از قلم: آمینہ یونس، بلتستانی
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب زندگی سادگی کے سائے میں پروان چڑھتی تھی اور رشتوں میں بناوٹ نہیں تھی بلکہ خلوص کی خوشبو ہوا کرتی تھی۔ میری امی اکثر ماضی کے دریچوں کو کھولتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو چیزیں بے شک کم ہوتی تھیں اور دسترخوان بھی سادہ ہوتا تھا مگر جو چیز وافر تھی، وہ محبت، اپنائیت اور دلوں کی کشادگی تھی۔ جب کبھی کوئی شخص شہر سے واپس آتا تو گویا پورا گاؤں خوشی سے جھوم اٹھتا، گھر والے ہوں یا محلے دار، مرد ہوں یا عورتیں ،سب مل کر پھولوں کے گلدستے تیار کرتے اور گاؤں کی حدود سے باہر تک ایک خوبصورت جلوس کی صورت میں اس کے استقبال کے لیے جاتے۔ وہاں پہنچ کر ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ اُسے پھول پیش کیے جاتے، دعائیں دی جاتیں اور پھر اسی محبت بھرے قافلے کے ہمراہ اسے اُس کے گھر تک پہنچایا جاتا۔ شہر سے آنے والا بھی خالی ہاتھ نہ ہوتا؛ وہ جو کچھ لاتا، اسے صرف اپنے گھر تک محدود نہ رکھتا بلکہ پورے گاؤں میں بانٹ دیتا تاکہ خوشی سب کی ہو،صرف ایک کی نہیں مگر آج کے دور میں نہ وہ سادگی رہی اور نہ وہ اپنائیت، اب نہ کسی کے آنے کی خبر ہوتی ہے اور نہ جانے کا احساس۔ لوگ خاموشی سے آتے ہیں اور بے نشاں چلے بھی جاتے ہیں۔ رشتے سمٹ کر صرف ضرورت تک محدود ہو گئے ہیں اور وہ اجتماعی خوشیاں کہیں پیچھے رہ گئی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ جو لمحہ ہمارے پاس ہوتا ہے، وہی سب سے قیمتی اور حسین ہوتا ہے مگر انسان کی فطرت ہے کہ وہ حال کی قدر نہیں کرتا اور جب وہی لمحے ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں تو دل میں ایک میٹھی سی کسک، ایک خاموش سا پچھتاوا چھوڑ جاتے ہیں کہ کاش ہم نے اُنہیں جیا ہوتا۔
Latest Posts
