عنوان: گھر اللّٰہ چلاتا ہے

ازقلم: افشاں بنت مشتاق
طارق پورے گھر کا خرچہ چلا رہا تھا۔ وہ صبح و شام الگ الگ جگہ نوکری کے لیے جاتا تھا۔اس نے اپنی تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور اپنے چھوٹے بہن، بھائیوں کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری اٹھا لی۔ اسے محلے کی ایک لڑکی پسند تھی۔ ایک دن اس نے اپنی ماں سے کہا: ”آپ میرے لیے مریم کا ہاتھ مانگ لیں۔“
ماں بیٹے کی اس فرمائش پر دم بخود رہ گئی۔ انہیں اپنے بیٹے سے یہ توقع نہ تھی۔
”اچھا! چلو دیکھتے ہیں، اللہ مالک ہے میں کل چلی جاؤں گی۔“ طارق کی ماں نے پریشانی کے عالم میں جواب دیا۔ دراصل وہ ابھی طارق کی شادی کرنا نہیں چاہتی تھیں کیوں کہ انہیں لگتا تھا کہ اس سے گھر کے اخراجات پر اثر پڑے گا؛ لیکن وہ بیٹے کی ناراضی بھی مول نہیں لے سکتی تھیں چنانچہ وہ دوسرے دن مریم کے گھر رشتہ لے کر پہنچیں۔ مریم کی والدہ نے بڑی اچھی طرح ان کا استقبال کیا۔ طارق کی ماں نفیسہ بیگم نے اپنے آنے کا عندیہ پیش کیا۔ ”دیکھیں بہن! برا مت منائیے گا طارق کی آمدنی بہت کم ہے آپ کے اپنے گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں ہماری بیٹی کے بھی ارمان ہیں وہ کیسے پورے ہوں گے؟“ مریم کی ماں کوثر نے بڑی سمجھ داری کے ساتھ موجودہ حالات کے پیشِ نظر رشتے سے انکار کردیا۔ ”آپ صحیح کہہ رہی ہیں کوثر بہن! سب اپنی بکری کو ہرے میں ہی چھوڑتے ہیں؛ برا ماننے کی کوئی بات نہیں۔“ نفیسہ بیگم جو اپنا دل پکڑے رشتہ دے رہی تھیں اب اندر سے پوری طرح کھلکھلا کر ہنسں کر بولیں۔ اس طرح معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ گھر آ کر انہوں نے اپنے بیٹے کے سامنے مریم کی والدہ کا نظریہ پیش کیا جس کے بعد طارق ٹوٹ سا گیا، وہ چپ رہنے لگا، اسے دنیا میں کوئی رنگینی نظر نہیں آتی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ چِڑچِڑا ہونے لگا، بات بات پر جھنجھلانے لگا تھا۔ ایک دن صبح کے نو بج گئے اس کے کمرے کا دروازہ نہیں کھلا، وہ تو فجر کے وقت اٹھ جاتا تھا۔ اس کے چھوٹے بھائی نے بہت دروازہ بجایا مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی آخر زور سے دھکا مار کر دروازہ کھولا تو کمرے میں اس کی نعش پڑی ہوئی تھی۔ فوری طور پر اسے اسپتال لے کر بھاگے ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کے بعد بتایا کہ اس کی دماغ کی رگ پھٹ چکی ہے اور موت کو بھی چار گھنٹے ہو چکے ہیں۔ یہ قدرت کا کھیل ہے جو مائیں سمجھتی ہیں کہ بیٹا گھر کا خرچہ چلا رہا ہے ان کو اللّٰہ دکھاتا ہے کہ ”میں کل بھی تھا اور آج بھی ہوں، میں ہی رازق، میں ہی پالنے والا ہوں۔“ اب طارق کے انتقال کے بعد اس کی دونوں بہنوں نے گھر پر ٹیوشن سینٹر کھول لیا اور بھائی مکینک کی دکان پر نوکری کرنے لگا اگر یہ کام پہلے ہی ہو جاتا تو شاید طارق جان کی بازی نہ ہارتا۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow