از قلم زاہد اقبال بھیل
چیف ایڈیٹر: سلسلے وار مجلہ قلم و قرطاس ننکانہ صاحب
اردو غزل ہماری ادبی روایت کا وہ نازک اور دلکش پھول ہے جس کی خوشبو صدیوں سے اہلِ ذوق کے دلوں کو معطر کرتی آئی ہے۔ یہ صنفِ سخن محض عشق و محبت کی داستان نہیں بلکہ انسانی احساسات، فکری جہات اور تہذیبی شعور کی آئینہ دار بھی ہے۔ جب اس نازک صنف کو تحقیق کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے تو اس کے رنگ اور بھی نکھر جاتے ہیں اور اس کی معنوی گہرائیاں سمندر کی تہوں کی مانند آشکار ہونے لگتی ہیں۔ تحقیق گویا وہ چراغ ہے جو غزل کے مبہم گوشوں کو روشن کر کے اس کے حسن کو مزید جلا بخشتا ہے۔
ڈاکٹر محمد نواز کنول کی تصنیف ’’اردو غزل تحقیق کے آئینے میں‘‘ اسی روشنی کا ایک درخشاں مظہر ہے۔ یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ غزل کے فکری، فنی اور تنقیدی پہلوؤں کا ایک جامع منظرنامہ ہے، جس میں مختلف اہلِ علم نے اپنی بصیرت کے رنگ بھرے ہیں۔
218 صفحات پر مشتمل یہ کتاب 2026ء میں روشن پبلی کیشنز سے نہایت خوبصورت ٹائیٹل اور معیاری کاغذ پر شائع ہو کر منظرِ عام پر آئی۔ اس کا انتساب نامور محقق، نقاد اور شاعرہ ڈاکٹر فضیلت بانو کے نام ہے، جو خود اردو ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ ہیں۔
اس کتاب میں شامل مضامین گویا ایک ادبی کہکشاں ہیں، جہاں ہر ستارہ اپنی الگ روشنی کے ساتھ چمک رہا ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا مضمون’’اردو غزل‘‘ اس صنف کے بنیادی خدوخال کو واضح کرتا ہے، جبکہ ڈاکٹر طارق ہاشمی’’تدریسِ غزل‘‘ کے مباحث و مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ خود ڈاکٹر محمد نواز کنول کا مضمون ’’اردو غزل کی روایت‘‘ اس صنف کی تاریخی جڑوں کو اجاگر کرتا ہے۔
غالب کی غزل میں خدا کے تصور پر غلام مرتضیٰ کی تحریر ایک فکری دریچہ کھولتی ہے، جبکہ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی نے یگانہ کی غزل کو تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ شکیب جلالی، مجید امجد، اور پیر سید غلام معین الدین گیلانی گولڑوی جیسے شعرا کی غزل گوئی پر مضامین اس کتاب کو مزید وسعت دیتے ہیں۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی کا ’’اردو غزل میں غمِ دوراں‘‘ اور ڈاکٹر فضیلت بانو کا مضمون غزل کی فنی باریکیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ڈاکٹر محمد نواز کنول کا’’حالی تا فراق گورکھ پوری‘‘ تک کا سفر غزل کی ارتقائی منازل کو واضح کرتا ہے، جبکہ ہمایوں ظفر زیدی کا ناصر کاظمی پر تاثراتی مطالعہ ایک دلکش ادبی خاکہ پیش کرتا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا، پروفیسر سید محمد عقیل اور ڈاکٹر عابد سیال کے مضامین غزل کے جدید رجحانات، ترقی پسند تحریک کے اثرات اور اکیسویں صدی کے تناظر کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ شمیم حنفی کا مضمون آزادی کے بعد کی غزل کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
ڈاکٹر محمد نواز کنول کی یہ کاوش گویا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اردو غزل کے مختلف ادوار، رجحانات اور شخصیات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کی ترتیب و تدوین میں ایک محقق کی باریک بینی اور ایک ادیب کی جمالیاتی حس نمایاں ہے۔
’’اردو غزل تحقیق کے آئینے میں‘‘ایک ایسا علمی و ادبی سرمایہ ہے جو غزل کے طالب علموں، محققین اور اہلِ ذوق کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ یہ کتاب نہ صرف غزل کی تفہیم کو آسان بناتی ہے بلکہ اس کے حسن کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔یہ تصنیف اردو ادب کے گلشن میں ایک ایسا روشن چراغ ہے، جو تحقیق کی روشنی سے غزل کے ہر گوشے کو منور کرتا ہے اور قاری کو فکری بالیدگی کی نئی راہوں سے آشنا کرتا ہے۔
Latest Posts
