انصاف مہنگا کیوں؟ وکلا، سائلین اور نظامِ عدل کے درمیان بڑھتا فاصلہ

ملک میں انصاف کی فراہمی ہمیشہ سے ایک اہم مگر پیچیدہ مسئلہ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس نظام کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ وکلا برادری اور سائلین دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عدالتی عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا ہو چکا ہے، جس کے اثرات نہ صرف عام شہری بلکہ خود وکلا کے پیشے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
چند سال پہلے تک وکالت نامہ پر معمولی فیس یعنی 2 روپے کا ٹکٹ لگایا جاتا تھا، جو اب بڑھ کر 100 روپے تک جا پہنچا ہے۔ اسی طرح بیانِ حلفی کی فیس 300 روپے، جبکہ ہر قسم کی درخواست، سول کیس، اپیل یا استغاثہ کے لیے 500 روپے کا ٹکٹ لازم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہیں بات ختم نہیں ہوتی؛ عدالتی فیصلوں یا دستاویزات کی نقل حاصل کرنے کے لیے فی صفحہ 500 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، اور اگر دستاویز دو صفحات پر مشتمل ہو تو یہ رقم دگنی ہو جاتی ہے۔ مصدقہ نقول، طلبانہ ٹکٹ اور اب بائیو میٹرک فیس جیسے اضافی اخراجات نے مجموعی لاگت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
ان بڑھتے ہوئے اخراجات کا براہِ راست اثر سائلین پر پڑ رہا ہے۔ ایک عام آدمی جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، اب انصاف کے حصول کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرنے پر مجبور ہے۔ ایک سادہ درخواست یا دعویٰ تیار کروانے کے لیے بھی 8 ہزار روپے سے کم خرچ آنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کو عدالتوں سے دور کیا ہے بلکہ غیر رسمی یا غیر قانونی طریقوں کو فروغ دینے کا خطرہ بھی بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب وکلا برادری بھی اس صورتحال سے خوش نہیں۔ بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وکلا ان اخراجات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وکلا کو خود بھی بڑھتے ہوئے اسٹامپ ڈیوٹی، عدالتی فیسوں اور دیگر سرکاری چارجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر سائلین پر منتقل ہوتا ہے۔ نتیجتاً وکیل اور مؤکل کے درمیان اعتماد کا رشتہ متاثر ہوتا ہے، اور وکالت کے پیشے کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ان اخراجات میں اضافے کا جواز کیا ہے؟ حکومتی حلقے اکثر اسے ریونیو بڑھانے یا عدالتی نظام کو جدید بنانے کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بائیو میٹرک سسٹم اور ڈیجیٹلائزیشن کو شفافیت کے لیے ضروری بتایا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اصلاحات کا بوجھ براہِ راست عوام پر ڈالنا درست ہے؟ کیا حکومت نے کبھی یہ سوچا کہ ایک دیہاڑی دار مزدور یا کم آمدنی والا شہری ان فیسوں کو کیسے برداشت کرے گا؟
مزید برآں، انصاف تک رسائی ایک بنیادی حق ہے جسے آئین بھی تسلیم کرتا ہے۔ اگر اس حق کے حصول کی راہ میں مالی رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں تو یہ انصاف کے بنیادی تصور کے منافی ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں عدالتی نظام کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کو مفت یا کم لاگت میں قانونی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پاکستان میں بھی قانونی امداد کے ادارے موجود ہیں، لیکن ان کی کارکردگی اور رسائی محدود ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف تنقید میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں مضمر ہے۔ سب سے پہلے عدالتی فیسوں اور اسٹامپ ڈیوٹی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔ دوسرا، کم آمدنی والے سائلین کے لیے خصوصی رعایت یا سبسڈی کا نظام متعارف کرایا جائے۔ تیسرا، ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو اس انداز میں نافذ کیا جائے کہ اس سے اخراجات میں کمی آئے، نہ کہ اضافہ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انصاف صرف فیصلوں کا نام نہیں بلکہ اس تک رسائی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر انصاف عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا چلا جائے تو یہ نہ صرف نظامِ عدل بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت، عدلیہ اور وکلا برادری مل کر اس مسئلے کا سنجیدگی سے حل تلاش کریں، تاکہ انصاف واقعی سب کے لیے قابلِ رسائی ہو سکے، نہ کہ صرف ان لوگوں کے لیے جو اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow