فکر قائد اور آج کا پاکستان۔

لکھاری: عاصمہ خان
تاریخ کے اوراق گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر ہمیشہ چند غیر معمولی افراد کے ہاتھوں سنورتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نہ صرف وقت کے دھارے کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بکھری ہوئی قوموں کو ایک نظریے کے تحت یکجا کر کے انہیں عروج کی راہوں پر گامزن کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی عظیم راہنماؤں میں ایک درخشاں نام قائد اعظم محمد علی جناح کا ہے۔ جنہوں نے نہ صرف تکمیل پاکستان کا خواب اپنی آنکھوں کی زینت بنایا بلکہ اسے حقیقت بنانے کے لیے اپنے خون جگر تک کو عطیہ کردیا۔ سخت علالت کو آڑے نہ آنے دیا کیونکہ ان کے عزائم مادی اسباب کے مقابلے میں بہت بلند تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی دور اندیشی، محنت و توکل علی اللہ نے انہیں اس عظیم سرزمین کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنایا۔ اگر ہم تاریخی اوراق سے گرد ہٹائیں تو ان کی کوششوں کا اندازہ بخوبی لگا لیں گے۔ جب مسلمان سماجی و اقتصادی طور پر زوال کا شکار تھے تب انہوں نے امید کی شمع جلائی۔ مغرب کو یہ یاد دہانی کروائی کہ مسلمان قوم بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ کہ اسے پسپا کرنے کی غرض سے اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کچل دیا جائے گا۔ انہوں نے پوری دنیا کو یہ باور کروایا کہ مسلمان ایک غیرت مند قوم ہے۔ جابر مخالفین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگانے والے اس راہنما کی عظمت کو سلام!
قائد انقلاب کا نظریہ اسلام و پاکستان واضح تھا اور پھر گیارہ اگست کی تقریر اُن تفرقات سے بالاتر ارادوں کی ترجمان ہے۔
ایسے بااصول، تحفظ حقوق کے پاسبان اور خوفِ خدا سے سرشار دل رکھنے والے لیڈر شاذ و نادر ہی پیدا ہوتے ہیں اور بابائے قوم کا شمار انہی شاذ و نادر لوگوں میں ہوتا ہے۔ محنت کا علم تھامنے والے اس بیرسٹر نے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کے چٹیل میدانوں تک ہر مسلمان کو یکجا کیا۔ ہر قسم کے فرق سے بالاتر ہو کر ایک جیسا نظریہ رکھنے والوں کو اتحاد کی لڑی میں پرو دیا۔ انہوں نے اس مادر وطن کو بہاروں کے رنگ سے سینچا مگر دلی رنج ہے کہ اب یہ محض خزاں کی آماجگاہ بن رہا ہے۔ محمد علی جناح کا نعرہ “ایمان، اتحاد اور تنظیم” صرف در و دیوار اور کتب کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔ جس قوم کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر عظمت کی روشنی دکھائی، آج وہی عوام الناس پھر سے تفرقہ بازی اور انانیت پسندی کا شکار ہے۔ جذبے ایسے ماند پڑے ہیں کہ انہیں سلگانے کے لیے بڑے سے بڑا آتش فشاں بھی ناکافی ثابت ہو جائے۔
ایسے حالات میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ معمار پاکستان کے چودہ نکات کو پسِ پشت ڈال کر ہم کس ترقی کی امید کو دل میں لیے بیٹھے ہیں؟ ان کے مشن کو قیدی بنا کر ہم عظمت کی بلندیوں کو چھونے کے لیے بےتاب ہیں لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ کیا قائد ملت کی قربانیوں کا یہ صلہ تیار کیا ہے ہم نے؟ ذیلی اداروں سے لے کر بالا سطحی انتظامیہ تک ہم کافی عرصے سے نااتفاقی کا شکار ہیں۔ قومی، لسانی و علاقائی فرق اس قدر تقویت حاصل کر چکا ہے کہ اب تو بنیادی اقدار بھی اس کا شکار ہو رہی ہیں۔
سب سے بنیادی مسئلہ لیڈر کے نظریات و اسلام کی غلط تشریح ہے۔ کہنے کو تو تمام مکاتب فکر انہیں سراہتے دکھائی دیتے ہیں لیکن پیش قدمی کے لیے کوئی راضی نہیں۔ قائد کا وہ دیس جو تحفظِ بنیادی حقوق و ترقیِ مملکت کا ضامن تھا، آج بے بسی کی صدا بن چکا ہے۔ عالم اسلام کی امید بن کر ابھرنے والا پاکستان اندرونی پیچیدگیوں کا شکار بن چکا ہے اور سب سے بڑھ کر جو نوجوان اس کی عظمت کے محافظ تھے، آج ان کے نصب العین میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کا طرز گزشتہ تباہ شدہ قوموں سے میل کھانے لگا ہے۔
سوشل میڈیا سے کی جانے والی منفی ذہن سازی کے اثرات واضح ہیں، اور میرٹ کی پامالی نے ان کی صلاحیتوں کو مزید محدود کر دیا ہے۔ افسوس کہ اقلیتوں کو جانی و مالی راحت بخشنے والی زمین اب اکثریت کے تحفظ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہے مگر افراتفری کے اس عالم میں جوانانِ وطن کا یہ فریضہ ہے کہ اس کے پاسبان بنیں۔ قائد اعظم کی وہ اقدار جو دورِ حاضر کی ظلمتوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہیں، انہیں پھر سے اجاگر کرلیں۔ ایمان کا پرچم تھام کر اپنے عقائد کو درست کرلیں۔ ایک اللہ، ایک رسول، ایک کعبہ اور ایک قرآن کے محافظ بن جائیں۔ جغرافیائی مسئلوں کو نظر انداز کر کے اتحاد و یگانگت کو گلے لگائیں۔ وہ ایمان جو دورِ فتنہ بازی کا شکار بن چکا ہے، اسے ماضی کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے پھر سے زندہ کریں۔
زندگیوں کو نظم و ضبط کے قوانین کا عادی بنائیں۔ ان قربانیوں کو رائیگاں مت جانے دیں، جن کی بنیادوں پہ آج ہم آزادی سے سانس لینے کے قابل ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح سمیت جتنی خواتین کی کوششیں اس ملک کو سنوارتی رہی ہیں، انہیں مت بھولیں۔ ان کا مان رکھیں۔ ان کے نصب العین کے محافظ بنیں۔ جو کام نفس کو گراں گزرے مگر ملکی استحکام کی خاطر ہو تو اسے کر گزریں۔ لہذا ہمیں ایثار و باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔
کیونکہ نہ تو قائد اعظم دوبارہ زندہ ہوں گے اور نہ ہی علامہ اقبال ہمارے لیے مزید انقلابی شاعری لکھ سکتے ہیں۔ ہم ہی وارث ہیں اس میراث کے اور ہمیں ہی اسے آگے لے کر چلنا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنے کردار و ترجیحات کو درست نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
بلاشبہ:ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی (علامہ محمد اقبال)

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow