ڈاکٹر نازیہ ندیم
ہنٹا وائرس کی حالیہ لہر اور بین الاقوامی میڈیا میں اس کی بازگشت درحقیقت عالمگیر صحت کے نظام کے لیے ایک نئی چوکسی کا پیغام بن کر ابھری ہے۔ مئی 2026 کے ان ایام میں، جب دنیا ایک کروز شپ ‘ایم وی ہونڈیئس’ سے شروع ہونے والے آؤٹ بریک کی خبروں سے لرز اٹھی ہے، معتبر بین الاقوامی اخبارات اس معاملے کو محض ایک خبر کے طور پر نہیں بلکہ ایک سائنسی چیلنج کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے مشہور اخبار ‘دی گارڈین’ نے اس بحری جہاز پر ہونے والی ہلاکتوں اور خاص طور پر ہالینڈ اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی طبی حالت پر مفصل رپورٹس شائع کی ہیں، جس نے یورپی ممالک میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اسی طرح سپین کے معتبر جریدے ‘ایل پائیس’ نے اپنی خصوصی کوریج کا مرکز جزیرہ ٹینیریف کو بنایا ہے، جہاں اس متاثرہ جہاز کو قرنطینہ کی غرض سے روکا گیا ہے، اور وہاں کا مقامی میڈیا لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ہالینڈ کے بڑے اخبار ‘ڈی ٹیلی گراف’ میں ایک ڈچ جوڑے کی المناک موت کے بعد ہنٹا وائرس کی علامات، اس کے پھیلاؤ کے ذرائع اور ممکنہ خطرات پر مضامین کا ایک تانتا بندھ گیا ہے، جس کا مقصد عوام کو خوف سے نکال کر آگاہی کی طرف لانا ہے۔ سرحد پار امریکہ میں ‘دی نیویارک ٹائمز’ نے اس وائرس کی پیچیدہ اقسام، بالخصوص ‘اینڈیز وائرس’ کی جینیاتی ساخت اور اس کی انسان سے انسان میں منتقلی کے سائنسی پہلوؤں پر گرانقدر معلوماتی مضامین شائع کیے ہیں، جو اس وائرس کی سنگینی کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ عالمی میڈیا کوریج اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دنیا میں کوئی بھی طبی خطرہ اب کسی ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے اخباری حلقوں میں بھی اس حوالے سے ایک سنجیدہ رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ روزنامہ جنگ اور ایکسپریس جیسے بڑے اردو اخبارات نے اپنے بین الاقوامی صفحات پر کروز شپ کے واقعے اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں کی خبروں کو نمایاں جگہ دی ہے، تاکہ مقامی قارئین عالمی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں سے باخبر رہ سکیں۔ انگریزی صحافت کے علمبردار ‘ڈان’ اور ‘دی نیوز’ نے عالمی ادارہ صحت کے بیانات کو بنیاد بنا کر یہ اطمینان بخش پہلو بھی اجاگر کیا ہے کہ اگرچہ یہ وائرس مہلک ہے، تاہم عام عوام کے لیے اس کا فوری خطرہ فی الحال بہت کم ہے کیونکہ یہ کووڈ کی طرح تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ طبی اور سائنسی جرائد جیسے ‘دی لینسٹ’ اور ‘نیچر’ نے اس نئی لہر پر تحقیقی نوٹ جاری کر کے ماہرینِ صحت کو اس کی بدلتی ہوئی ہئیت سے باخبر رہنے کی تلقین کی ہے۔ مجموعی طور پر اخبارات کا یہ ذمہ دارانہ رویہ سنسنی خیزی کے بجائے احتیاط اور مستند معلومات کی فراہمی پر مرکوز ہے، جو کسی بھی ممکنہ طبی بحران سے نمٹنے کے لیے پہلا اور ناگزیر قدم ہے۔جی ہاں، فی الوقت پاکستان میں اس حوالے سے کوئی ہنگامی صورتحال یا بڑے پیمانے پر کیسز کی موجودگی کی اطلاعات نہیں ہیں، اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ فی الحال ہم اس خطرے سے محفوظ فاصلے پر ہیں۔ تاہم، موجودہ عالمی تناظر اور بدلتے ہوئے موسمی حالات میں چند اہم پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سفر اور تجارت کی وجہ سے آج کی دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ جیسا کہ حالیہ کروز شپ والے واقعے میں دیکھا گیا کہ وائرس ایک براعظم سے دوسرے براعظم منتقل ہو گیا، اسی طرح مسافروں کی نقل و حرکت ہمیشہ ایک معمولی سا امکان باقی رکھتی ہے۔دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہنٹا وائرس کا تعلق براہِ راست چوہوں کی موجودگی سے ہے۔ پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں چوہوں کی کثرت ایک عام سی بات ہے، اور عموماً ایسی بیماریوں کا خطرہ ان علاقوں میں زیادہ ہوتا ہے جہاں اناج کے گودام ہوں یا جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو۔ اگرچہ ہمارے ہاں فی الحال یہ وائرس متحرک نہیں ہے، لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے گوداموں اور گھروں کو چوہوں سے پاک رکھنا ایک بہترین حکمتِ عملی ہے۔
مختصر یہ کہ گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی ایسی وبا نہیں ہے جو کووڈ کی طرح ہوا میں تیزی سے پھیلے، بلکہ یہ صرف مخصوص حالات اور انتہائی قریبی رابطے سے منتقل ہوتی ہے۔ ابھی کے لیے صرف آگاہی رکھنا اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہی کافی ہے۔
Latest Posts
