سرابِ زیست اور ضمیر کی صدا

ازِ قلم: محمد اختر انجم، ڈیرہ غازی خان
ہم ایسے دورِ زوال میں سانس لے رہے ہیں جہاں قدریں اپنی معنوی حرارت کھو چکی ہیں اور الفاظ اپنی روح سے بےگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسا عجب تضاد ہے کہ انسان نے افلاک و کائنات کی وسعتوں کو مسخر کر لیا، مگر اپنے ہی باطن کے اس مختصر مگر گہری معنویت رکھنے والے جہاں تک رسائی حاصل نہ کر سکا، جو مدتوں سے غفلت اور بے حسی کی تہوں میں مدفون ہے۔
یہ معاشرہ بھی کس نیرنگی کا شکار ہے کہ انسان کو اس کی حیات میں پہچاننے سے گریز کرتا ہے اور اس کی وفات کے بعد اس کے اوصاف و کمالات کی فہرستیں ترتیب دینے لگتا ہے۔ گویا زندگی میں حق گوئی کا دروازہ بند اور مرگ کے بعد ثنا خوانی کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ احساسات کی قدروقیمت اب خلوص و صداقت کے بجائے معاشی حیثیت اور سماجی منصب کے ترازو میں تولی جانے لگی ہے۔
آج کا انسان بظاہر کامیابی، خوشحالی اور اطمینان کے لباس میں ملبوس دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر ایک مسلسل بےچینی اور خاموش اضطراب کی کیفیت جاری ہے۔ یہ دوہری زندگی کا عجب منظر ہے؛ ایک وہ چہرہ جو دنیا کے سامنے مسکراہٹ لیے ہوئے ہے، اور ایک وہ حقیقت جو تنہائی کے سناٹوں میں خود اپنی ہی ذات سے محوِ مکالمہ رہتی ہے۔ ہجوم تو بے شمار ہیں، مگر اس ہجوم میں تنہائی اپنی تمام تر شدت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
ہم نے رشتوں کی مٹھاس کو برقی اسکرینوں کی سرد روشنیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اب محفلیں قہقہوں سے نہیں بلکہ پیغامات کی بےجان آوازوں سے آباد ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہم نے مٹی کے خالص اور زندہ رشتوں کے عوض مصنوعی رابطوں کو اختیار کر کے اپنی باطنی دنیا کو خود ہی بے نور کر لیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ضمیر کی آواز کو اس وقت خاموش کرنا سیکھ لیا جب ہم نے ظلم کو دیکھ کر سکوت اختیار کیا اور اسے حکمت و تدبر کا نام دیا۔ ہم نے کذب و ریا کو اس مہارت سے برتنا شروع کیا کہ وہ سچائی کے ہم پلہ دکھائی دینے لگا۔ نتیجتاً لفظ اپنی تاثیر کھو بیٹھے اور اظہار اپنی حرارت سے محروم ہو گیا۔ اب گفتگو ہو یا تحریر، بیشتر اظہار محض ظاہری آرائش تک محدود رہ گیا ہے۔
انسان اب مصلحتوں کے ایسے حصار میں قید ہے جہاں حق گوئی کو خطرہ اور خاموشی کو دانش مندی سمجھا جاتا ہے۔ مگر تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ زمانے کی پیشانی پر وہی نقوش ثبت ہوتے ہیں جو صداقت اور جرأت کے قلم سے تحریر کیے گئے ہوں۔
بالآخر ہر نفس کو اسی خاک کی آغوش میں لوٹ جانا ہے جس سے اس کی تخلیق ہوئی۔ وہاں نہ منصب و اقتدار کام آئیں گے، نہ شہرت و نام و نمود کے طلسم، اور نہ ہی مصنوعی مسکراہٹوں کی چمک دمک۔ وہاں صرف وہی حقیقت باقی رہے گی جو صدق و اخلاص کی بھٹی میں تپ کر کندن بنی ہو، اور وہی احساس جاوداں ہوگا جو کسی شکستہ دل کی صدا بن کر اٹھا ہو۔
زندگی درحقیقت ایک مختصر سا سفر ہے، اور مسافر کے لیے زیب نہیں دیتا کہ وہ راہ کی گرد کو اپنا افتخار بنا لے۔ اگر آج ہم نے اپنی سمت درست نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسے ہجوم کے طور پر یاد کریں گی جو بظاہر زندہ تھا مگر معنوی اعتبار سے مردہ ہو چکا تھا۔
انسان کی اصل معراج بلندیوں کی پیمائش نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ زمین پر اترے تو کتنے دلوں میں اس کے لیے سکون اور کتنی روحوں میں اس کی یاد سے قرار باقی ہو۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow