از قلم: بختاور واجد حسین شاہ
کہتے ہیں کہ ” استاد” ایک مکمل شخصیت ہوتی ہےـ دنیا کے تمام کامیاب لوگوں کی کامیابی کا راز استاد ہوتا ہے۔ ایک طالبِ علم جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کو کئی اسناد کی ضرورت ہوتی ہے۔ قدم قدم پر سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے مگر جب وہ استاد بن جاتا ہے تو پھر کوئی نہیں دیکھتا کہ یہ شخص کہاں سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہے؟ اس کے پاس کون کون سی ڈگریاں ہیں؟
وہ ایک مکمل شخصیت ہوتا ہے۔ کچھ اسی طرح کا اسد رحمان بھی تھا۔ جس نے کم عمری میں معلم بننے کا خواب سجائے رکھا تھا۔ خوب محنت کرتا، جب بھی اس سے کوئی اس کے مستقبل کے بارے میں پوچھے تو کہتا کہ ”میں بڑا ہو کر معلم بنوں گا“ مگر ابھی وہ کم سن ہی تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد اس پر ایک بڑی ذمے داری آ گئی تھی۔ اس کے دو بھائی اور ایک بہن تھی جو اس سے چھوٹے تھے، باپ کے گزر جانے کے بعد ان کے گھر کے حالات کافی خراب ہو گئے تھے۔ ایسے میں گھر والوں کی ساری ذمے داری اس پر تھی۔
اس نے محلے کے مزدوروں کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں اسے چند پیسے مل جاتے اور گھر کا گزارہ چلتا۔ وہ دن کو کام کرتا اور جب شام کو گھر واپس آتا تو اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جاتا اور سوچتا رہتا کہ اس کی قسمت نے کم عمری میں ہی اس کا سہارا چھین لیا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی قسمت کو کوستا رہتا مگر اس کو اب بھی اچھے کی امید تھی۔ اس لیے جیسے ہی گھر واپس آتا اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جاتا اور خود ہی ان کا مطالعہ کرتا مگر بہت جلد ہی اسے اگلی جماعت کی کتابیں چاہیے تھیں تاکہ ان کو بھی پڑھ سکے مگر اب مشکل اسے یہاں پیش آئی کہ اس کے پاس کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں تھے اور کسی نے اسے استعمال شدہ کتابیں بھی نہ دیں۔ ایسے میں اسے اپنے خواب ٹوٹتے ہوئے دکھائی دئیے، جس کی وجہ سے اسے مایوسی اور احساس کمتری کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ایک بلند حوصلہ بچہ تھا اس کی امیدیں ابھی زندہ تھیں۔
ایک بار اس نے ایک بچے کو دیکھا جو سکول سے واپسی پر درخت کے ساتھ بستہ لٹکا کر پانی پینے ہینڈ پمپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسد نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے درخت سے بستہ چوری کر لیا اور گھر کی طرف بھاگ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے ایک غلط راستہ اپنایا ہے مگر اسے اس کے علاوہ کوئی حل بھی نہیں ملا تھا۔ جس کی وجہ سے اسے اسی راستے کا انتخاب کرنا پڑا کیونکہ اسے اپنے مستقبل کی فکر تھی۔ اس لیے اسے چوری بھی غلط راستہ نہیں لگی تھی۔ اس نے اپنی استعمال شدہ کتابوں سے اپنے بہن بھائیوں کو پڑھانا شروع کیا کیونکہ ان کو تعلیم دلانے کی ذمے داری بھی اس کی تھی، اس کے علاؤہ گاؤں میں بھی کوئی ایسا تعلیمی ادارہ نہیں تھا جو مفت تعلیم فراہم کرتا ایسے میں اسد نے خود ہی گھر کی باقی ذمے داریوں کے ساتھ اپنے بہن بھائیوں کو تعلیم بھی دلانی تھی۔
وقت گزرتا گیا اور وہ اسی طرح کسی نہ کسی کا بستہ چرا لیتا۔ ایسے ہی وہ آٹھویں جماعت تک کی کتابیں پڑھ گیا اب اس نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کے لوگوں کے بچوں کو بھی پڑھانا شروع کر دیا۔ جس کے عوض ان بچوں کے والدین سے کچھ رقم ملنا شروع ہو گئی اور اب وہ آسانی سے نئی کتابیں خرید سکتا تھا اس کے ساتھ ہی گاؤں میں ایک نیا خاندان آ گیا تھا۔ جو کہ کافی اونچے طبقے کے لوگ تھے۔ گھر کا سربراہ فوج میں ملازمت کرتا تھا اور اس کی بیوی خود بھی پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ وہ اسد سے ملیں تو انھیں اس کی باتیں کافی دلچسپ لگیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس کی مدد کریں گی ایسے میں اس کی ایک ساتھ کئی مشکلیں آسان ہو گئیں۔ پہلے وہ محلے کے بچوں کو گھر میں بلا کر پڑھاتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہی جب بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اسے اپنا گھر تنگ محسوس ہوا۔ ایسے میں اس نے گاؤں کے سردار سے مشورہ کر کے ایک اضافی گھر لے لیا۔ جس میں اس نے تعلیم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، تین سے چار سال مزید اسی طرح گزر گئے۔ اسی طرح وقت کے ساتھ ان کے حالات میں بھی بہتری آ گئی۔ اس نے اپنے بہن بھائیوں کو گاؤں سے شہر منتقل کروا دیا۔ جہاں وہ میعاری تعلیم حاصل کر سکیں اور خود شادی کر لی تھی اب اس کے گھر کے حالات بدل گئے تھے۔ اس کا چھوٹا جھونپڑی نما گھر کوٹھی میں بدل گیا تھا۔ گاؤں والے اسے کافی عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور سب سے زیادہ خوشی کی بات کہ وہ اسے ” ماسٹر جی“ بلاتے۔ الیکشن کے دن قریب آرہے تھے اس نے گاؤں والوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو ان کے حالات بدل سکیں اور اس کے ساتھ انہیں ایک میعاری سکول اور ہسپتال کھلوا کر دیں اور ایسا ہی کیا گیا۔ اس علاقے کے ایم پی اے نے گاؤں کا دورہ کیا اور دیکھا کہ گاؤں کے حالات کافی خراب ہیں تو ایسے میں ان لوگوں نے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کہ وہ انہیں ایک اپنی پوری کوشش کریں گے کہ گاؤں کے حالات میں بہتری لا سکیں۔ ایسے میں اسد نے خود بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
بہت جلد ہی سکول کی عمارت کھڑی ہو گئی اور جب ان لوگوں کو اسد کی قربانیوں کا پتہ چلا تو اسے اسی سکول میں بغیر کسی ڈگری کے استاد کا عہدہ دے دیا اور اس کے ساتھ ہی کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد بھی مہیا کئے۔
اب تو اسد کی قسمت جاگ گئی تھی، اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس کی قسمت بہت اچھی تھی مگر اس کے لیے امتحان بہت تھے۔ اب اسے کسی سند کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ یہ سچ تھا کہ اس نے ماضی میں غلط راستہ اپنایا تھا مگر اس کی نیت صاف تھی اس نے سب کچھ اپنے بہتر مستقبل کے لیے کیا تھا، اسے اپنے مستقبل سے بہت پیار تھا۔ کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب جائز ہے شاید اسی لیے اسے یہ غلط راستہ بھی غلط نہیں لگا تھا۔
گناہ خدا معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Latest Posts
