از قلم: ماہ نور کنول
اکثر لوگ اپنی قدر دوسروں کے رویّوں کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ان کا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ چند لوگوں کی رائے، چند جملے اور چند نظر انداز کیے جانے والے لمحے کسی بھی فرد کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ شاید وہ واقعی اتنا اہم نہیں جتنا وہ خود کو سمجھتا تھا، حالانکہ سچ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔
اپنی قیمت جاننا غرور نہیں بل کہ شعور ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو کسی شخص کو ٹوٹنے نہیں دیتا اور اسے دوسروں کے رویّوں کے رحم و کرم پر جینے سے بچاتا ہے۔ جب کوئی فرد اپنی پہچان حاصل کر لیتا ہے تو اسے یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ ہر آواز سچ نہیں ہوتی اور ہر رائے قابلِ قبول نہیں ہوتی۔
چار لوگ کیا کہتے ہیں، یہ دراصل ان کی سوچ، ان کے ظرف اور ان کے فہم کا عکس ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کو کم سمجھتا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ واقعی کم ہوں، ممکن ہے اس کی نظر محدود ہو، اس کا تجربہ ادھورا ہو یا اس کی سوچ تعصب کا شکار ہو۔ ہر شخص اپنی عقل کے دائرے میں رہ کر ہی دوسروں کو پرکھتا ہے۔ اس لیے دوسروں کے فیصلوں کو اپنی پہچان بنانا ناانصافی ہے۔
زندگی میں ایسے مواقع بارہا آتے ہیں جب کسی شخص کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اس کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی یا اس کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب کوئی فرد یا تو خود کو کھو دیتا ہے یا پھر اپنی اصل پہچان پا لیتا ہے۔ اگر وہ ان باتوں کو دل پر لے لے تو آہستہ آہستہ اس کا اعتماد ختم ہونے لگتا ہے لیکن اگر وہ اپنی اہمیت کو سمجھ لے تو یہی رویّے اسے مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا ہر ایک کو اس کی اصل حیثیت کے مطابق نہیں دیکھتی۔ بعض اوقات عام لوگ نمایاں ہو جاتے ہیں اور باصلاحیت افراد پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں مگر اس سے کسی کی اصل قدر کم نہیں ہو جاتی۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کوئی انسان خود اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے۔
اپنی قدر کا شعور آدمی کو بے جا سمجھوتوں سے بچاتا ہے۔ وہ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا، ہر محفل میں اپنی موجودگی لازم نہیں سمجھتا اور ہر تنقید کو اپنے وجود پر حملہ نہیں بننے دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی اصل پہچان کسی کے الفاظ کی محتاج نہیں۔
لہٰذا، خود کو پہچانیں، اپنی خوبیوں کو تسلیم کریں اور اپنی کمزوریوں کو سنوارنے کی کوشش کریں مگر دوسروں کے معیار کو اپنی قیمت کا پیمانہ نہ بنائیں، کیوں کہ جو لوگ آپ کو پرکھ رہے ہیں، وہ بھی اپنی سمجھ کے دائرے میں قید ہیں۔
آخرکار، اصل قدر وہی ہوتی ہے جو کوئی شخص خود اپنے لیے طے کرتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی اہمیت کو کم سمجھ لیا تو دنیا بھی آپ کو کم ہی سمجھے گی اور اگر آپ نے اپنی قدر پہچان لی تو کوئی بھی آپ کی اہمیت کم نہیں کر سکتا۔
Latest Posts
