وہ آنگن جہاں شعور نے آنکھ کھولی

محمد عمر کچپک شہر سلطان
​انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے لیکن اس کی کردار سازی میں سب سے اہم کردار اس کی مادرِ علمی یعنی پہلی منظم درسگاہ کا ہوتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں انسان کا شعور پروان چڑھتا ہے اور اسے خود آگہی سے لے کر خدا آگہی تک کا درس ملتا ہے جس کے نقوش اس کی مجموعی زندگی پر ثبت ہو جاتے ہیں۔
​بدلتے ہوئے تعلیمی رویے اور میری مادرِ علمی
موجودہ دور میں ایسی درسگاہیں بہت کم ہیں جہاں بچوں کی اخلاقی، معاشرتی اور مذہبی تربیت ایک ہی چھت کے نیچے کی جاتی ہو اور جس کا فیضانِ عام انسان کو اخلاق کے اعلیٰ معیار سے واقف کراتا ہو۔ میں نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جو تحصیل جتوئی، ضلع مظفر گڑھ کا ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں کبھی جہالت کا بسیرا تھا اور جدید و روایتی علوم سے کسی کو سروکار نہ تھا، وہاں “الحفیظ اسلامیہ پبلک مڈل اسکول” ایک روشن چراغ کی مانند نمودار ہوا۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیا گیا۔جس میں مستحق طلبا کے لیے مخصوص کوٹہ رکھا گیا ہے۔تا کہ محمود و ایاز دونوں ہی بلا امتیاز اپنا بنیادی حق یعنی تعلیم حاصل کرسکیں۔ یہ وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں بچوں کو علامہ اقبال کا شاہین بنایا جاتا ہے۔ یہاں جدید علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی و روایتی علوم اور فنونِ لطیفہ و ادبی رموز و اوقاف کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس مادرِ علمی نے بدلتے وقت کے تقاضوں کو تو اپنایا، مگر اپنی مذہبی اور روایتی بنیادوں کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔
​محسنینِ علم و فن
آخر میں، میں ان عظیم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس پسماندہ علاقے میں علم کی شمع روشن کی۔ بالخصوص محترم جناب سر نذیر احمد صاحب، محترم جناب سر شہاب الدین صاحب، محترم جناب حاجی محمد عبداللہ صاحب اور محترم جناب سیف اللہ صاحب۔ اللہ تعالیٰ ان سمیت تمام ایسے اساتذہ کو، جو آج بھی جہالت کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں، جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی عمر و مال میں برکت دے۔ آمین۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow