ازقلم (بنت جمیل )
ارسطو کا مقولہ ہے کہ “انسان ایک معاشرتی جانور ہے۔” جو اکیلا نہیں رہ سکتا۔ درحقیقت انسان تمام مخلوقات میں افضل ہے جسے اللّٰہ رب العزت نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اللّٰہ رب العزت نے دین اسلام کے ذریعے انسانی معاشرے کے کچھ اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں، جو ان کی روحانی، جسمانی و ذہنی زندگی کو آسودہ اور خوشحال بناتے ہیں۔جب بھی انسان فطرت و قدرت کے بنائے ہوئے ان اصولوں کے خلاف جاتا ہے تو گویا وہ اپنی حدود کو پھلانگتا ہے۔ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ مرد و زن ایک دوسرے کے حقوق کو تلف اور غصب کر کے ایک دوسرے کا استحصال کرتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان، جہاں اسلام کا نفاذ براۓ نام ہے۔ وہاں نوجوان نسل دین اسلام کا علم اور اپنی حقیقت جاننے کے لیے بالکل بھی کوشاں نہیں۔ اس میں ان کا بھی قصور نہیں ہم نے اس نوجوان نسل کو اسلامی معاشرے کے نام پر ایک بے ہنگ معاشرہ دیا ہے۔ جس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ “کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔” آخر کیسے انہیں پتہ چلے کہ اسلامی معاشرہ کیسے اور کیوں کر ممکن پذیر ہو سکتا ہے۔ آج کے ناگفتہ حالات میں صرف اسلامی معاشرہ کا قیام اور دین اسلام کے اصول و قواعد ہی ہماری نوجوان نسل کو اس فرسودہ اور گھسے پٹے نظام سے آزاد کرا سکتے ہیں۔ جو نظام ہر طریقے سے پاکستانیوں کو بلخصوص نوجوانوں کو اقتصادی، معاشرتی، ذہنی غلامی میں جکڑے ہوئے ہے۔ اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے شخصی تربیت پر زور دینا ہو گا۔ ملک کو مخلوط تعلیمی نظام کے طوق سے آزادی دلوانی ہو گی، جو معاشرتی بے راہ روی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ لڑکیوں کو سیرت صحابیات اور لڑکوں کو سیرت صحابہ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ دینی و اصلاحی تربیت بلکل اس طرز پر کرنی ہو گی جس طرز تبلیغی جماعت بنا کسی فرقہ پرستی کے پوری دنیا میں کام کر رہی ہے۔ تا کہ اس جانور ہوتے معاشرے سے چھٹکارا پا سکیں۔ آج اس موجودہ دور میں پیدا ہونے والے عام معاشرتی و اخلاقی برائیوں کے نتیجے میں جو بیماریاں تیزی سے وجود پذیر ہو رہی ہیں ان میں ڈپریشن، اخلاقی بیماریاں، جنسی بے راہ رویاں اور غصے کا بڑھ جانا عام ہے۔ انسانی نفسیات پر اس کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بیماریاں انسانی دماغ کو اس حد تک متاثر کرتے ہیں کہ وہ صرف اپنی ہی نہیں دوسروں کی جان کا بھی دشمن ہو جاتا ہے۔ ایسی کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں کہ انسان کے مزاج و تاثرات پر اداسی، بے سکونی اور اکیلا پن جیسے عوامل حملہ آور ہوتے ہیں اور انسانی جسم کی حرکات و سکنات اس کے اختیار سے باہر ہو جاتی ہیں۔ انسانی رشتوں میں توازن برقرار رکھنا، ایک دوسرے کی تکالیف میں ساتھ کھڑے ہونا، کسی کی شخصیت کو عیب جو بنا کر اس کی مختلف مقامات پر تذلیل کرنے کی ممانعت کا ہونا، پرانی تکلیف دہ باتوں کو دہرانے سے گریز کرنا، بری صحبت ،اور تنقیدی صحبت (جس کا مقصد صرف تذلیل ہو) ترک کر دینا، علماء و صلحاء کی صحبت میں رہنا، موبائل اور سوشل میڈیا کا ستعمال کم سے کم کرنا ہی ایک انسان کو معاشرتی تبدیلیوں و تلخیوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور سود سے پاک معاشرہ معاشی و اقتصادی غلامی سے جانبر کرا سکتا ہے۔ یقین مانیے، اللّٰہ سے قربت اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت اور قرآن جو واحد ذریعہ نجات ہے سے عقیدت و الفت ہی ہمیں ان سب ذہنی و جسمانی تکالیف سے نجات دلا سکتی ہے۔ تو آئیے اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیجیے اور استقامت کی دعا فرمائیے ۔اللہ ہم سب کو دین پر اخلاص کے ساتھ چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔
Latest Posts

ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست تحریر