اور اب تھانوں میں بائیو میٹرک ۔ کمال ڈرامہ

رانا امجد علی امجد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
حکومت پنجاب کا ایک اور ڈرامہ سامنے آیا ہے ۔
داد رسی و انصاف کی راہ میں ایک اور رکاوٹ۔
انصاف کے قتل عام کی طرف ایک اہم پیش رفت۔
خبر ہے کہ پنجاب کےتھانوں میں نیا قانون متعارف کروایا جا رہا ھے کہ جس کے تحت بغیر بایومیٹرک تصدیق کسی بھی تھانہ میں کوئی انٹری نہیں ہوگی۔
جی ہاں اطلاعات کے مطابق پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے تمام پولیس اسٹیشنوں میں بایومیٹرک ویریفیکیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت بغیر بایومیٹرک تصدیق کے نہ کوئی مدعی درج ہوگا، نہ کوئی ملزم کیس میں شامل ہوگا اور نہ ہی کوئی گواہ ریکارڈ پر آئے گا۔
مختصر یہ کہ انگوٹھا نہیں تو انٹری نہیں۔
حکومت کا دعوہ ہے کہ اس نظام کے نفاذ سے جعلی ایف آئی آر، فرضی گواہ اور بناوٹی مقدمات درج کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ہر انٹری مکمل طور پر ڈیجیٹل اور ٹریس ایبل ہوگی جس سے شناختی دھوکہ دہی اور ہیرا پھیری کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔
جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس نظام سے شکایات آدھی سے بھی کم رہ جائیں گی، مقصد صرف عوام کو داد رسی اور انصاف سے دور رکھنا ھے۔
نہ زیادہ شکایات ہوں گی نہ زیادہ مقدمات۔۔
فرض کریں آپ پر کوئی مقدمہ درج ھے تو آپ خود ہی اپنے ساتھ ہوئے جرم کی شکائیت لے کر تھانہ میں نہیں جائیں گے کیونکہ آپکی شکائیت سے پہلے ہی آپکو ہی دھر لیا جائے گا۔
اور اگر آپکی لا علمی میں آپ کسی مقدمے میں نامزد ہوئے تو آپ ادھر ہی گرفتار ہو جائیں گے۔
اب ہر شخص تھانہ رجوع کرنے سے پہلے اپنا سی آر او چیک کروائے گا اور اس کے لئے بلیک مارکیٹ سے سارا پیسہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لوگ ہی اکٹھا کریں گے۔
اور مقدمہ کے تاخیر سے اندراج کی وجہ سے مقدمے کا بیڑہ غرق۔ خس کم جہاں پاک۔
نہ ہو گا بانس ۔ نہ بجے گی بانسری۔شنید ہے کہ پنجاب بھر کے تمام تھانوں میں یہ سسٹم 7 دن کے اندر فعال کرنا لازمی ہے اور افسران کو اسی مدت میں تعمیلی رپورٹ بھی جمع کروانی ہوگی۔
افسوس کیا طرز حکمرانی ھے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow