ریٹاٸرمنٹ کا ”پہلا جشن“

رپورٹ رضیہ رحمٰن
ریٹاٸرمنٹ پر الوداعی پارٹی
اور اس ذکر کے ساتھ الوداعی کلمات , سوگوار فضا , ایسے جیسے خدانخواستہ زندگی کا اختتام ہونے جا رہا ہو۔ماحول کے انسان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔طبیعت گری گری سی , دل اداس اداس۔۔۔
یعنی سوگوار فضا نے دل کو بھی سوگوار کردیا تھا ۔
ایسے میں بھلا ہو میری پیاری پیاری سہیلیوں الماس بُرہان , شماٸلہ انجم اور عظمیٰ ناز کا کہ انہوں نے باہر کے ماحول کے ساتھ ساتھ دل کی دنیا میں بھی خوشی , مسرت اور انبساط پیدا کرنے کے لیے ایک پُر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا۔جو میری الوداعی پارٹی نہیں بلکہ میری ریٹاٸرمنٹ کا پہلا ”جشن “ تھا جو دھوم دھام سے منایا گیا۔
اس جشن کا دعوت نامہ بہت خوبصورت اور نفیس تھا جو میری سہیلیوں کے اعلیٰ ذوق اور مجھے سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
اس جشن میں میری امی جی کو بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گٸی , اور وہ اس اعزاز کی %100 مستحق بھی ہیں کیوں کہ میں آج اگر کسی مقام پر ہوں تو پیارے اللہ جی کے کرم کے بعد اس کا سارا کریڈٹ میرے عظیم والدین کو ہی جاتا ہے۔
اس جشن میں ہم سب کی مشترکہ دوست ہماری بہت پیاری ریٹاٸرڈ سینٸر ساتھی مسز یاسمین اقبال نے بھی خصوصی شرکت کی۔ان کے ساتھ کالج کی پرانی خوش گوار اور چند نا خوش گوار یادوں کو تازہ کیا گیا۔ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی ایمان فاطمہ نے بھی اس جشن کو رونق بخشی۔نور ایمان ایک بہت قابل شخصیت ہیں۔میڈیکل کی تعلیم مکمل کرکے ہاٶس جاب کے انتظار میں ہیں۔
اس ”جشن “ میں ہم سب سہیلیوں نے ایک سٹف , ایک ڈیزائن کے سُوٹ پہنے , لیکن سوٹ کا رنگ ہر کسی نے اپنی پسند سے منتخب کیا , مثلاً میں نے جامنی(purple ) ,الماس نے مسٹرڈ , عظمیٰ نے میرون اور شماٸلہ نے سبز(Green) رنگ کا سوٹ زیب تن کیا۔ سونے پر سہاگہ ہم نے اپنی شاگردوں سے اپنے سوٹوں سے میچ کرتی موتیوں کی خوب صورت اور نفیس جیولری بنواٸی ,خریدی اور وہ بھی پہنی , جس نے ماشاءاللہ ہمارے سوٹوں اور شخصیت کو چار چاند لگا دیٸے
اس ظہرانے کا اہتمام الماس کے گھر پر کیا گیا تھا کیوں کہ ہوٹل میں بہت ”تکلف“ اور پردے کو ملحوظ خاطر رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
گھر میں بناٸی جانے والی تمام ڈشز لاجواب تھیں , کیوں کہ ان کے اجزاء میں خلوص اور محبت کا ذاٸقہ بھی شامل تھا جو ہوٹل یا باہر کسی بھی جگہ میسر نہیں ہوسکتا تھا ۔بے تکلف ماحول اور خوب صورت گفتگو نے کھانے کا مزہ دوبالا کردیا۔اور تو اور الحمد للہ , ماشاءاللہ قدرت بھی ہم پرمہربان ہوگٸی۔ہلکی ہلکی بوندا باندی نے گرمی کے زور کا توڑ کردیا۔گرما گرم لزیز کھانوں کے بعد ٹھنڈی آٸس کریم ۔۔۔۔کا لطف ۔۔۔الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
اس ”جشن “ کو سہیلیوں کے بچوں کی معصوم باتوں اور چٹکلوں نے زعفران زار بنا دیا۔
اتنا یادگار جشن ہو اور اسے موبائل کیمرے میں تصویروں کی صورت میں محفوظ نہ کیا جاٸے ۔۔۔ ناممکن۔۔۔۔۔
سو اسقبالیہ گجروں سے لے کر میچنگ جیولری کے تحاٸف کے تبادلے سے لے کر کھانے کے دوران اور پھر اختتام پر گروپ فوٹو ۔۔۔۔ سب یادگار ۔۔۔
میری سہیلیو! پیارے اللہ جی آپ سب کو ہمیشہ خوش وخرم رکھیں,شاد اور آباد رکھیں۔اپنے بچوں کی خوشیاں اور کامیابیاں دیکھنا نصیب کریں۔دنیا اور آخرت کی بھلاٸیاں عطاء کریں۔ ہمیشہ سکھی رکھیں۔آمین.ثم آمین
دل تو چاہتا ہے کہ لکھتی چلی جاٶں مگر
دل کی کیا بات کریں , دل تو ہے ناداں جاناں
سو شازیہ اکبر کے ان دعایہ اشعار پر بات ختم کرتی ہوں
تری کامرانیوں پہ مرا دل بھی مسکرائے
اے مرے حسین ساتھی! تجھے کوئی غم نہ آئے
کبھی راستہ نہ بھولیں ترے گھر کا یہ بہاریں
تیری منزلوں کا جگنو سدا یونہی جگمگائے
کبھی آنسوؤں کی شبنم تری آنکھ پر نہ اُترے
نہ کوئی کرن سحر کی تمہیں بے قرار پائے۔آمین

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow