عنوان: مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت

کالم نگار: شبنم رانا ہڈالی
مشرق کی مٹی سے جنم لینے والی تہذیب و ثقافت میں ”خاندان“ محض ایک اکائی نہیں بلکہ ایک قلعہ رہا ہے، جس کی دیواریں محبت، ایثار اور باہمی تعاون کی اینٹوں سے تعمیر کی جاتی تھیں۔ آج جب ہم ترقی کی چکا چوند اور انفرادیت پسندی کے دور میں جی رہے ہیں، تو مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت ایک بار پھر شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ یہ نظام محض ایک چھت تلے کئی لوگوں کا قیام نہیں بلکہ ایک ایسی درس گاہ ہے جہاں انسانی اقدار کی آبیاری ہوتی ہے اور زندگی کے تلخ و شیریں سرد و گرم کو بانٹنے کا سلیقہ سیکھا جاتا ہے۔
​فکری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مشترکہ خاندانی نظام کی سب سے بڑی خوبی وہ ”تحفظ“ ہے جو فرد کو نفسیاتی اور معاشی طور پر میسر آتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں معاشی ناہمواری اور بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہوں، وہاں خاندان کے افراد کا ایک دوسرے کا دست و بازو بننا کسی نعمت سے کم نہیں۔ جب دکھ بانٹنے والے کندھے اور خوشیاں منانے والے چہرے ایک ہی آنگن میں میسر ہوں، تو انسان کبھی خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔ یہ نظام ہمیں سکھاتا ہے کہ انا کی قربانی دے کر ہی ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہاں ”میں“ کا تصور ”ہم“ میں مدغم ہو جاتا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے سماجی استحکام جنم لیتا ہے۔ ​ادبی اور اخلاقی جمالیات کے حوالے سے بات کی جائے تو اس نظام کا سب سے روشن پہلو بزرگوں کا سایہ ہے۔ گھر کے بڑے بوڑھے نہ صرف تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں بلکہ وہ خاندان کی جڑوں کو جوڑے رکھنے والے وہ تناور درخت ہیں جن کے سائے تلے نئی نسل کی تربیت ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جب والدین اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پاتے، وہاں دادا، دادی، نانا اور نانی کی موجودگی بچوں کی شخصیت میں وہ خلا پیدا نہیں ہونے دیتی جو تنہائی یا ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ کہانیاں جو بزرگ سناتے ہیں، ان میں صرف تفریح نہیں بلکہ صدیوں کی حکمت اور اخلاقی سبق پنہاں ہوتے ہیں۔ ​نفسیاتی استحکام کے حوالے سے یہ نظام ایک ڈھال کی مانند ہے۔ جدید دنیا میں ڈپریشن اور اضطراب کی بڑی وجہ تنہائی ہے۔ مشترکہ خاندان میں فرد کو اپنی بات کہنے، مشورہ لینے اور جذباتی سہارا حاصل کرنے کے لیے کہیں باہر نہیں جانا پڑتا۔ دکھ کی گھڑی میں جب پورا خاندان ڈھال بن کر کھڑا ہوتا ہے، تو بڑی سے بڑی مصیبت بھی حقیر لگنے لگتی ہے۔ اسی طرح خوشی کے لمحات میں جب تمام رشتے یکجا ہوتے ہیں، تو مسرت کی لہریں دو چند ہو جاتی ہیں۔ یہ باہمی تال میل انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار و قربانی کے وسیع تر دائرے میں لے آتا ہے۔
​تاہم، اس نظام کی بقا اور اس کے فوائد کا انحصار چند بنیادی اصولوں پر ہے۔ تسلسل اور روانی تبھی برقرار رہتی ہے جب ہر فرد اپنے حقوق سے زیادہ دوسروں کے فرائض کا احترام کرے۔ نظم و ضبط، رواداری اور درگزر وہ ستون ہیں جن پر اس نظام کی چھت قائم رہتی ہے۔ اگر اس میں شائستگی اور ادب کا عنصر موجود ہو، تو یہ کبھی بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ بھونڈے پن اور تلخیوں سے پاک ماحول ہی اس نظام کی اصل روح ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مشترکہ خاندان میں انفرادی آزادی اور رازداری کا بھی ایک حد تک خیال رکھا جائے تاکہ توازن برقرار رہے۔
​موجودہ عہد کی مادہ پرستی نے ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ علیحدہ رہنا ہی سکون کا باعث ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ الگ تھلگ زندگی شاید آسائشیں تو فراہم کر دے، مگر وہ سکون اور اپنائیت جو ایک بھری پری محفل میں ملتی ہے، وہ کہیں اور میسر نہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام دراصل ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں مختلف رنگوں اور خوشبوؤں کے پھول مل کر ایک دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔ اگر ایک بھی پھول جدا ہو جائے تو گلدستے کی ترتیب بگڑ جاتی ہے۔ ​لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشترکہ خاندانی نظام ہماری سماجی بقا کا ضامن ہے۔ یہ نظام ہمیں صبر، دوسروں کے نظریات کا احترام سکھاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں ”انسان“ بناتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اخلاقی طور پر مضبوط اور جذباتی طور پر مستحکم ہوں، تو ہمیں اس قدیم مگر ازحد قیمتی نظام کی قدر کرنی ہوگی۔ یہ نظام صرف ماضی کی روایت نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت ہے، بشرطیکہ اسے خلوص، محبت اور جدید تقاضوں کے فہم کے ساتھ نبھایا جائے۔ جو خاندان جڑ کر رہتے ہیں وہی زمانے کی تند و تیز لہروں کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow