از قلم: محمد اختر انجم، ڈیرہ غازی خان
کائنات کا ہر رنگ، ہر آہنگ اور ہر حسن “وجود” کے دم سے ہے؛ اور جب وجود رخصت ہو جائے تو پیچھے رہ جانے والا خلا الفاظ کی گرفت سے باہر ہو جاتا ہے۔ انسان شور میں جنم لیتا ہے، مگر زندگی کی حقیقتوں کا ادراک اسے ہمیشہ خاموشی کے بطن میں ہی نصیب ہوتا ہے۔
مشاہدے کے اس سفر میں کچھ مقام ایسے بھی آتے ہیں جہاں خاموشی محض آواز کا نہ ہونا نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا نوحہ بن جاتی ہے جسے صرف روح کی سماعتیں سن سکتی ہیں۔
۱۔ اسکول میں چھٹی کے بعد کا سناٹا:
یہ سناٹا بے مقصدیت کا احساس دلاتا ہے، اور
ایک عارضی موت کی مانند ہوتا ہے۔ وہ در و دیوار جو ابھی چند لمحے پہلے قہقہوں، معصوم شرارتوں اور کتابوں کی خوشبو سے مہک رہے تھے، اچانک یوں گنگ ہو جاتے ہیں جیسے وہاں زندگی کا کبھی گزر ہی نہ ہوا ہو۔ خالی ڈیسک اور خاموش برآمدے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ عمارتوں کی زندگی اینٹ پتھر میں نہیں، بلکہ ان جذبوں اور سوالوں میں ہے جو وہاں بسنے والے معمار (طلبا) اپنے ساتھ لاتے ہیں۔
۲۔ دلہن کی رخصتی کے بعد کی اداسی:
یہ ایک خوش نما دکھ ہے۔ یہاں اداسی اس بات کی نہیں کہ کچھ برا ہوا، بلکہ اس خالی پن کی ہے جو ایک وجود کے مستقل ہجرت کر جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک ایسا وجود جو برسوں تک گھر کے آنگن کی چڑیا بن کر چہکتا رہا، جب وہ اپنی جڑیں اکھاڑ کر کسی دوسرے چمن کی زینت بننے کے لیے ہجرت کرتا ہے، تو پیچھے رہ جانے والے در و دیوار اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ گھر کے وہ کونے جہاں اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی، اب محض یادوں کے مسکن بن جاتے ہیں۔ یہ اداسی “تکمیل” اور “جدائی” کا ایک عجیب سنگم ہے۔
۳۔ میت کے اٹھ جانے کے بعد کی ویرانی:
یہ کائنات کا سب سے مہیب اور حتمی سناٹا ہے۔
یہ وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنے اندر بولنا سکھا دیتی ہے، مگر الفاظ ہمیشہ کم پڑ جاتے ہیں۔
اسکول کا سناٹا اگلی صبح کی امید سے بندھا ہوتا ہے، رخصتی کی اداسی دوبارہ ملاقات کی آس پر زندہ رہتی ہے، مگر میت کے اٹھ جانے کے بعد جو ویرانی دلوں پر اترتی ہے، وہ ایک ایسے سفر کا آغاز ہوتی ہے جہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہیں۔
یہ لاپتہ ہو جانے کی وہ کیفیت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ ویرانی انسان کو کائنات کی بے ثباتی اور اپنی حقیقت کا آئینہ دکھاتی ہے—کہ “مکان” اور “گھر” کے درمیان کا فاصلہ محض ایک سانس کا محتاج ہے۔
۴۔ پلیٹ فارم کی تنہائی:
مسافر ٹرین کا گزر جانا یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی۔ تھوڑی دیر پہلے جہاں سینکڑوں خواب، بچھڑتے ہوؤں کے آنسو اور ملنے والوں کی مسکراہٹیں ایک ہجوم کی صورت میں موجود تھیں، وہاں اب صرف اڑتی ہوئی دھول اور سکوت رہ جاتا ہے۔ یہ تنہائی ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا ایک گزرگاہ ہے جہاں ہر رونق محض ایک عارضی پڑاؤ ہے۔
۵۔ خالی گھونسلے کی بے بسی:
یہ خاموشی ایک خاموش احتجاج کی مانند ہے۔ وہ تِنکا تِنکا جوڑ کر بنایا گیا آشیانہ، جس میں کبھی زندگی چہچہاتی تھی، پرندوں کے پرواز کر جانے کے بعد محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ یہ خالی گھونسلا ہمیں اس تلخ حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ جب اولاد کے پَر نکل آتے ہیں اور وہ اپنی اپنی اڑان کے لیے پر تولتے ہیں، تو پیچھے رہ جانے والا گھر صرف ایک “یادگار” بن کر رہ جاتا ہے۔
غور کیا جائے تو یہ تمام کیفیات ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ ہر رونق کا ایک انجام ہے اور ہر وصال کے پیچھے ہجر کا سایہ ہے۔
زندگی صرف جینے کا نام نہیں، بلکہ ان نقوش کا نام ہے جو ہم دوسروں کے دلوں میں اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔
اصل دولت “موجودگی” ہے، اور اصل دکھ “فقدان”—اور انسان ساری زندگی انہی دونوں کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔
ہے یہ سناٹا کبھی ہجر، کبھی ویرانی
خالی ہوتا ہوا ہر ایک مکاں دیکھا ہے
جا چکے چھوڑ کے وہ رونقِ محفل، اخترؔ
ہم نے یادوں کا ہی بس نام و نشاں دیکھا ہے
Latest Posts
