“چھوڑ دینے کا ہنر، بکھرنے کا وقار”

تحریر: عندلیب (کراچی)
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور میں ایک پرانے، تن آور درخت کے سائے تلے خاموش بیٹھی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا سکون تھا جیسے کائنات کسی اہم سبق کی تمہید باندھ رہی ہو۔اسی لمحے ہوا کا ایک سرد جھونکا آیا اور درخت کی شاخوں سے پتے جھڑنے لگے۔ بے شمار، بے آواز، بالکل خاموشی سے ایک ایک کر کے، جیسے کوئی قدیم حساب چکایا جا رہا ہو۔ ہر پتا اپنے وقتِ مقرر پر خود کو شاخ سے جدا کر رہا تھا، بغیر کسی شور کے، بغیر کسی احتجاج کے۔ نہ جھڑنے والے پتوں کو کوئی ملال تھا اور نہ ہی پیچھے رہ جانے والی شاخ کو کوئی تاسف۔ درخت اپنی جگہ ساکت و جامد رہا۔ وہ نہ لرزا، نہ جھکا اور نہ ہی اس کے وجود میں اداسی کی کوئی لہر اٹھی۔ اس نے اپنے بکھرتے پتوں کو روکنے کی ایک بھی کوشش نہ کی۔ اس کے اس ٹھہراؤ میں کوئی سنگدلی یا بے حسی نہ تھی بل کہ ایک گہری الہامی سمجھ تھی۔
یہ وہ ابدی سمجھ تھی کہ جب جڑیں مٹی کے سینے میں مضبوطی سے گڑی ہوں تو شاخوں کا بکھرنا کوئی المیہ نہیں رہتا۔ اسے علم تھا کہ یہ گرنا دراصل فنا نہیں، بل کہ بقا کا راستہ ہے۔ یہ علم کہ جو جا رہا ہے، اس کا جانا اس لیے ضروری ہے کہ قدرت کا پہیہ کبھی رکتا نہیں۔ اور ہم؟ ہم جو اشرف المخلوقات ہونے کے دعویدار ہیں، اس فطری سچ سے ہمیشہ بھاگتے ہیں۔ ہم ہر چھوٹنے والی چیز پر سینہ تھام کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ رشتہ ہو، عہدہ ہو، کوئی پرانی عادت ہو یا بیتا ہوا کوئی لمحہ، ہم اسے جانے نہیں دیتے۔ ہم ماضی کی یادوں کو اپنی مٹھی میں اس قدر زور سے بھینچتے ہیں کہ ہماری اپنی ہتھیلی زخمی ہو جاتی ہے اور اس سے خون رسنے لگتا ہے مگر ہماری پکڑ نہیں چھوٹتی۔ ہم ان مرجھائے ہوئے، زرد پتوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں، اس موہوم سی امید پر کہ شاید کسی معجزے سے ان میں دوبارہ زندگی کی رمق دوڑ جائے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ صرف ایک بوجھ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا بوجھ جو ہماری روح کے کندھوں کو جھکا دیتا ہے اور ہمیں مستقبل کی راہ پر ایک قدم بھی آگے نہیں چلنے دیتا۔
ہم درخت کی ان خالی شاخوں کو دیکھ کر اس لیے ڈر جاتے ہیں کیوں کہ ہم خالی پن کو خاتمہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی خلا اور تنہائی دراصل بہار کا خاموش پیش خیمہ ہے۔ کاش ہم بھی اس درخت کی طرح یہ راز پا سکتے کہ خالی ہونا برا نہیں ہے۔ یہ تو خود کو دوبارہ نئے رنگوں سے بھرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ ہم اپنی زندگی کا کتنا بڑا حصہ صرف اس پچھتاوے کی نذر کر دیتے ہیں کہ کیا کھو گیا اور کیا چھن گیا۔ اور اس ماتم میں یہ سراسر بھول جاتے ہیں کہ جو جڑیں اب بھی سلامت ہیں، انہیں کیسے سنبھالنا ہے۔ جو چیز جانا چاہتی ہے، اسے جانے دینا ہی وقار ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی گلے کے۔
نفسیات کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ انسان کسی بھی نقصان کو فائدے کے مقابلے میں دوگنا شدت سے محسوس کرتا ہے۔ یعنی جو نعمت ہمارے پاس ہے، اس کی خوشی ہمیں اتنی توانائی نہیں دیتی جتنا وہ درد ہمیں توڑ دیتا ہے جو کسی چیز کے چھن جانے سے پیدا ہوتا ہے۔
دراصل ہم چیزوں سے نہیں بل کہ ان چیزوں سے جڑی اپنی اس فرضی شناخت سے چمٹے رہتے ہیں جو ہم نے خود تخلیق کی ہوتی ہے۔ ہم یہ سوچ کر گھبراتے ہیں کہ اگر یہ رشتہ نہ رہا، یہ عہدہ نہ رہا، یہ خاص سماجی کردار نہ رہا تو پھر “میں” کون ہوں؟ میرا وجود کیا ہے؟ اسی انجانے خوف سے ڈر کر ہم خود کو ایک ایسی ذہنی قید میں بند کر لیتے ہیں جس کی چابی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے مگر ہم اسے گھمانے سے کتراتے ہیں۔ انسان اکثر اپنی تکلیف سے زیادہ، اس تکلیف کی عادت کا اسیر ہو جاتا ہے۔ وہ اس پرانے درد میں ایک عجیب سی پناہ گاہ ڈھونڈ لیتا ہے اور نئے پن کی روشنی سے آنکھیں چرانے لگتا ہے۔ کاش ہمیں یہ ادراک ہو جائے کہ خالی ہونا کوئی کمزوری یا عیب نہیں ہے۔ یہ تو کائنات کا ایک طریقہ ہے کہ ہمیں دوبارہ ترتیب دیا جائے۔ جیسے اگلی سانس لینے کے لیے پچھلی سانس کا چھوڑنا ناگزیر ہے، بالکل ویسے ہی کچھ رشتے، کچھ زہریلی عادتیں اور کچھ پرانے زخم چھوڑنے پڑتے ہیں تاکہ نئی زندگی اور نئی امیدوں کے لیے جگہ بن سکے۔ ہر وہ جملہ جو خدا حافظ پر ختم ہوتا ہے، وہ دراصل ایک نئے باب کا پہلا حرف ہوتا ہے۔ یہ جدائی نہیں، بل کہ ارتقاء ہے۔ اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق چل رہا ہو بل کہ امتحان تو تب ہوتا ہے جب سب کچھ بکھر رہا ہو۔ جب اختیارات کی ڈور آپ کے ہاتھ سے چھوٹ رہی ہو تو یہ دیکھنا اہم ہوتا ہے کہ کیا آپ کی جڑیں، آپ کا صبر، آپ کا توکل اور آپ کا ظرف اتنا مضبوط ہے کہ آپ تمام تر طوفانوں کے باوجود اپنے پیروں پر کھڑے رہ سکیں؟
کبھی کبھی، سب سے بڑی شفا کسی چیز کو بھول جانے میں نہیں ہوتی بل کہ اسے مکمل ہوش و حواس کے ساتھ چھوڑ دینے میں ہوتی ہے۔
آج کی اس ڈھلتی شام میں ذرا تنہائی میں بیٹھیے۔ اپنی روح کے بند کواڑ کھولیے اور سوچیے! آپ کی زندگی میں وہ کون سا پتہ ہے جو جھڑنا چاہتا ہے، جو اپنا وقت پورا کر چکا ہے مگر آپ اسے پوری قوت سے تھامے ہوئے ہیں؟ وہ کون سا رشتہ ہے جو عرصہ دراز پہلے دم توڑ چکا ہے مگر آپ نے ابھی تک اسے باوقار طریقے سے الوداع نہیں کہا؟ وہ کون سی تلخ بات ہے جو آپ کے سینے میں سالوں سے پتھر بنی بیٹھی ہے اور آپ کے لہجے کو بھاری کر رہی ہے؟ وہ کون سا بوجھ ہے جسے آپ نے وفا یا مجبوری کا نام دے کر اپنے اعصاب پر سوار کر رکھا ہے؟
کیا یہ سب بوجھ واقعی آپ کو مکمل کر رہے ہیں یا آپ کو اندر سے آہستہ آہستہ کھوکھلا کر کے توڑ رہے ہیں؟یاد رکھیے۔۔۔ٹوٹتا وہ نہیں جو چھوڑ دیتا ہے۔ ٹوٹتا وہ ہے جو چھوڑ نہیں پاتا۔ درخت آج بھی وہیں کھڑا ہے۔پتوں کے بغیر بھی۔۔۔ پورا۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow