از قلم :- ذیشان افضل
ہر قوم کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ضرور ہوتی ہیں جو صرف اپنے زمانے کی نمائندگی نہیں کرتیں بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی راستہ روشن کر جاتی ہیں۔ وہ اپنے عہد کی دھڑکن بھی ہوتی ہیں اور مستقبل کی امید بھی۔ علامہ محمد اقبال انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ آج 21 اپریل کو ان کی برسی ہے تو یوں محسوس ہورہا ہے جیسے صرف ایک شاعر کی یاد نہیں منائی جا رہی بل کہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک خواب کی یاد کو تازہ کیا جا رہا ہے۔ اقبال کا نام صرف کتابوں میں محفوظ نہیں ہیں بل کہ وہ ہر اس دل میں زندہ ہیں جو غیرتِ ایمانی، خودی، بیداری اور مقصدِ حیات کو سمجھتا ہے۔
اقبال محض الفاظ کے شاعر نہیں تھے وہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے مفکر تھے۔ ان کا قلم صرف اشعار نہیں لکھتا تھا بل کہ وہ امت کے زخموں پر مرہم بھی رکھتا تھا اور اسے جگانے کے لیے تازیانہ بھی بنتا تھا۔ جب مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ جب امیدیں ماند پڑ چکی تھیں اور عزتِ نفس خاک میں ملتی جا رہی تھی تب اقبال نے قوم کو یہ یقین دیا کہ مسلمان کبھی شکست خوردہ نہیں ہوتاہے۔ بس اسے اپنی پہچان بھول جاتی ہے۔
اقبال کا سب سے بڑا پیغام خودی ہے۔ خودی وہ شعور ہے جو انسان کو اپنی اصل پہچان تک لے جاتا ہے۔ خودی انسان کو یہ بتاتی ہے کہ وہ محض ایک جسم نہیں ہے بل کہ ایک مقصد رکھنے والی روح ہے۔ اقبال نے خودی کو طاقت، ایمان، یقین اور عمل کے ساتھ جوڑاہے۔ ان کے نزدیک انسان کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچان لے ،اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے اور دنیا میں باوقار انداز سے جینے کا ہنر سیکھے۔ اقبال کا یہ پیغام آج کے نوجوان کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کے دور میں تھا۔
آج ہمارے نوجوان بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ کوئی بے مقصد زندگی گزار رہا ہے، کوئی مایوسی کا شکار ہے، کوئی صرف ڈگری کو منزل سمجھ بیٹھا ہے اور کوئی سوشل میڈیا کی دنیا میں کھو کر اپنی اصل پہچان سے دور ہو گیا ہے۔ ایسے میں اقبال کا شاہین یاد آتا ہے جو بلند پرواز، بے خوف اور خوددار ہوتا ہے۔ اقبال نے شاہین کو علامت بنایا کیوں کہ شاہین کا رزق مردار نہیں، وہ محنت سے شکار کرتا ہے، وہ اونچی پرواز کرتا ہے اور وہ کسی کے سامنے جھکنا نہیں جانتا ہے۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان نوجوان بھی ایسا ہی ہو: خوددار، محنتی، باکردار اور اپنے مقصد سے وابستہ ہو۔
علامہ اقبال کی شاعری میں عشق کا تذکرہ بھی بہت نمایاں ہے۔ لیکن یہ عشق صرف جذبات کا نام نہیں بل کہ عشق وہ طاقت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دے، جو انسان کے اندر حوصلہ پیدا کرے، جو انسان کو زندگی میں قربانی اور جدوجہد کا سلیقہ سکھائے۔ اقبال کے نزدیک عشق، ایمان کو جِلا دیتا ہے اور عمل کو قوت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام محض پڑھا نہیں جاتا بل کہ محسوس کیا جاتا ہے۔
اقبال کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ امت کو خواب نہیں دکھاتے تھے بل کہ خوابوں کی تعبیر کے لیے جدوجہد سکھاتے تھے۔ وہ قوم کو نصیحت نہیں کرتے تھے بل کہ قوم کو آئینہ دکھاتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو یہ باور کراتے تھے کہ عزت مانگنے سے نہیں بل کہ کردار اور عمل سے ملتی ہے۔ ان کا یہ جملہ گویا ہر دور کے لیے پیغام ہے کہ
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
یہ امید ہی تو ہے جو انسان کو زندہ رکھتی ہے اور قوموں کو آگے بڑھاتی ہے۔
بدقسمتی سے آج ہم اقبال کو صرف تقریبات تک محدود کر چکے ہیں۔ سال میں ایک دن ان کی برسی یا یومِ اقبال پر تقریریں، مشاعرے اور تصاویر تو لگ جاتی ہیں مگر اقبال کے اصل پیغام پر عمل کم نظر آتا ہے۔ اگر ہم واقعی اقبال سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی فکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اقبال کا پیغام صرف کتابوں میں رکھنے کے لیے نہیں تھا بل کہ اسے کردار میں ڈھالنے کے لیے تھا۔
اقبالؒ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ قومیں تبھی ترقی کرتی ہیں جب ان کے افراد علم کے ساتھ کردار کو بھی اپنائیں، جب وہ سچ بولیں، دیانت داری کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور اپنے دین سے جڑ کر دنیا میں باوقار زندگی گزاریں۔ اقبال نے بار بار علم اور عمل کی بات کی ہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ صرف علم کافی نہیں، جب تک اس علم کے ساتھ اخلاق اور ایمان نہ ہو۔
آج اقبال کی برسی کے موقع پر ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی اقبالؒ کے وارث ہیں؟ کیا ہماری زندگی میں خودی، ایمان، علم، کردار اور مقصد موجود ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں آج ہی سے اپنے اندر تبدیلی لانے کا عزم کرنا ہوگا۔ اقبال کا پیغام یہی ہے کہ تبدیلی باہر سے نہیں آتی، تبدیلی انسان کے اندر سے جنم لیتی ہے۔
علامہ اقبال کا کلام آج بھی زندہ ہے کیوں کہ وہ دلوں کو جگاتا ہے۔ وہ مایوسی میں امید پیدا کرتا ہے۔ وہ غلامی میں آزادی کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔ وہ نوجوانوں میں ولولہ اور قوم میں بیداری پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ اقبال آج بھی زندہ ہیں، وہ ہمارے دلوں کی صدا میں موجود ہیں، وہ ہماری فکر میں موجود ہیں اور وہ ہمارے خوابوں میں موجود ہیں۔
Latest Posts
