یوم اقبال اور حقیقت منتظر ( کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباس مجاز میں )

تحقیق و تحریر :- ڈاکٹر محمد شکیل بھنڈر
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم ‘حقیقتِ منتظر’ ان کے مجموعہ کلام ‘بانگِ درا’ کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے جو فلسفہ، تصوف اور عشقِ الٰہی کا حسین امتزاج ہے۔ آج یومِ اقبال کے موقع پر اس نظم پر غور کرنا دراصل اقبال کے اس پیغام کو سمجھنا ہے جو آپ نے بندہ مومن کے لیے تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑا ہے ، اور یہ وہ تڑپ ہے جو اصل میں ایک مسلمان کے اندر ہونی چاہیے۔
​اس نظم کے کلیدی پہلو اور ‘حقیقتِ منتظر ‘ کا مفہوم درج ذیل نکات سے واضح ہوتا ہے:
​1, حقیقت اور مجاز کا ربط
​نظم کا پہلا مصرعہ ہی ایک گہری تڑپ کا عکاس ہے
​کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
​یہاں ‘حقیقتِ منتظر’ سے مراد وہ ذاتِ باری تعالیٰ یا وہ مطلق سچائی ہے جس کا انسان کو ازل سے انتظار ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ وہ حقیقت جو نظروں سے اوجھل ہے، وہ دنیاوی علامات ( لباسِ مجاز ) میں جلوہ گر ہو، تاکہ انسانی وجود کی بندگی کو ایک مادی سہارا مل سکے۔
2, سجدوں کی بے قراری
​اقبال کے نزدیک عبادت محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک قلبی لگاؤ ہے۔ ‘ہزاروں سجدوں’ کے تڑپنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر بندگی کا جو جوش ہے، وہ کسی ایسی جھلک کا پیاسا ہے جو اسے مکمل طور پر خود رفتہ کر دے۔ یہ تڑپ ہی انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان کا رب پر ایمان اور پختہ ہوتا جاتا ہے اسی وجہ اللہ پاک نے انسان کو اپنا نائب بنا کر وہ رتبہ دیا ہے جو فرشتوں کے پاس بھی نہیں ہے، اس لیے انسان کو بھی اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت بھی دے۔
​3, خودی اور تمنائے دید
​یومِ اقبال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اقبال کا تصورِ ‘ خودی’ صرف دنیاوی بلندی نہیں بلکہ خالقِ کائنات کے سامنے اپنی ہستی کو پہچاننا ہے۔ ‘حقیقتِ منتظر’ کی تلاش دراصل خود کو دریافت کرنے کا سفر ہے۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے، تو اسے کائنات کے ہر ذرے میں اس حقیقت کا عکس نظر آنے لگتا ہے اور جب انسان اس محنت اور ریاضت سے یہ مقام حاصل کر لیتا ہے تو پھر بقول اقبال۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
​4, یومِ اقبال اور پیغامِ عمل
​آج کے دور میں ‘حقیقتِ منتظر’ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ روشن مستقبل اور وہ ‘مردِ مومن’ جس کا تصور اقبال نے دیا تھا، وہ اب بھی ایک انتظار کی صورت میں ہے۔ اقبال کی شاعری محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ عمل کے لیے ہے:
​عشق و مستی: محض عقل پر تکیہ کرنے کے بجائے عشق کے جذبے کو بیدار کرنا۔
​تحرک: سجدوں کی تڑپ کو عملِ پیہم میں بدلنا۔
​ خلاصہ:
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ کائنات کی بے ثباتی کے پیچھے ایک ابدی حقیقت موجود ہے اور ہمیں اس کو پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ ہم فلاح پا سکیں۔ یومِ اقبال پر ہمارا عہد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے علم،عقل، تحقیق اور عمل کے ذریعے اس ‘حقیقت’ کی تلاش جاری رکھیں اور اپنی زندگی کو اس سانچے میں ڈھالیں جہاں ‘مجاز’ (یہ دنیا) ‘حقیقت’ (احکامِ الٰہی) کے تابع ہو جائے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow