جی ٹی روڈ

حمید علی
گرینڈ ٹرنک روڈ برصغیر کی تاریخ کی ایک عظیم اور قدیم شاہراہ ہے جو صدیوں سے مختلف تہذیبوں، سلطنتوں اور قوموں کو آپس میں جوڑتی چلی آرہی ہے۔ یہ تاریخی سڑک ہندوستان سے شروع ہو کر پاکستان کے مختلف شہروں سے گزرتی ہوئی افغانستان تک پہنچتی ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، تجارت اور جنگی حکمت عملی کی ایک زندہ علامت ہے۔ صدیوں سے مسافر، تاجر، سپاہی، بادشاہ اور سیاح اس شاہراہ پر سفر کرتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گرینڈ ٹرنک روڈ کو برصغیر کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔ گرینڈ ٹرنک روڈ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ اس کے ابتدائی آثار موریہ سلطنت کے دور میں ملتے ہیں، جب شہنشاہ چندر گپت موریہ اور بعد میں اشوکا اعظم نے اس راستے کو اپنی سلطنت کے مختلف علاقوں کو ملانے کے لیے استعمال کیا۔ اس دور میں یہ شاہراہ بنگال سے لے کر شمال مغربی علاقوں تک تجارت اور انتظامی امور کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ راستہ خستہ حال ہو گیا اور اس کی باقاعدہ تعمیر نو کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک عظیم حکمران نے اس شاہراہ کو نئی زندگی دی۔شیر شاہ سوری، جن کا اصل نام فرید خان تھا، ایک افغان نژاد حکمران تھے جنہوں نے 1540ء میں مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر حکومت قائم کی۔ ان کا دور حکومت مختصر تھا، مگر ان کی اصلاحات اور ترقیاتی کام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے۔ شیر شاہ سوری ایک دور اندیش حکمران تھے اور انہوں نے اپنی سلطنت کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔ ان میں سب سے بڑا اور تاریخی منصوبہ گرینڈ ٹرنک روڈ کی تعمیر تھا۔ ان کا مقصد ایک ایسی شاہراہ تعمیر کرنا تھا جو سلطنت کے مختلف حصوں کو آپس میں ملائے، تجارت کو فروغ دے، فوجی نقل و حرکت کو آسان بنائے اور عوام کے لیے سفر کو محفوظ اور سہل بنائے۔ شیر شاہ سوری نے 1540ء میں اس عظیم منصوبے پر کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے ایک ایسی سڑک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو بنگال کے علاقے سونارگاؤں سے شروع ہو کر دہلی، لاہور، پشاور سے گزرتی ہوئی کابل تک پہنچے۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے ہزاروں مزدوروں، انجینئروں اور کاریگروں کو کام پر لگایا گیا۔ اس زمانے میں جدید مشینری موجود نہیں تھی، اس کے باوجود شیر شاہ سوری نے اس منصوبے کو انتہائی تیزی سے مکمل کروایا۔ تقریباً پانچ سال کے عرصے میں 1545ء تک یہ عظیم شاہراہ مکمل کر لی گئی، جو اس دور کے لحاظ سے ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا۔ شیر شاہ سوری نے اس شاہراہ کی تعمیر میں صرف سڑک بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مسافروں کے لیے بہترین سہولیات بھی فراہم کیں۔ انہوں نے ہر دو کوس کے فاصلے پر سایہ دار درخت لگوائے تاکہ مسافروں کو گرمی اور دھوپ سے بچاؤ مل سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جگہ جگہ سرائیں تعمیر کروائیں جہاں مسافر قیام کر سکتے تھے۔ پانی کی سہولت کے لیے کنویں کھدوائے گئے اور ڈاک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈاک چوکیاں قائم کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سڑک کی حفاظت کے لیے فوجی پہرے بھی مقرر کیے گئے تاکہ مسافر محفوظ رہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ شیر شاہ سوری عوامی فلاح و بہبود کو کتنی اہمیت دیتے تھے۔ گرینڈ ٹرنک روڈ نے نہ صرف سفر کو آسان بنایا بلکہ تجارت کو بھی فروغ دیا۔ مختلف علاقوں کے تاجر اس شاہراہ کے ذریعے اپنی اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے لگے۔ اس سے معیشت کو مضبوطی ملی اور مختلف ثقافتوں کے درمیان رابطہ بڑھا۔ اس شاہراہ نے شہروں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ لاہور، راولپنڈی، پشاور اور دیگر کئی شہر اسی شاہراہ کی بدولت ترقی کرتے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغل بادشاہوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے بھی اس شاہراہ کی مرمت اور توسیع کی۔ برطانوی دور میں اس سڑک کو مزید مضبوط بنایا گیا اور اسے جدید طرز پر تعمیر کیا گیا۔ آج بھی گرینڈ ٹرنک روڈ پاکستان میں نیشنل ہائی وے این-5 کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ ملک کی سب سے اہم شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ شاہراہ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، راولپنڈی اور پشاور جیسے اہم شہروں کو ملاتی ہے اور روزانہ لاکھوں لوگ اس پر سفر کرتے ہیں۔ یہ سڑک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم اقتصادی اور ثقافتی رابطہ ہے۔گرینڈ ٹرنک روڈ تاریخ کی ایک زندہ مثال ہے جو ہمیں شیر شاہ سوری کی ذہانت، دور اندیشی اور عوامی خدمت کے جذبے کی یاد دلاتی ہے۔ ان کا یہ خواب آج بھی حقیقت کی صورت میں موجود ہے اور صدیوں بعد بھی لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہا ہے۔ یہ شاہراہ صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب اور ترقی کا ایک ایسا سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow