از قلم: سیدہ صالبیہ حسن زیدی
دل ایک عجیب دنیا ہے جہاں ہر احساس جنم لیتا ہے مگر ہر جذبے کو زبان نہیں ملتی۔ کچھ کیفیات ادھورے خواب یا خاموش دعاؤں کی صورت دل کی گہرائیوں میں اترتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ جب دل انہیں مزید سنبھال نہیں پاتا تو وہ لفظوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہی لمحہ اظہار کی ابتدا ہوتا ہے مگر یہ لفظ فوراً تحریر کا حصہ نہیں بنتے۔ وہ پہلے احساسات کی وادیوں میں ٹھہر کر اپنی حقیقت کو پہچانتے ہیں۔ وقتی جذبات راستے میں بکھر جاتے ہیں مگر گہرے اور سچے معانی اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں اور آخرکار خاموشی سے قلم تک پہنچ جاتے ہیں۔قلم محض ایک ذریعہ نہیں بل کہ ایک وفادار ساتھی ہے۔ جب انسان کے پاس الفاظ نہ ہوں تو یہ اس کی آواز بن جاتا ہے اور جب آنکھیں اشکبار ہوں تو انہیں آنسوؤں کو کاغذ پر سمیٹ کر معنی عطا کرتا ہے۔ یہی قلم دل کے بے نام درد کو بھی زبان دیتا ہے اور ان جذبات کو بھی جو کہے نہیں جا سکتے۔یہ سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی احساس اظہار کا راستہ مانگتا ہے مگر لفظ ساتھ نہیں دیتے اور کبھی لفظ تیار ہوتے ہیں مگر دل خاموش رہتا ہے۔ اصل تخلیق اسی لمحے جنم لیتی ہے جب دونوں ہم آہنگ ہو جائیں اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہ رہے۔ ایسی تحریر براہِ راست قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔
بعض جملے اسی لیے یاد رہ جاتے ہیں کہ وہ صرف لکھے نہیں گئے ہوتے بل کہ پوری شدت سے محسوس کیے گئے ہوتے ہیں۔ ان میں کسی انتظار کی کسک، کسی دعا کی تاثیر یا کسی ٹوٹے ہوئے یقین کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہی کیفیت تحریر کو جان بخشی کرتی ہے۔
درحقیقت یہ پورا عمل انسان کی اپنی پہچان کا سفر ہے۔ جذبات جب لفظوں کا لباس اختیار کرتے ہیں تو انسان اپنے اندر چھپے ہوئے معنی کو بہتر طور پر سمجھنے لگتا ہے اور اپنی خاموشیوں کی زبان دریافت کر لیتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ قلم وہی بیان کرتا ہے جو دل میں اتر چکا ہو۔ اگر دل صاف ہو تو سادہ الفاظ بھی گہرائی اختیار کر لیتے ہیں اور اگر نیت میں الجھن ہو تو خوبصورت جملے بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔
تحریر کا اصل مقصد یہی ہے کہ احساس کو شکل دے کر اسے اس انداز میں پیش کیا جائے کہ وہ قاری کی روح تک رسائی حاصل کر لے۔ جب ایسا ہو جائے تو سمجھ لیں کہ لفظوں کا سفر مکمل ہو گیا ہے۔
Latest Posts
