رپورٹ:: غلام زادہ نعمان صابری
تیسری گلبل کانفرنس برائے ادب اطفال 2026 مولانا مودودی آڈیٹوریم اچھرہ میں 5 اپریل بروز اتوار منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے اہل قلم نے بھر شرکت کی ۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے شروع کیا گیا ۔مشتاق حسین قادری نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کی سعادت حاصل کی ۔ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ کا اعزاز وجہیہ سجاد ہمدانی کے حصے میں آیا ۔ نقابت کے فرائض قاری محمد عبداللہ نے سر انجام دیئے ۔
اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اسے روایتی انداز سے ہٹ کر ترتیب دیا گیا تھا ۔ چند مہمانان خصوصی تھے اور دیگر اہل قلم کے اظہار خیال کے لیے مختلف موضوعات پر سیشن رکھے گئے تھے جن میں اہل قلم نے اپنے اپنے موضوعات پر دل کھول کر اظہار خیال کیا ۔
پہلا سیشن ” زندہ دلان لاہور کا ادب اطفال” کے موضوع پر تھا جس کی میزبانی شہباز اکبر الفت نے کی شرکاء گفتگو میں تسنیم جعفری ، ڈاکٹر طارق ریاض خان ، محمد نوید مرزا ،سہیل قیصر ہاشمی اور عائشہ اطہر
شامل تھے، جنہوں نے زندہ دلان لاہور کا ادب اطفال پر اپنے اپنے بھر پور خیالات کا اظہار کیا ۔
دوسرے سیشن کا موضوع ” دیا جلائے رکھیں گے” تھا ۔ یہ سیشن ان اہل قلم کی یاد میں رکھا گیا تھا جو ہم سے بچھڑ کرجہان بقا کو سدھار گئے ہیں ۔ ان میں قاسم گورائیہ ، نور محمد جمالی ، سعید احمد سعیدی ، عبداللہ نظامی ، مظہر کلیم ایم اے ، اظہر عباس شامل تھے ۔اس سیشن کے میزبان سید عبد الصمد مظفر ( پھول بھائی ) تھے ۔ جن اہل قلم نے بچھڑے ہوؤں کی یاد میں دیئے جلائے ان میں محمد وسیم کھوکھر ، مرزا یاسین بیگ ، سید غضنفر علی زیدی اور ایڈیٹر پیغام ڈائجسٹ حامد حفیظ شامل تھے ۔
تیسرا سیشن ” مصنوعی ذہانت قلم کاروں کے لیے رحمت یا زحمت” کے عنوان سے ایک بڑے اہم اور حساس موضوع پر تھا ۔ اس کی میزبانی قاری محمد عبداللہ نے کی اور شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر فضیلت بانو ، محمد اسلم بھٹی ،
مدثر یوسف پاشا ، محمد فہیم عالم شامل تھے ۔ شرکاء نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ۔
چوتھا سیشن ” تھیلیسیمیا کے خاتمے میں میڈیا کا کردار ” کے موضوع پر تھا ۔ اس سیشن کے میزبان سید عاصم رضا شاہ تھے اور گفتگو کرنے والوں می ام ہانی، ناصر زیدی ، عرفات ظہور ،اور ڈاکٹر طارق محمود شاکر شامل تھے ۔
پانچواں سیشن ” بچوں کے ادب میں ناول نگاری کی روایت اور مستقبل” کے ایک دلچسپ موضوع پر تھا ۔ اس موضوع پر گفتگو کرنے والوں میں قرۃ العین خرم ہاشمی ، کاوش صدیقی ، امان اللہ نیر شوکت ، راحیلہ مشتاق اور ابن نیاز شامل تھے اور میزبانی کے فرائض ندیم اختر نے سر انجام دیئے ۔
کانفرنس میں اہل قلم کو ان کی ادبی خدمات پر ایوارڈز اور اسناد پیش کی گئیں ۔ کانفرنس میں دیئے جانے والے ایوارڈز میں گلبل ایوارڈ ، عنایت علی قریشی ایوارڈ ، میزبان ادب اطفال ایوارڈ ، اینٹی تھیلیسیمیا ایوارڈ ، رشیدہ بشیر میموریل ایوارڈ اور میاں محمد اسلم سعید میموریل ایوارڈ اور مسلم کڈز ایوارڈ شامل تھے ۔
گڈی آپا ایوارڈ کے لیے” تربیت اطفال” کے عنوان سے کہانیاں اور نظمیں لکھوائی گئی تھیں ۔ یہ ایوارڈ اول دوم اور سوم آنے والے ادیبوں کو دیا گیا ۔ کہانیوں میں اول انعام ہشام علی ہاشمی کو بہترین کہانی لکھنے پر دیا گیا دوم انعام محمد مختار کھوکھر اور سوم انعام عنبرین اختر نے حاصل کیا ۔ بہترین نظمیں لکھنے پر اول انعام محمد ایوب اختر دوم انعام کوکب مشتاق اور سوم انعام سائرہ حمیدتشنہ نے حاصل کیا ۔
گلبل ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں امان اللہ نیر شوکت ، محمد قاسم کھوکھر ، قاری محمد عبداللہ ، ستارہ آمین کومل ، دانیال حسن چغتائی ، سدرہ قیوم ، امجد نذیر ، سید عارف حسین شاہ ، راؤ طاہر شہزاد ، وجیہہ سجاد ہمدانی ، عبد الرحمن رزاقی ، بابر امین ابر، قاسم کھوکھراور محمد نادر کھوکھر شامل تھے ۔ میزبان ادب ایوارڈ جو پھول بھائی کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اس کے حق دار مختار حسین سومرو قرار پائے ۔ وہ ہر سال کرن کرن روشنی کانفرنس میں دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں کو عشائیہ دیتے ہیں جو محبت و اخلاص سے بھرپور ہوتا ہے ۔
عنایت علی قریشی ایوارڈز کتابوں کی اشاعت پر مصنفین کو دیئے گئے جن میں غلام زادہ نعمان صابری ، کتاب ( وہ کون تھے ؟) میاں ساجد علی ،کتاب (وطن کی زینت) حاجی محمد لطیف کھوکھر کتاب ( حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ) صائمہ محمد علی کتاب ( سپہ سالار وطن)
خولہ رضویہ کتاب ( ننھے محافظ) صابر عطا کتاب ( کجھ یار ضروری ہوندن) راؤ تنویر ، اور ریحان احمد کو خصوصی ایوارڈ دیئے گئے ۔ رشیدہ بشیر میموریل ایوارڈ تسنیم جعفری ، سید عاصم رضا شاہ ،ڈاکٹر طارق ریاض خان ، نوید مرزا ، سہیل قیصر ہاشمی ، ناصر زیدی ، شہباز اکبر الفت ، ڈاکٹر طارق محمود شاکر، عائشہ اطہر ، عرفات ظہور ، ام ہانی نے حاصل کئے ۔ میاں محمد اسلم سعید میموریل ایوارڈز محمد وسیم کھوکھر ،حاند حفیظ، عبدالصمد مظفر ، مرزا محمد یاسین بیگ کو دیئے گئے ۔
علامہ ناصرمدنی نے کانفرنس کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ لکھاری معاشرے کے ترجمان ہیں ۔ قلم کار حساس طبقہ ہے جوکہ لوگوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں ، ادب اطفال سے وابستہ لوگ قابل تحسین ہیں ، گلبل فورم کی کاوشیں انسداد تھیلیسیمیا کےلئے قابلِ ستائش ہیں ۔مہمان خاص مشعل سیف موٹیویشنل سپیکر ٹرینر اختر عباس ، سینئر ادیب وماہر تعلیم اشفاق احمد خان اور سپیکر ٹرینر خواجہ مظہر صدیقی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں لوگوں کو قلم کتاب علم ادب تربیت سے جوڑے رکھنے کا عمل کوئی معمولی بات نہیں بلکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کی حقوق کی آواز بلند کرنا انکے صحت کے امور کو اجاگر کرنا ایک منفرد کام ہے جسے گلبل فورم انجام دے رہا ہے کہ تھیلسمیا بارے آگاہی اور اس کی روک تھام کےلئے لوگوں میں فکری شعور اجاگر کررہا ہے یہ کانفرنس اور پلیٹ فارم آج ایک مثبت سماجی علمی تحریک بن چکا ہے ۔
مشعل سیف نے اپنے خطاب میں گلبل کی کارکردگی کو سراہا اور دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دینے کا اعلان کیا۔مختار حسیںن سومرو نے اختتامی خطاب کیا اور ملک بھر سے آنے والے اہل قلم کا شکریہ ادا کیا۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی کے بانی ایم ایم علی نے خصوصی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کی ۔
گلبل کی 3 سالہ کارکردگی رپورٹ منیجنگ ایڈیٹر راؤ طاہر شہزاد نے پیش کی۔ انہوں نے بتایا ،
گلبل کا مقصد تھیلیسیمیا سے اگاہی اور تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی ادویات کے لیے مالی مدد کرنا ہے ۔
تین سال میں گلبل رسالے کے ذریعے اگاہی مہم دی گئی جس پر اب تک 7 لاکھ بیس ہزار سے زائد کا خرچہ ا چکا ہے۔
اسی طرح تھیلیسیمیا کے بچوں کی ادویات کے مد میں مالی مدد میں ایک لاکھ سے زائد رقم دی گئی۔
تھیلیسیمیا کے بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اب تیسری گلبل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ادبی تنظیموں نے تعاون کیا اب سے پہلے دو کانفرنسیں منعقد کی جا چکی ہیں اور ان کانفرنسوں پر بھی اب تک 4 لاکھ سے زائد کا خرچہ آچکا ہے۔ تھیلیسیمیا سے متعلق متعدد بار آگاہی تقریبات منعقد کی گئیں
ملتان اور لاہور میں مسلسل تقریبات کا اہتمام کیا گیا
آج کی کانفرنس کے بعد مختلف شہروں میں گلبل ایمبسڈر منتخب کئے جائیں گے۔
کانفرنس میں تھیلیسمیا کے مریض بچوں میں ادویات کےلئے نقد رقم تقسیم کی گئی اور تحائف بھی دیئے گئے۔
Latest Posts
