عنوان :تعلیم یافتہ مگر بے شعور معاشرہ

از قلم: سعدی
آج کا انسان تعلیم یافتہ تو ہے مگر شعور سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، ادارے وسیع ہو رہے ہیں مگر رویوں میں پختگی نظر نہیں آتی۔ علم حاصل کیا جا رہا ہے مگر اس علم کا مقصد سمجھنے کی کوشش کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں تعلیم تو موجود ہے مگر شعور غائب ہے۔
تعلیم کا اصل مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کو بہتر بنانا ہے۔ اسے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سکھانا ہے، اسے برداشت، اخلاق اور ذمہ داری کا احساس دینا ہے مگر بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کو صرف نمبروں اور ڈگری تک محدود کر دیا ہے۔ طالب علم کتابیں پڑھ لیتا ہے مگر زندگی کو پڑھنا نہیں سیکھ پاتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھ جاتے ہیں۔ سڑک پر لڑائی، سوشل میڈیا پر بدزبانی، اختلاف میں برداشت کا فقدان، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ تعلیم نے شعور پیدا نہیں کیا۔ اگر تعلیم کے باوجود انسان دوسروں کی عزت نہ کرے، سچ کو قبول نہ کرے اور اپنے رویے کو بہتر نہ بنائے تو ایسی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔
گھر اور تعلیمی ادارے دونوں اس کمی کے ذمہ دار ہیں۔والدین بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں مگر اچھا انسان بننے کی تربیت کم دیتے ہیں، اسکول اور کالج نصاب مکمل کرتے ہیں مگر کردار سازی پر کم توجہ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ بظاہر پڑھا لکھا نظر آتا ہے مگر اندر سے کمزور ہوتا جاتا ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ شعور کو بھی اہمیت دی جائے۔ طلبہ کو صرف معلومات نہ دی جائیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور برداشت کرنے کی تربیت دی جائے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے بلکہ سیکھنے کا موقع بنایا جائے۔ یہی رویہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
اگر ہم نے تعلیم کو شعور کے ساتھ نہ جوڑا تو یہ خلا مزید بڑھتا جائے گا۔ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں علم تو ہوگا مگر انسانیت کمزور ہو جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کے ساتھ اخلاق، برداشت اور ذمہ داری کو بھی اپنی ترجیح بنائیں، کیونکہ اصل کامیابی صرف پڑھا لکھا ہونا نہیں بلکہ سمجھ دار اور بااخلاق انسان بننا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow