگر مہلک کردار ہیں۔ منافق لوگ وہ ہوتے ہیں جو ہر محفل میں اپنا رنگ بدل لیتے ہیں۔ آپ کے سامنے وہ آپ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، آپ کے خوابوں کو سراہتے ہیں اور آپ کے دکھوں میں شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر جونہی آپ نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں، یہی لوگ آپ کی کردار کشی میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ ان کی زبان پر مٹھاس اور دل میں کڑواہٹ ہوتی ہے۔ یہ وہ کردار ہیں جو رشتوں کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سب سے بڑی پہچان ان کا تضاد ہوتا ہے۔ وہ اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر خود ان پر عمل نہیں کرتے۔ وہ وفاداری کا درس دیتے ہیں مگر خود موقع ملتے ہی دھوکہ دے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت ایک آئینے کی طرح نہیں ہوتی جو صاف اور شفاف ہو بل کہ ایک ایسے شیشے کی مانند ہوتی ہے جو ہر زاویے سے مختلف عکس دکھاتا ہے۔
دوغلے پن کی جڑ اکثر احساسِ کمتری، خودغرضی یا وقتی مفاد میں ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی اصل شخصیت چھپانے کے لیے نقاب اوڑھ لیتے ہیں کیوں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی حقیقت دکھا دیں تو شاید قبول نہ کیے جائیں مگر یہ وقتی بچاؤ دراصل انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ نہ خود سے سچے رہتے ہیں اور نہ دوسروں کے۔معاشرے پر ان لوگوں کے اثرات نہایت منفی ہوتے ہیں۔ یہ اعتماد کو ختم کرتے ہیں، رشتوں میں دراڑیں ڈالتے ہیں اور ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگتا ہے۔ یوں محبت، خلوص اور سچائی جیسے خوب صورت جذبے پس منظر میں چلے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اس کا جواب سادہ مگر مشکل ہے: خود کو سچا رکھنا۔ جب ہم اپنی ذات میں اخلاص پیدا کرتے ہیں تو ہم دوسروں کی منافقت کو پہچاننے لگتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ لوگوں کو ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے عمل سے پرکھیں کیوں کہ حقیقت ہمیشہ کردار میں ظاہر ہوتی ہے، دعوؤں میں نہیں۔ آخر میں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دنیا میں ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جو روشنی میں چمکتے ہیں مگر اندھیرے میں اپنی اصلیت دکھا دیتے ہیں۔ منافق لوگ وقتی طور پر کام یاب نظر آ سکتے ہیں مگر سچائی کی روشنی آخرکار ان کے نقاب کو چاک کر دیتی ہے کیوں کہ سچ کبھی دوغلا نہیں ہوتا اور دوغلا کبھی سچا نہیں ہوتا۔پس ثابت ہوا کہ منافقت کی عمر مختصر اور سچائی کا سفر لازوال ہے۔ ہمیں لوگوں کو بدلنے کے بجائے اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ آئیے عہد کریں کہ ہم صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی دھنی بنیں۔ جب دل اور زبان ایک ہو جاتے ہیں تو انسان کو کسی نقاب کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی میں سکون اور رشتوں میں وقار پیدا ہوتا ہے۔
Latest Posts
