تحریر: حمید علی
کچھ لوگ صرف فن کار ہوتے ہیں، کچھ صرف مشہور شخصیات، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے کردار، اپنے دردِ دل اور اپنی انسان دوستی سے قوم کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔ حدیقہ کیانی انہی نایاب لوگوں میں شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا دراصل انسانیت، خلوص اور خدمت کے جذبے کو سلام پیش کرنے کے مترادف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر اس اعزاز کی حقیقی حقدار کسی ایک شخصیت کو کہا جائے تو وہ حدیقہ کیانی ہیں۔حدیقہ کیانی نے اپنی آواز سے لاکھوں دلوں کو سکون دیا، محبت دی اور احساس دیا، مگر ان کی اصل عظمت اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے اسٹیج کی چمکتی روشنیوں سے نکل کر دکھی انسانیت کے درمیان جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وقت جب پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے رو رہا تھا، ہزاروں خاندان بے گھر تھے، بچے بھوکے تھے، مائیں اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہی تھیں اور لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے، اس وقت بہت سے لوگ صرف سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے مگر حدیقہ کیانی میدان میں موجود تھیں۔
انھوں نے صرف امدادی تصاویر نہیں بنوائیں، صرف بیانات نہیں دیے، بلکہ وہ خود ان آنسوؤں کے درمیان کھڑی رہیں جہاں لوگ امید ہار چکے تھے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے گھر تعمیر کروائے، یتیم بچوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھا، بھوکوں تک راشن پہنچایا اور بے سہاروں کو سہارا دیا۔ یہ سب انہوں نے کسی سیاسی فائدے، کسی شہرت یا کسی نمائش کے لیے نہیں کیا، بلکہ صرف انسانیت کے لیے کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فن کار عظیم انسان بن جاتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں اکثر لوگ شہرت کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں، حدیقہ کیانی نے اپنی شہرت کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ وہ جب کسی متاثرہ ماں کو گلے لگاتی ہیں تو وہ منظر صرف ایک تصویر نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی اصل روح محسوس ہوتی ہے۔ جب وہ کسی یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کی مٹی خود ان کے کردار پر فخر کر رہی ہو۔ حدیقہ کیانی نے ثابت کیا کہ اصل خوبصورتی چہرے یا آواز میں نہیں بلکہ دل میں ہوتی ہے۔ ان کا دل ہمیشہ دوسروں کے درد کے لیے دھڑکتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ماں، ایک بہن، ایک بیٹی اور انسانیت کی سچی سفیر سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں کئی لوگ ایوارڈز لیتے ہیں، کئی اعزازات حاصل کرتے ہیں، مگر ہر اعزاز ہر شخصیت پر سجتا نہیں۔ کچھ لوگ اعزازات سے بڑے ہو جاتے ہیں، اور حدیقہ کیانی انہی لوگوں میں شامل ہیں۔ ستارۂ امتیاز یقیناً ایک بڑا قومی اعزاز ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیقہ کیانی نے اپنے کردار سے خود کو اس اعزاز سے بھی بلند ثابت کیا ہے۔ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی دولت، شہرت یا مقام نہیں بلکہ اس کے دل کی وسعت ہوتی ہے۔ حدیقہ کیانی کے دل میں انسانیت کے لیے جو محبت ہے، وہی انہیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔ انںوں نے دکھایا کہ اگر نیت خالص ہو تو ایک فنکار بھی ہزاروں ٹوٹی زندگیوں کی امید بن سکتا ہے۔وہ لمحے کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے جب سیلاب متاثرین کی بستیوں میں حدیقہ کیانی خود موجود رہیں۔ گرمی، تھکن، مشکلات اور مسلسل سفر کے باوجود ان کے چہرے پر صرف ایک احساس نمایاں تھا؛انسانیت کی خدمت۔ ان کی آنکھوں میں متاثرہ لوگوں کا درد صاف نظر آتا تھا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی انسان کو عظیم بناتا ہے۔حدیقہ کیانی نے ہمیشہ پاکستان کا خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے فن سے ملک کا نام روشن کیا، مگر اپنے کردار سے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ آج جب معاشرے میں بے حسی بڑھ رہی ہے، لوگ ایک دوسرے کے درد سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں حدیقہ کیانی امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ انہوں نے صرف گیت نہیں گائے بلکہ ٹوٹے دلوں کو حوصلہ دیا، مایوس لوگوں کو امید دی اور انسانیت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی شخصیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا میں اصل کامیابی وہی ہے جو کسی دوسرے انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بن جائے۔حکومتِ پاکستان نے اگر انہیں ستارۂ امتیاز دیا ہے تو درحقیقت قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے کیوں کہ عوام کے دلوں میں حدیقہ کیانی کے لیے جو عزت اور محبت موجود ہے، وہ کسی سرکاری اعزاز سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔حدیقہ کیانی صرف ایک نام نہیں، وہ احساس کا نام ہیں، محبت کا نام ہیں، انسانیت کا نام ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ قوم آج دل سے کہتی ہے کہ ستارۂ امتیاز واقعی ایک ایسی شخصیت کو ملا ہے جو اس کی سب سے زیادہ حق دار تھی۔
Latest Posts
