وراثت میں صرف مال ہی کیوں؟

تحریر: محمد اختر انجم، ڈیرہ غازی خان
انسان کے دماغ میں جب بھی وراثت کا لفظ ابھرتا ہے تو اس کا پہلا تعلق مادی اشیاء سے جڑتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے، بینک بیلنس، سونے کے زیورات اور عالیشان بنگلے وہ پیمانے بن چکے ہیں جن سے کسی شخص کی کامیابی اور اس کی اگلی نسل کے لیے چھوڑی گئی محبت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن کیا واقعی وراثت کا مفہوم صرف زر و زمین تک محدود ہے؟
کیا ایک باپ کی اپنے بچوں کے لیے چھوڑی گئی اخلاقی اقدار کی اہمیت ان چند روپوں سے کم ہے جو وقت کی گردش کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں؟
آج کے مادیت پرست دور میں ہم نے وراثت کے تصور کو اس قدر مسخ کر دیا ہے کہ اب خونی رشتوں میں محبت کی جگہ وکیلوں کی فائلیں اور عدالتوں کے چکر نے لے لی ہے۔ والدین اپنی پوری زندگی اس تگ و دو میں گزار دیتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کے لیے جائیداد کا ایک بڑا ڈھیر چھوڑ جائیں، لیکن اس دوڑ میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کے لیے کردار کی جو پونجی چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ دراصل ان کا اصل سرمایہ ہے۔وراثت کا سب سے اہم پہلو ’’اخلاقیات‘‘ ہے۔ قدیم تہذیبوں میں بزرگ اپنی اولاد کو مال و دولت کے بجائے نام اور بھرم کی وصیت کرتے تھے۔ وہ سکھاتے تھے کہ سچ بولنا، وعدے کی پاسداری کرنا اور ضرورت مند کی مدد کرنا وہ خزانے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنے پیچھے کروڑوں کی جائیداد تو چھوڑ جاتا ہے لیکن اس کی اولاد کے پاس تمیز اور لحاظ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ وہ مال جس کے لیے باپ نے دن رات ایک کیے، وہی مال اولاد کے ہاتھوں میں آ کر دوسروں کی تذلیل کا سبب بنتا ہے۔ کیا یہ ایک کامیاب وراثت ہے؟ ہرگز نہیں۔
دوسرا اہم پہلو ’’روایات اور تہذیب‘‘ ہے۔ ہم جس مٹی سے جڑے ہیں وہاں کی کچھ خاص اقدار ہیں۔ بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت، مہمان نوازی اور صلہ رحمی وہ وراثت ہے جو نسل در نسل منتقل ہونی چاہیے۔ جب ہم صرف بینک بیلنس پر توجہ دیتے ہیں تو ہم غیر محسوس طریقے سے اپنی اگلی نسل کو اپنی جڑوں سے کاٹ دیتے ہیں۔ ایک بچہ جس نے اپنے گھر میں بزرگوں کی خدمت ہوتے نہیں دیکھی وہ کل کو وراثت میں ملنے والے گھر سے اپنے ہی بوڑھے والدین کو نکالتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا کیونکہ اسے وراثت میں گھر ملا ہے، گھر کی حرمت نہیں۔
وراثت کا ایک نہایت لطیف مگر طاقت ور پہلو ’’جذباتی وراثت‘‘ ہے۔ دولت سے ہم بچوں کے لیے آسائشیں تو خرید سکتے ہیں، لیکن انہیں وہ نفسیاتی استحکام اور خود اعتمادی نہیں دے سکتے جو صرف والدین کی توجہ اور حوصلہ افزائی سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچے کو ناکامی کے وقت سہارا دیتا ہے اور اسے خود پر یقین کرنا سکھاتا ہے، وہ اسے دنیا کی کسی بھی انشورنس پالیسی سے بڑی ڈھال دے کر جاتا ہے۔ یہ جذباتی پختگی وہ اثاثہ ہے جو کٹھن حالات میں انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔
اگلا نکتہ ’’فکری وراثت‘‘ کا ہے۔ دنیا کے عظیم لوگوں نے مال نہیں بلکہ نظریات چھوڑے۔ سقراط، افلاطون، علامہ اقبال اور قائد اعظم کی وراثت ان کے بینک اکاؤنٹس نہیں بلکہ ان کی فکر اور ان کا نظریہ ہے۔ ایک عالم یا مصنف کی چھوڑی ہوئی کتابیں اس کے نظریات کی زندہ وراثت ہوتی ہیں۔ ایک عام انسان بھی اپنے بچوں کے لیے علم کی پیاس اور سوچنے کا سلیقہ چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ اگر ایک باپ اپنے بچے کو محنت کی عظمت اور حلال و حرام کی تمیز دے جائے تو یہ اس زمین سے کہیں زیادہ قیمتی ہے جس پر کل کو قبضے کے جھگڑے ہونے ہیں۔موجودہ معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم نے وراثت کو وصیت تک محدود کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا جائے کہ کس کو کیا ملے گا تو حق ادا ہو گیا۔ حالانکہ وراثت تو وہ تربیت ہے جو ایک ماں اپنی گود میں اور ایک باپ اپنی انگلی پکڑ کر چلتے ہوئے بچے کو منتقل کرتا ہے۔ وراثت وہ دعا ہے جو بزرگوں کے ہاتھ اٹھنے پر ان کی آنکھوں کی نمی سے نکلتی ہے۔ کیا دنیا کا کوئی مال اس سکون کا نعم البدل ہو سکتا ہے جو ایک نیک اولاد اپنے بزرگوں کی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہوئے محسوس کرتی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ مال و دولت وہ وراثت ہے جو تقسیم ہونے پر گھٹتی ہے لیکن اخلاق، علم، کردار اور جرات وہ وراثت ہے جو تقسیم کرنے سے بڑھتی ہے۔ اگر آپ اپنی اولاد کو صرف پیسہ دے کر جا رہے ہیں تو آپ انہیں دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں، لیکن اگر آپ انہیں اصول اور خود اعتمادی دے کر جا رہے ہیں تو آپ انہیں فاتح بنا کر جا رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم وراثت کی لغت تبدیل کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہوگا کہ تمہارا اصل اثاثہ تمہارا خاندانی وقار، تمہاری دیانت داری اور تمہارے بزرگوں کا وہ بھرم ہے جسے ہم نے خون پسینے سے سینچا ہے۔ یاد رکھیں! جائیدادیں اجڑ سکتی ہیں، بینک بیلنس ختم ہو سکتے ہیں لیکن وہ وراثت جو روح میں پیوست ہو جائے اسے کوئی وقت یا حادثہ چھین نہیں سکتا۔
آج ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا، ’’جب ہم اس دنیا سے جائیں گے تو پیچھے رہنے والے ہمیں صرف زمینوں کے کاغذات سے یاد کریں گے یا ہمارے نقش قدم اور ہماری اعلیٰ روایات سے؟‘‘ انتخاب ہمارا اپنا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow