تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
ایک مثبت معاشرے کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا کبھی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا جب تک ہر فرد اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے اپنی سطح پر معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا نہ کرے۔ ہم میں سے ہر فرد معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنانے کی خواہش اپنے سینے میں لیے ہوئے ہے لیکن سب کی یہ خواہش محض خواہش ہے کیونکہ ہم عملی طور پر اپنی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کردار ادا نہیں کرتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم صرف خواہش کریں اور کوئی دوسرا آ کر ہماری تمناؤں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے، جب کہ ہم اپنا زیادہ زور دوسروں پر تنقید کرنے میں گزار دیتے ہیں۔
کوئی بھی فرد معاشرے کی تعمیر میں اس وقت تک کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے حصے کی ذمہ داری اپنے اوپر مسلط نہ کرے ۔ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ہم میں سے ہرکوئی اپنی ذمے داری ادا کرنے کے بجائے دوسروں کو بدلنے کی فکر میں ہے حالانکہ کسی بھی معاشرے کی تعمیروترقی کا راز معاشرے کے افراد کے احساس ذمے داری میں پنہاں ہوتا ہے،اگر معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمے داری ادا کرے تو معاشرہ دنیا میں ہی جنت کا روپ دھار لیتا ہے، چار سو اطمینان ہی اطمینان کی فضا ہوتی ہے اور بے سکونی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ امن، سکون، عدل و انصاف، تعلیم وصحت اورروزگار سمیت چھوٹی سے لے کر بڑی تک بے بہا قابل مدح صفات معاشرے کو میسر آ جاتی ہیں، یہی صفات معاشروں کے عزت اور وقار میں اضافے کا سبب بنتی ہیں اور معاشرے کو بام عروج پر پہنچا کر چھوڑتی ہیں اور اگرکوئی معاشرے ان صفات سے محروم ہوجائے تو گویا وہ تعمیر و ترقی سے کوسوں دور ہے۔
کسی بھی معاشرے کا ہر فرد،گروہ، طبقہ یا جماعت یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں اچھی صفات کا نفاذ ہو،لیکن اس کے باوجود ہمارا معاشرہ ان تمام عناصر سے خالی نظر آتا ہے۔ یہاں نہ تو کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی جان کی امان ہے۔ عدم برداشت کا یہ حال ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر بات خون خرابے تک پہنچ جاتی ہے۔ عدل وانصاف کا نفاذ دور دور تک نظر نہیں آتا۔ غریب طبقہ عدل و انصاف سے یکسر محروم ہے۔ بدعنوانی کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ قومی خزانے پر مامور لوگ ہی خزانے کو لوٹنے میں مشغول ہیں۔
عوام کو ٹیکس ادائی کا درس دینے والا حکمران طبقہ ہی خود ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔اقربا پروری مذہب سے لے کر سیاست تک تمام شعبوں میں سرایت کرچکی ہے۔ قوم کے مسیحا ڈاکٹر خدمت خلق کے بجائے عوام کی کھال اتارکر دولت کمانے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ قوم کے معماروں کو تیار کرنے والے اساتذہ کرام اپنی ذمے داریوں سے پہلے تہی برتنے میں مگن ہیں۔نوجوانوں کے علم حاصل کرنے کا مقصد محض بھاری آمدنی کا حصول ہے۔ کئی علماء مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مشغول ہیں اوراپنا مقصد نکالنے کے لیے قرآن و حدیث کو اپنے ہی من کی تشریح میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ بھکاری سے لے کر مملکت کے اعلیٰ مناصب تک اکثریت اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کو جائز حق سمجھتی ہے۔اس لیے ہم کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مثبت معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جس سے ایک صحت مند اور پھلتا پھلتا معاشرہ تعمیر کیا جا سکے۔
Latest Posts
