ظہیر احمد ظہیر اور سائنس کے کرشمے

(اظہر سجاد)
میٹرک میں ایک مضمون “سائنس کے کرشمے” پڑھا تھا. اس وقت وہ بہت مشکل لگا. ہم نے تو سائنس کے مضامین بھی اردو میں پڑھے. ظاہر ہے اردو کی سائنسی اصطلاحات انگریزی سے بھی زیادہ مشکل تھیں. ان میں کچھ ہمیں اب بھی یاد ہیں، جیسے اسراع، برق پاشیدگی، نظام انہضام، نظام تنفس، ذواضعاف اقل، عاد اعظم، محدب عدسہ اور مقعر عدسہ وغیرہ. ان الفاظ کے لغوی معنی نہ کل ہمیں سمجھ آئے اور نہ ہی آج. میٹرک کے بعد کالج گئے تو سائنس کے مضامین انگریزی میں تھے. نتیجہ ہماری ناکامی کی صورت میں نکلا. وہ تو بھلا ہو ظہیر احمد ظہیر کا جنھوں نے ان سائنسی اصطلاحوں سے ایک مرتبہ پھر روشناس کرا دیا اور لطف یہ کہ ان کا مطب بھی سمجھ آ گیا. ظہیر چوں کہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، لہٰذا انھوں نے دانستہ یا نادانستہ طور پر وہ فرض بھی پورا کیا جو شاید ہمارے پرانے اساتذہ نہیں نبھا سکے.
ظہیر نے اپنی نظموں کی کتاب “پنچ لائن” میں سائنسی اصطلاحات کو اس خوبصورتی اور لطافت سے برتا ہے کہ یہ نئی معنویت کے ساتھ سامنے آئی ہیں.
دیکھا جائے تو سائنس اور جذبات کا تعلق خامروں (enzymes) کے اخراج اور آعضاء رئیسہ کے افعال تک ہی محدود ہے. مگر ظہیر نے اس تعلق کو وسعت اور تنوع دینے کی بھرپور کوشش کی ہے. ظہیر احمد ظہیر کی “پنچ لائن” بلاشبہ جدید نظم میں گراں قدر اضافہ ہے. ظہیر کی شاعری میں الفاظ کے در و بست اور برتاؤ میں جدت پائی جاتی ہے. جذبات کی ہمہ رنگی اور مضامین کا تنوع ظہیر کے وسعت خیال کا آئینہ دار ہے. زبان و بیان پر دسترس اور صوتی اثر انگیزی بھی خوب ہے. ظہیر نے سائنسی اصطلاحوں کو نہ صرف ادبی روپ اور آہنگ بخشا ہے، بلکہ ان کو نئے معنی بھی عطا کیے ہیں. ظہیر کا ایک اور کمال یہ بھی ہے کہ انھوں نے مشکل سائنسی الفاظ کو اوزان و بحور اور شعری محاسن کو مد نظر رکھتے ہوئے، بڑی مہارت سے نظم کیا ہے. حمد کے تیسرے بند میں کہتے ہیں:
یہ ایٹم سے خلیات، خلیات سے عصب
اعصاب سے جسم تعمیر کرنا
یہ سیری برم میں خیالات کو پابہ زنجیر کرنا
یہ مادے کا مادے کی تفسیر کرنا
ظہیر کی نظم میں یہ مہارت سائنسی اصطلاحات کے سطحی استعمال تک ہی محدود نہیں بلکہ جذبات و احساسات کو متنوع وسعت دیتی نظر آتی ہے. کلاوڈ سیڈنگ کے آخری بند میں کہتے ہیں:
اسے یہ کہنا
نمک انڈیلے
یہاں بھی بارش کے بیج بوئے
یہ نہر کب سے بدست منت کش تمنائے ابرباراں کھڑی ہوئی ہے
طویل عرصہ ہوا کہ برسا نہ کوئی بادل
طویل عرصے سے آنکھ بنجر پڑی ہوئی ہے.
ظہیر نے جس طرح سائنس اور رنج و الم ، شکوہ، مزاحمت اور ان کہی خواہشات کے المیوں کو اپنی نظموں میں یک جان کر کے ایک نئے رنگ میں پیش کیا ہے وہ کمال ہے. کئی جسمانی عوارض کو بڑی ہنر مندی سے معاشرتی رویوں سے منسلک کر کے اپنے کرب کو بیان کیا ہے، وہ لاجواب ہے. ایک نظم “لیوکوسس” کا آخری بند دیکھیے:
کوئی مسیحا بتائے مجھ کو
علاج اس سوزش دروں کا
دل و دماغ و نظر کو رکھا ہوا ہے زنداں میں قید جس نے
نگل گئی ہے جو حرمت جذبہ محبت
کیا ہوا ہےترے لہو کو سفید جس نے.
ظہیر کے ہاں اگرچہ زبان سادہ ہے اور کتاب میں بعض الفاظ کی توضیح بھی بیان کر دی گئی ہے مگر سائنسی اصطلاحات اور کہیں کہیں مشکل مرکبات عام قاری کے لیے تفہیم کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں.
جہاں تک عنوان کا تعلق ہے تو یہی کہوں گا کہ “پنچ لائن” نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ تمام نظموں سے بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے. ہر نظم قاری کو گرفت میں لے لیتی ہے. قاری ظہیر کے ساتھ ساتھ سفر کرتا جب اختتام تک پہنچتا ہےتو آخری لائن پڑھ کر چونک اٹھتا ہے اور اس حیرت کا اثر دیر تک برقرار رہتا ہے. اس کتاب کی آخری نظم “پنچ لائن”ہے. اس نظم کا آخری بند دیکھیے:
حلقہ نکتہ داں کیا نہیں جانتا
رائیگانی کے موسم میں لکھی ہوئی
نظم کی پنچ لائن
فقط موت ہے.
“پنچ لائن” کی افسردگی دیر تک طاری رہ کر قاری کو ظہیر احمد ظہیر کا مداح بنا دیتی ہے.

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow