از قلم: ذیشان افضل
یہ بحث اب بہت پرانی اور بے معنی ہو چکی ہے کہ استاد گورنمنٹ ادارے کا ہے یا نجی ادارے کا، طالب علم سرکاری سکول میں پڑھتا ہے یا نجی ادارے میں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب اصل مسئلہ اداروں کے نام نہیں بل کہ اصل مسئلہ اب وہ رشتہ ہے جو ٹوٹتا ہوا بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔وہ رشتہ جو ہر تعلیمی نظام کی بنیاد ہے یعنی ایک استاد اور ایک طالب علم۔ استاد کا کام صرف نوکری کرنا نہیں بل کہ استاد کا اصل کام نسلوں کی تربیت کرنا، کردار بنانا، ذہنوں کو روشن کرنا اور قوم کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرنا ہے اور طالب علم کا کام صرف سکول آنا نہیں بل کہ طالب علم کا کام سیکھنا ہے، اپنے اندر صلاحیت پیدا کرنا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
جب ہم بار بار چھٹیوں کا اعلان کرتے ہیں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم صرف ایک دن کی چھٹی نہیں دیتے بل کہ ہم دراصل ایک بچے کی پڑھائی کا تسلسل توڑ دیتے ہیں۔ ہم اس کے ذہن کو کتاب سے دور کر دیتے ہیں۔ ہم اس کے معمولات بکھیر دیتے ہیں اور پھر ہم اسی بچے سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اچھا نتیجہ دے گا۔بہترین کارکردگی دکھائے گا اور آگے بڑھ کر ملک کا نام روشن کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلسل چھٹیوں کے درمیان پڑھائی ممکن ہے؟ کیا بار بار تعلیمی عمل رکنے سے کوئی بھی قوم ترقی کر سکتی ہے؟
آج ہمارے معاشرے میں تعلیم کے ساتھ سب سے بڑا مذاق یہی ہو رہا ہے کہ تعطیلات کو ضرورت سے زیادہ آسان اور معمول بنا دیا گیا ہے۔ کبھی کسی دن کی مناسبت سے چھٹی، کبھی کسی سیاسی یا انتظامی فیصلے کی بنیاد پر چھٹی، کبھی موسم کے نام پر چھٹی، کبھی احتجاج کے ڈر سے چھٹی، کبھی صرف اس لیے چھٹی کہ لوگوں کو آرام چاہیے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کو آرام کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی نہیں چاہیے؟ کیا بچوں کو مستقبل بھی نہیں چاہیے؟
یہ بات بالکل واضح ہے کہ چھٹیاں اگر ضرورت کے مطابق ہوں تو وہ فائدہ دیتی ہیں لیکن اگر چھٹیاں حد سے بڑھ جائیں تو وہ نقصان بن جاتی ہیں۔ بچے کی ذہنی رفتار ٹوٹ جاتی ہے۔ پڑھائی کی عادت کمزور ہو جاتی ہے۔ سبق یاد رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ کلاس کا تسلسل ختم ہوتا ہے۔ استاد دوبارہ وہی پرانا سبق سمجھانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور طالب علم نئی چیز سیکھنے کے بجائے پچھلا سبق یاد کرنے میں وقت ضائع کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کورس مکمل نہیں ہوتا، امتحانات بوجھ بن جاتے ہیں اور پھر والدین فریاد کرتے ہیں کہ بچوں کا معیار کیوں گر رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کو سنجیدہ لینے کے بجائے اسے ایک معمولی سرگرمی سمجھنے لگے ہیں۔ جیسے سکول جانا کوئی مجبوری ہو اور چھٹی کوئی کامیابی۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جہاں تعلیم کو سب سے بڑی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔ جہاں سکول کا وقت مقدس مانا جاتا ہے اور استاد و طالب علم کے درمیان تعلیمی رشتہ کسی صورت ٹوٹنے نہیں دیا جاتا ہے
یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں۔ تعلیم نظم و ضبط سکھاتی ہے۔ تعلیم وقت کی پابندی سکھاتی ہے۔ تعلیم سوچنے کا طریقہ دیتی ہے۔ تعلیم بچے کے اندر برداشت، اخلاق، اعتماد اور فیصلہ سازی پیدا کرتی ہے۔ جب بچے کو بار بار سکول سے دور رکھا جائے گا تو اس کے اندر یہ ساری عادتیں کمزور پڑ جائیں گی۔ پھر وہ موبائل، سوشل میڈیا اور بے مقصد مصروفیات میں پھنس جائے گا اور پھر یہی معاشرہ شور مچائے گا کہ نئی نسل بگڑ رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کو بگاڑنے میں سب سے بڑا حصہ ہماری اپنی غلط ترجیحات کا ہے۔ ہم بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے انہیں چھٹیوں کی عادت ڈال رہے ہیں۔ ہم استاد کے ہاتھ سے تدریس کا تسلسل چھین رہے ہیں۔ ہم تعلیمی اداروں کو اس قابل نہیں چھوڑ رہے کہ وہ مضبوط نظام کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
میرا یہ کالم کسی گورنمنٹ ٹیچر کے حق میں نہیں اور نہ کسی پرائیویٹ ٹیچر کے خلاف ہے۔ یہ کالم کسی سرکاری سکول کے حق میں نہیں اور نہ کسی پرائیویٹ سکول کے خلاف ہے۔ یہ کالم صرف اس حقیقت کا اعلان ہے کہ تعلیم کا نقصان سب کا نقصان ہے۔ جو بچہ سرکاری سکول میں پڑھتا ہے وہ بھی اسی ملک کا مستقبل ہے اور جو بچہ نجی سکول میں پڑھتا ہے وہ بھی اسی مٹی کا بیٹا ہے۔ اگر دونوں کا وقت ضائع ہوگا تو نقصان بھی پورے ملک کو ہوگا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کو واضح طور پر کہا جائے کہ تعلیم کے معاملے میں کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔ ایسا نظام بنایا جائے جس میں تعطیلات کم ہوں، منظم ہوں اور صرف ضرورت کے مطابق ہوں۔ چھٹیوں کا ایک واضح کیلنڈر بنایا جائے تاکہ استاد بھی ذہنی طور پر تیار ہو اور طالب علم بھی اپنی پڑھائی کے مطابق خود کو ترتیب دے سکے۔
اساتذہ، والدین اور معاشرے کے سنجیدہ افراد کو بھی چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر آواز بلند کریں۔ یہ آواز کسی سیاسی نعرے کے لیے نہیں ہے یہ آواز بچوں کے مستقبل کے لیے ہے۔ یہ آواز علم کے احترام کے لیے ہے۔ یہ آواز اس استاد کے لیے ہے جو اپنی پوری زندگی بچوں کو سنوارنے میں لگا دیتا ہے۔ یہ آواز اس طالب علم کے لیے ہے جو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے تعلیم کا سہارا لیتا ہے۔
بات صرف اتنی ہے کہ چھٹیوں کی بھرمار بند کی جائے۔ تعلیم کو ترجیح دی جائے۔ بچوں کو پڑھنے دیا جائے اور اساتذہ کو پڑھانے دیا جائے۔ کیونکہ اگر ہم نے آج علم کو نہ بچایا تو کل ہمیں اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں سڑکوں، عمارتوں اور نعروں سے نہیں بنتیں، قومیں صرف تعلیم سے بنتی ہیں۔ اور تعلیم کو کمزور کرنے والا ہر فیصلہ دراصل قوم کے مستقبل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
لہٰذا بات گورنمنٹ یا پرائیویٹ کی نہیں… بات صرف استاد اور طالب علم کی ہے۔
pکیش لیس اکانومی Cash Less Economy
تحریر: ندیم یعقوب گوہر
پاکستان ایک ایسے نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے جہاں روایتی طرزِ زندگی اور فرسودہ مالیاتی نظام اب مزید ترقی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں میں بدل چکی ہے اور اس گلوبل ویلیج کا حصہ بننے کے لیے ہمیں اپنے معاشی ڈھانچے کو جڑ سے تبدیل کرنا ہوگا۔ کیوںکہ کیا ہم نوٹوں اور سکوں کی قید سے نکل کر ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھنے کے لیے تیار ہیں؟ کیش لیس نظام محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک شفاف، تیز رفتار اور محفوظ معاشی انقلاب کا نام ہے جہاں لین دین کے لیے مادی رقم کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع جیسے موبائل والٹس، کارڈز اور آن لائن ٹرانسفرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ہر ایک روپے کی گردش کو ریکارڈ پر لانا ہے تاکہ ٹیکس چوری، کالا دھن اور بدعنوانی جیسے ناسوروں کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکےت۔
ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کیش لیس پروگرام کا نفاذ اب ایک انتخاب نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب ہم کیش لیس اکانومی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں جہاں ریاست کا اپنے مالیاتی نظام پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا اور اہم قدم “ڈیجیٹل ولیج” کے تصور کو عملی جامہ پہنانا ہے، کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ دیہاتوں میں بستا ہے اور جب تک دیہی آبادی کو ڈیجیٹل دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملکی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ “راست” جیسے فوری ادائیگی کے نظام کو گلی محلے کے کریانہ اسٹور تک پہنچائے۔ اقدامات کے طور پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکسوں میں چھوٹ اور نقد لین دین پر اضافی چارجز جیسے محرکات متعارف کروانے ہوں گے تاکہ لوگ خود بخود اس نظام کی طرف راغب ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی فراہمی اور سستے اسمارٹ فونز کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ یہی وہ آلات ہیں جو ایک عام آدمی کو عالمی منڈی سے جوڑتے ہیں۔
عوام کے لیے اس بدلتے ہوئے دور میں سب سے ضروری چیز “آگاہی اور اعتماد” ہے۔ عام آدمی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کے بٹوہ میں رکھے ہوئے کاغذ کے نوٹوں سے زیادہ اس کا پیسہ ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ ہے۔ چوری، ڈکیتی اور رقم کھو جانے کے خدشات ڈیجیٹل نظام میں ختم ہو جاتے ہیں۔ عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو سیکھنے کی طرف مائل ہوں اور اسے محض تفریح کے بجائے معاشی سہولت کے طور پر استعمال کریں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ڈیجیٹل ہنر سیکھ کر اپنے گھر بیٹھے عالمی معیشت کا حصہ بنیں۔ یہ صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تبدیلی کو قبول کرے۔ جب ایک کسان اپنی فصل کی قیمت براہِ راست فون پر وصول کرے گا اور ایک ریڑھی بان کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی لے گا، تو معیشت میں موجود غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگا اور سرمایہ بینکوں کے پاس آئے گا، جس سے ملک میں صنعتی اور زرعی قرضوں کی فراہمی آسان ہو جائے گی۔
پاکستان کی معاشی خوشحالی کا راستہ شہروں کی بڑی شاہراہوں سے زیادہ دیہاتوں کی ان پگڈنڈیوں سے گزرتا ہے جنہیں اب “ڈیجیٹل شاہراہوں” میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیش لیس پروگرام کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کتنا جلدی “انفرادی” اور “اجتماعی” رویوں کو تبدیل کرتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسی دستاویزی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں ہر ٹرانزیکشن ملکی خزانے کی مضبوطی کا باعث بنے۔ اگر ہم آج ہمت کر کے ان اقدامات کو اپنا لیں، لوگوں کی تربیت کریں اور ڈیجیٹل ولیج کے ماڈل کو پورے ملک میں پھیلا دیں، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں میں شمار ہوگا۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے مگر نامکن نہیں، ہمارا ملک ایک ایسے جدید نظام سے لیس ہو جہاں غریب کا حق محفوظ ہو اور معیشت کی جڑیں اتنی مضبوط ہوں کہ کوئی عالمی بحران ہمیں ہلا نہ سکے۔ خوشحالی کا سورج ڈیجیٹل افق سے ہی طلوع ہوگا، بشرطیکہ ہم اس کی پہلی کرن کو “خوش آمدید” کہنے کے لیے تیار ہوں۔
