از قلم: ماہ نور کنول
زندگی ہمیں کوئی بھی راستہ مفت میں نہیں دیتی۔ ہر راستے کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے۔ کبھی یہ قیمت تھکن ہوتی ہے، کبھی صبر اور کبھی انتظار۔ اگر انسان کام کرتا ہے تو وہ تھک جاتا ہے، اگر کام نہ ہو تو دل خالی خالی سا لگتا ہے۔ اگر رشتے ہوں تو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور اگر رشتے نہ ہوں تو انسان تنہائی میں کھو جاتا ہے۔ اگر ہم گھر میں رہیں تو مشکلات سامنے آتی ہیں اور اگر پردیس جائیں تو جدائی دل کو اداس کر دیتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر انسان کرے کیا؟ کون سا راستہ چنے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ زندگی میں کوئی بھی راستہ مکمل آسان نہیں ہوتا، صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ ہم کس مشکل کو برداشت کر سکتے ہیں کس کو نہیں۔ کچھ مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور کچھ مشکلات انسان کو توڑ دیتی ہیں۔ سمجھدار انسان وہ ہے جو ایسی مشکل چنے جو اسے بہتر بنائے، نہ کہ ایسی جو اسے ختم کر دے۔ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہر راستہ مشکل ہے ہر قدم پر غم ہیں تو خوشی کہاں ہے؟ خوشی مشکل کے ختم ہونے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ہم اپنی مشکل کو سمجھ کر جینا سیکھ لیں۔ زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چیز آسان نہیں ہوتی، مگر ہر مشکل بے مقصد بھی نہیں ہوتی۔ ہر تکلیف کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبق چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے زندگی سے بھاگنے کے بجائے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم کون سا بوجھ اٹھا سکتے ہیں اور کون سا نہیں کیوں کہ ہر بوجھ برا نہیں ہوتا، کچھ بوجھ ہمیں مضبوط بھی بناتے ہیں۔عنوان: زندگی میں ہر راستہ آسان نہیں ہوتا
از قلم: ماہ نور کنول
زندگی ہمیں کوئی بھی راستہ مفت میں نہیں دیتی۔ ہر راستے کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے۔ کبھی یہ قیمت تھکن ہوتی ہے، کبھی صبر اور کبھی انتظار۔ اگر انسان کام کرتا ہے تو وہ تھک جاتا ہے، اگر کام نہ ہو تو دل خالی خالی سا لگتا ہے۔ اگر رشتے ہوں تو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور اگر رشتے نہ ہوں تو انسان تنہائی میں کھو جاتا ہے۔ اگر ہم گھر میں رہیں تو مشکلات سامنے آتی ہیں اور اگر پردیس جائیں تو جدائی دل کو اداس کر دیتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر انسان کرے کیا؟ کون سا راستہ چنے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ زندگی میں کوئی بھی راستہ مکمل آسان نہیں ہوتا، صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ ہم کس مشکل کو برداشت کر سکتے ہیں کس کو نہیں۔ کچھ مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور کچھ مشکلات انسان کو توڑ دیتی ہیں۔ سمجھدار انسان وہ ہے جو ایسی مشکل چنے جو اسے بہتر بنائے، نہ کہ ایسی جو اسے ختم کر دے۔ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہر راستہ مشکل ہے ہر قدم پر غم ہیں تو خوشی کہاں ہے؟ خوشی مشکل کے ختم ہونے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ہم اپنی مشکل کو سمجھ کر جینا سیکھ لیں۔ زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چیز آسان نہیں ہوتی، مگر ہر مشکل بے مقصد بھی نہیں ہوتی۔ ہر تکلیف کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبق چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے زندگی سے بھاگنے کے بجائے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم کون سا بوجھ اٹھا سکتے ہیں اور کون سا نہیں کیوں کہ ہر بوجھ برا نہیں ہوتا، کچھ بوجھ ہمیں مضبوط بھی بناتے ہیں۔عنوان: زندگی میں ہر راستہ آسان نہیں ہوتا
از قلم: ماہ نور کنول
زندگی ہمیں کوئی بھی راستہ مفت میں نہیں دیتی۔ ہر راستے کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے۔ کبھی یہ قیمت تھکن ہوتی ہے، کبھی صبر اور کبھی انتظار۔ اگر انسان کام کرتا ہے تو وہ تھک جاتا ہے، اگر کام نہ ہو تو دل خالی خالی سا لگتا ہے۔ اگر رشتے ہوں تو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور اگر رشتے نہ ہوں تو انسان تنہائی میں کھو جاتا ہے۔ اگر ہم گھر میں رہیں تو مشکلات سامنے آتی ہیں اور اگر پردیس جائیں تو جدائی دل کو اداس کر دیتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر انسان کرے کیا؟ کون سا راستہ چنے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ زندگی میں کوئی بھی راستہ مکمل آسان نہیں ہوتا، صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ ہم کس مشکل کو برداشت کر سکتے ہیں کس کو نہیں۔ کچھ مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور کچھ مشکلات انسان کو توڑ دیتی ہیں۔ سمجھدار انسان وہ ہے جو ایسی مشکل چنے جو اسے بہتر بنائے، نہ کہ ایسی جو اسے ختم کر دے۔ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہر راستہ مشکل ہے ہر قدم پر غم ہیں تو خوشی کہاں ہے؟ خوشی مشکل کے ختم ہونے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ہم اپنی مشکل کو سمجھ کر جینا سیکھ لیں۔ زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چیز آسان نہیں ہوتی، مگر ہر مشکل بے مقصد بھی نہیں ہوتی۔ ہر تکلیف کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبق چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے زندگی سے بھاگنے کے بجائے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم کون سا بوجھ اٹھا سکتے ہیں اور کون سا نہیں کیوں کہ ہر بوجھ برا نہیں ہوتا، کچھ بوجھ ہمیں مضبوط بھی بناتے ہیں۔
Latest Posts
